Monday, June 18, 2018

خاندان اور بچھڑنا-انسانیت کی ترقّی

Please visit my English blog at Saugoree



ہندستان سے جب انگریزوں نے اپنا بوریا بستر سنبھالا تو جو تقسیم کی لکیریں نقشے پہ لگائ گئ تھیں ان سے ایک بارڈر پیدا ہوگیا اور خلقت اس کے آر پار ہونے لگی جس میں خون خرابے کے علاوہ کئ خاندان بکھر گئے کہیں ماں بچون سے الگ ہو کر غائب ہوگئ کہیں بچہ والد سے بچھڑا کئ کہانیوں نے جنم لیا بالکل اسی طرح جیسے یہودیوں کو جب جرمنی سے اور یورپ سے نکالا گیا تو ان کہانیوں نے جنم لیا جس کو بعد میں ہالیووڈ نے فلمایا اور لوگوں کے جزبات  کو اس قدر ابھارا کہ امریکہ میں ان ساٹھ لاکھ یہودیوں  کا ایک یادگار عجوبہ بنا دیا گیا
 اب آجکل جو امریکہ کی سر زمیں پہ ہو رہا ہے جیسے خبروں میں تھا کہ دو ہزار بچوں کہ ان کے خاندانوں سے چھین لیا گیا کہ بارڈر کراس کیا تھا بارڈر کراس کرنا انسانیت کا کوئ جرم نہیں امریکہ کی حکومت کا جرم ہے یہ دو ہزار وہ بچے ہیں جن کے والدین کا کسی کو بھی علم نہیں ان بچوں کو ایک بڑے سے پنجرے میں رکھا جا رہا ہے اس بارڈر پر جانے کتنے پنجرے ہوں گے کیا معلوم کس بہن نے اپنا بھائ کھویا اور کسماں نے اپنا جگرگوشہ کھویا اور آج سے بیس پچیس سال بعد یہ بچے 

 اگر زندہ رہے تو اپنے والدین کی تلاش میں نکلیں گے اور ایک ایک بچے کی اپنی اپنی کہانی ہو گی جس کو ہالےووڈ اور بالیووڈ فلمائیں گے آپ میں سے کئ ان فلموں کو دیکیں گے اور ایکٹروں ایکٹریسوں کی تعریفیں کریں گے مگر کئ بچے والدین کو ڈھونڈنے میں ناکام رہیں گے وہ شاید ایسی کہانی ہوگی جو پردہ  یعنی سکرین پر نہ پہنچ سکے -

 کیا انسانیت ترقّی کر چکی ہے؟ کیا ابھی ہلاکو خان اور چنگیز خان کا قانون ختم ہو گیا ہے؟

Friday, March 23, 2018

پکار- پرانی فلم

سہراب مودی کی فلمیں -ڈایلاگ- سے بھرپور ہوتی ہیں
 فلم پکار سن انتالیس کی فلم ہے مین اس وقت چھ یا سات سال کا تھا
 بات اس لیئے نکلی ہے کہ کل میں نے یہ فلم اپنے کمپوٹر پر دیکھی مزا آیا کیونکہ پرانی یاد دلاتی ہے
 ہمارا گھرانا سخت مسلم تھا ہمارے والد مولوی اور فلموں کے خلاف تھے مگر بچّوں کو اجازت تھی کچھ چنی ہوئ فلمیں دیکھنے کی سنیما حال میں سب سے پیچھے ایک پردہ لگایا ہوتا تھا جس میں پردہ دار خواتین بیٹھتی تھین یہ فلم ان دنوں کی یادگار ہے ایک اور فلم بچپن کی سکندر اعطم تھی  جو مجھے یاد ہے
 پکار عدل جہانگیری کی داستان ہے جو سہراب مودی نے کمال صفائ سے پیش کی تھی اس میں ان دنوں کے مشہور کلاکار تھے جیسے چندر موہن جو شہنشاہ جہاںگیر کے رول میں ہیں اور- پریچہرہ نسیم- نور جہاں کے رول میں سہراب خود سنگرام سنگھ -سپہ سالار کے رول میں ہیں اور انھون نے فلم ڈائریکٹ کی ہے
 کاپی بھی خراب نہیں ہے گو اتنی پرانی فلم ہے میں نے اس لیئے بھی دیکھی کہ انگلش سبٹایئٹل بھی تھے
وہ کیا زمانہ تھا آجکل تو سب فلمیں بالیووڈ سے نکلنے والی -ہندی- لکھی جاتی ہیں لیکن یہ فلم اردو لکھی گئ ہے ان دنوں اردو زبان کو لحاظ حاصل تھا جو اب ہندی کو حاصل ہے




Please visit my English blog at Saugoree




Tuesday, October 31, 2017

بابے کی نصیحت


ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ، ﺟﻮ 
ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ- ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ، ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ،
ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ،
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ،
ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ 
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ،
ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ،
ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ،

Please visit my English blog at Saugoree

Sunday, September 17, 2017

تواریخ پیدائش

۱       ۔ اپنی-       ۱۱ اکتوبر  ۱۹۳۳-   ۲۱ یا ۲۲ جمادی الاولی ا- ۱۳۵۲ ہجری

بیگم کی تاریخ لکھنے  کا آرڈر نہیں ہے
----------
جگنو حسن منہاج--
  
                     ۲۸،  اگست ۱۹۷۶---
                   28th August 1976  رمضان المبارک  ۲،1396 ۶
---------------

عائشہ  -۱۹۷۸   ۳۱ مارچ
                  31st March 1978،      ربیع ال خر  1398  ہجری آ ۱۹۷۸
-----------------------------------------------

موسےا وہاج سرور  ۲  اپریل ۲۰۰۶-    ۴، ربیع الاول ۱۴۲۷ ہجری
        April, 2, 2006
----------------

عیسےا   ---۱۳ جون  ۲۰۰۶  -  ۱۷ جمادی الاول  ۱۴۲۷ ہجری
        June, 13, 2006
-----------------
How did I forget EEdu baita Zayd Sarwar born on Eid day 6th of Novenber 2011
آیہ ایمان  -- ۸ دسمبر ۲۰۰۹
۲۱ ذوالحجہ
۱۴۳۰
       December 8, 2009
-------------------

زید --
۱۴۳۳، ۱۰ ذوالحجہ
         November 6, 2011

----------------------

 آدم
۱۴۳۵،  شعبان ۱۶
         June 14, 2014


Please visit my English blog at Saugoree

Tuesday, August 15, 2017

مرید ثواریخ

ادم
12 June 2009

عائشہ صفیہ
23 August 2011


 Syed Zakaria Hussain Andrabi 
 27th April 1997



Please visit my English blog at Saugoree

Saturday, June 17, 2017

رمضان اور قران کی محبت

 ایک حریث میں آیا ہے کہ رمضان شریف شروع ہوتے ہیں تو فرشتے ساری دنیا میں اعلان کرتے ہین لوگو رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاءو
 ایسا لگتا ہے ان کے اعلان کا بہت اثر ہے  ہم دیکھتے ہیں مسجدیں بھر ی ہوئ ہیں تراویح اور قیام الیل کے لئے مسلمان مسجدوں کی طرف دوڑتے ہیں قران سننے کے لئے  چاہے سال بھر نمازیں بھی نہ پڑھی ہوں اور اچھے کاموں کو بھی دوڑتے ہیں اور حتی الوسع برے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں
 ابھی سنا کہ یو کے میں ایک جگہ آگ لگی تو مسجدوں سے مسلمان بچے دوڑے آئے آگ سے لوگون کو بچانے کے لئے یہ سن کر خوشی بھی ہوئ کہ رمضان کا مقصد صحیح سمجھا اور سمجھایا گیا شواب لوٹنے کے دن ہیں اور اللہ تعالےا  کا فیض عام بھی خوب بانٹا جا رہا ہے


قران سے محبت کی ایک تصویر یہ بھی ہے دیکھیئے کس محبت سے یہ مسلمان لڑکی قران مجید کو لکھ رہی ہے داد دیجِئے اس لگن  اور محبت کی


Please visit my English blog at Saugoree

Tuesday, May 9, 2017

ابلیس کا ا'عتراف


تو نے جِس وقت یہ انِسان بنایا یا ربّ اُس گھڑی مُجھ کو تو اِک آنکھ نہ بھایا یا ربّ
اِس لیے میں نے، سَر اپنا نہ جُھکایا یا ربّ
لیکن اب پلٹی ہے کُچھ ایسی ہی کایا یا ربّ
عقل منّدی ہے اِسی میں کہ میں توبہ کر لوں
سُوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سِجدہ کر لوں!

ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اُس کی قلب و جاں پاک تھے، شفَاف تھی طینت اِس کی
پِھر بتدرِیج بدلنے لگی خصْلت اِس کی
اب تو خود مُجھ پہ مسلط ہے شرارت اِس کی
اِس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سجدہ کر لوں!

بھر دیا تُو نے بھلا کون سا فِتنہ اِس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اِس میں
اِک اِک سانس ہے اب صورتِ شُعلہ اِس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں
اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں !
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سجدہ کر لوں!

اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے، بھائی سے، بیٹے سےبھی لڑ جاتا ہے
جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکڑ جاتا ہے
خود مِرے شَر کا توازَن بھی بِگڑ جاتا ہے
اب تو لازِم ہے کہ میں خُود کو سِیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سِجدہ کر لوں!

میری نظروں میں تو بس مِٹی کا مادھو تھا بَشر
میں سمجھتا تھا اُسے خود سے بہت ہی کمتَر
مجھ پہ پہلے نہ کھُلے اِس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کُترتا ہے یہ قائد بن کر
شیطانیت چُھوڑ کے میں بھی یہی دھنَدا کر لُوں
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سجدہ کر لوں!

کُچھ جِھجکتا ہے، نہ ڈرَتا ہے، نہ شرمَاتا ہے
نِت نئی فِتنہ گرِی روز ہی دِکھلاتا ہے
اب یہ ظالم، میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں بُرا سوچتا رہتا ہوں ، یہ کر جاتا ہے
کیا ابھی اِ س کی مُریدی کا اِرادہ کر لوں!
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سِجدہ کر لوں!

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر
میرے شَر سے بھی سَوا ہے یہاں اِنسان کا شَر
اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مُجھ کو بہتر
اِس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سُوپر پاور
میں کِسی اور ہی سیّارہ پر قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سجدہ کر لوں!

ظُلم کے دام بچھائے ہیں نِرالے اِس نے
نِت نئے پیچ مَذاہب میں ڈالے اِس نے
کر دیئے قید اندھیروں میں اُجالے اِس نے
کام جِتنے تھے مِرے، سارے سنبھالے اِس نے
اب تو میں خود کو ہر اِک بُوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب اِنسان کو سجدہ کر لُ


Please visit my English blog at Saugoree

Sunday, March 26, 2017

بابل مورا


  بابل مورا نئہر چھوٹو جائے
 سہگل کا  مشہور گانا ہے بھیرویں راگ کی دھن ہے غالیبا" کلاسیکل موسیقی کا  فلم میں پہلا تجربہ تھا
 مگر آج اس لئے یاد آرہا ہے کہ  اپنے میڈیکل کالج اور ہوسٹل کی پرانی یاد تازہ ہوئ
۳23 مارچ کی پیریڈین جو پاکستان میں ہوئیں  "ڈان" میں ان کی تصویریں او march
وڈیو وغیرہ دیکھیں تو یادیں تازہ ہوئیں
  یہ وہ وقت تھا جب امرتسر میڈیکل کالج سے اور لاہور میڈیکل کالج - کے ای-  آنا جانا رہتا تھا - یاد رہے کہ پارٹیشن سے پہلے کئ پروفیسر دونوں کالجوں میں کلاسیں لیتے تھے آخر صرف پینتیس میل کا ہی تو فاصلہ تھا امرتسر اور لاہور کا-  شاید انڈیا پاکستان کا  کرکٹ میچ ہوگا یا کوئ اور وجہ تو امرتسری لوگ ہمارے بروم ہوسٹل میں آئے ہوئے تھے - یاد رہے کہ امرتسار کے کالج اور بروم ہوسٹل بھی ایک جیسے تھے تو ہندوستانیوں اور پاکستانیوں مین اس طرح  کوئ اجنبیت نہیں محسوس ہوئ-  کامن روم میں محفل تھی پاکستانی اور ھندوستانی طرف سے گانے چل رہے تھے ایک سردار نے یہ گانا بابل مورا سنایا اچھی آواز تھی گانا مشکل تھا مگر سردار جو غالبا" فورتھ ایر میڈیکل میں تھا نے خوب گایا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے سردار صاحب نے محفل جیت لی تھی ہائے کیا دن تھے وہ

Please visit my English blog at Saugoree

Friday, February 24, 2017

بیٹیاں خدا کی رحمت ہیں

 میرے دوست نے "فہیم بھائ" کا بلاگ لکھا اس پر ایک صاحب نے کچھ کامینٹ لکھے میں ان سے ناراض نہیں ہوا صرف انکے خیالات میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں
 بات نکلی  کہ "بن بیاہی جوان بیٹی بوجھ ہوتی ہے
 یہ ایک حقیقت ہے ہمارء معاشرے کی جس سے چشم پوشی نہن کی جا سکتی اور اس سے مفر بھی نہیں کامنٹ لکھنے والے صاحب کہتے ہیں ہم کیوں اور کب تک یہ بوجھ سمجھتے رہیں گے اور ان کا گلہ بجا ہے
  مغربی معاشرے میں یہ بوجھ نہیں کہا جاتا مگر حقیقت یہ ہے کہ اچھے گھرانوں میں ماں باپ کو پریشانی ضرور رہتی ہے جو زمانہ حال میں قابل ذکر نہیں سمجھی جاتی مگر اس کی جھلک آپ کو شارلٹ بروبٹے کے ناول [اور فلمیں بھی بنی ہیں جو مزیدار ہیں]
'پرائڈ اینڈ پریجوڈس' ملتی ہے
 ہم امریکہ میں رہتے ہوئے  اس تجربے سے گزر چکے ہیں اور کئ دوسرے دوستوں کی پریشانی دیکھ چکے ہیں جبتک انکی بیٹی کی شادی نہیں ہوئ اور اسی کو آپ اگر غریب خاندان میں دیکھیں اورت
 مناسب رشتے رشتےداروں میں نہ ہوں اور دھونڈنے پڑیں تو اس لفظ بوجھ کا مطلب سمجھ میں ائے گا  ورنہ تو آپ مزے سے اپنی زندگی گزارتے رہیں کوئ بوجھ نہیں ہوتا اور خصوصا" ہندو معاشرے میں تو اور بھی خرابیاں ہوتی ہیں جو پریشانی بڑھاتی ہیں محض لکھ پڑھ جانے سے معاشرے میں ایسی تبدیلی نہیں آ رہی ہے اور باوجود زمانہ حال کی تمام باتوں کے جس میں سنگل پیئرنٹ اور  اس قسم کی اور باتوں نے بھی مشکل حل نہیں کی
 ان ماں باپ سے پوچھئے جن کو ایسے حالات کا سامنا ہے تب  یہ لفظ  - بوجھ - برا نہیں لگے گا



Please visit my English blog at Saugoree

Monday, December 12, 2016

بارہ ربیع الاول اور پاکستان میں جشن میلا د النبی

آج میرے کلینڈر کے مطابق ۱۳ ربیع الاول ہے لیکن پاکستان مین آج بارہ منائ جا رہی ہے اور نہایت زور شور سے=
 نعتوں کی محفلیں عورتوں کی بھی اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں یعنی جلوس  مولویوں کی تقریریں اور وزیر اعظم کی تقریر جس میں وہ اپنی سیاسی دکان چمکاتے ہیں وغیرہ وغیرہ میڈیا اپنی اپنی کمپنیوں کے فروغ میں الگ پاکستان کے شہر شہر مین نمائندوں کی رپورٹین سنا رہے ہیں
یہ سب کچھ میں عرصہ سے دیکھتا آرہا ہوں
لیکن آج جو مزید نظر آیا ہے اس نے مجھے لکھنے پہ مجبور کیا ہے  میلاد النبی کے جشنوں کا افتتاح اکیس اور اکتیس توپوں کی سلامی سے ہو رہا ہے اور فوجی جواں نہایت جوش و خروش سے نعرے لگاتے دکھائے گئے نعرہ تکبیر اللہ و اکبر اور نعرہ رسالت یا رسول اللہ  چلیئے یہ بھی مان لیا کہ اس میلاد میں شامل کر لیا گیا مگر مزید یہ کہ دودھ کی سبیلیں لگائ گئ ہیں اور حلوے کی میگا دیگیں دیکھی اور ہزاروں لوگوں نے حلوا کھایا اور دودھ پیا یعنی مفت اس پہ مزید یہ کہ بہت سے کیک بھی شامل ہو گئے ہیں بڑے بڑے مولویوں سے بڑے بڑے کیک کٹوائے جا رہے ہیں اور باقی کے لوگوں میں کیک بانٹے جا  رہے ہیں یہ اب پکّی بات ہوگئ کہ آنحضور\صل اللہ وعلیہ وسلم کی سالگرہ  یوم پیدائش یعنی آپ کا یوم ولادت باسعارت اب مغرب زدگی کے زیر اثر برتھڈے بن گیا ہے
اللہ اللہ خیر سلّا
ادھر پاکستان کی اہل سنت وا؛جماعت کے سر براہ فرماتے ہیں کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت کو زور شور سے منانا ایمان کی دلیل ہے آج سے پچاس برس پہلے یہ جوش  وخروش ہم نے تو نہیں دیکھا تھا تو کیا ہمارا یعنی پاکستانیوں کا ایمان واقعی اتنی ترقی کر گیا ہے

Please visit my English blog at

Saturday, October 29, 2016

نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند

فارسی مطلب جس کا یوں ہے-
 ٹائٹل دیکھئے-

 ہر شخص جس کا سرمنڈا ہوا ہے وہ ضروری نہیں قلندر ہو یا قلندری جانتا ہو
میری سفید ریشی صورت اور پنبہ سری ملا کر دیکیں تو لگتا ہے میں ایک -بابا - ہوں
 مگر اس قسم کا نہیں جس کا ذکر لوگ عزّت سے کرتے ہیں اور ان کے اقوال کو موتیوں کی طرح سمجھتے ہیں
 یعنی میں بابا نظر آتا ہوں مگر بابا نہیں ہوں



Please visit my English blog at Saugoree

Wednesday, September 21, 2016

زبان قران مجید ایک غیر مسلم کی نظر میں

ایک انگریز بنام جان پین ریس جس نے قران مجید کی گلاسری پر کتاب لکھی ہے اس کی عبارت کے بارے میں یوں قلمطراز ہے[1873
"
اس کی توقّع تو نہیں کی جا سکتی کہ[قران مجید کی عبارت کی] تمامتر ماورائے ادراک عمدگی اور حیرت انگیز حسن و جمال جن کا انکشاف قران کریم کے مفسّرین اور دیگر شارحین پر ہوتا ہے وہ بلا تاخیر ہماری سرد اور بےدرد تنقیدی نظر کے سامنے عیاں ہو جائیں حسن و جمال کی مثالیں تعداد میں وافر اور عظیم ہیں، نہایت عمدہ مقاصد'- موزوں اور مسجّع عبارت میں لپٹی ہوئ =جو گاہے گاہے  جلال و جمال کی ایسی بلندی پہ پہنچ جاتی ہیں کہ کسی بھی ترجمہ کی رسائ سے بعید ہو جاتی ہیں
مگر بدقسمتی سے معاملہ یوں ہے کہ اکثر ایسی جمالیات جو ایک باکمال عالم کے لئے سامان مدح و ثنآ کے مواقع پیش کرتی ہیں وہ ایک نو آموز کے لئے باعث الجھن اور ناقابل فہم بن جاتی ہیں وہ معجزانہ جامعیت جو ان کلمات کو بے انتہا شدّت اور تقویت بخشتی ہے اسے حیرت اور الجھن میں ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی جبکہ الفاظ کی خوبصورت خمیدگی اکژوبیشتر اس کے ذہن میں ابہام کا تاثّر چھوڑ جاتی ہےا ور اس قسم کی عبارت کسی نبی کی خطیبانہ امتیازی خصوصیت کے عین مطابق ہے
"
میں نے کوشش تو کی ہے مگر مجھے اس اعتراف میں کوئ تامّل نہیں کہ انگریزی زبان میں جو اس کا مزا ہے وہ میں اس اردو میں پیدا نہیں کر سکا
 انگریزی بلاگ میں ملاحظہ کیجئے

Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, September 8, 2016

حقوق زوجین کا بیان

جب ہم کالج مین تھے تو ایک نیا ادبی رسالہ نکالا گیا جو حد درجہ مقبول ہوا وہ اعلےا ترین سطح کے مقالات اور نظوم و افسانوں سے بھرپور رہا جس میں ملک   کے چوٹی کے قلمکاروں کے نام پائے جاتے تھے نام تھا  نقوش    
 اس کے کئ سالنامے اقبال نمبر قران نمبر رسول نمبر اردو ادب کے ایک ذخیرے کی مانند ہیں اور انکی کئ کئ جلدین ہیں یہاں ایک جلد ششم رسول نمبر کے حوالے سے ایک نکتہ  آپکے گوش گزار کرنا چاہتاہون کہ مجھے کھٹک رہا ہے گو اس میں بہت سی اچھی اچھی باتیں بھی ہیں یہ دسمبر ۸۳ کا شمارہ ہے ایک اچھی بات پہلے
بتالوں یہ کہ احادیث کی کتابت اور تدوین وغیرہ کے بڑے معلومات افزا مقالوں میں ایک بات پسند آئ کہ یہ ایک بیش قیمت تاریخی کتابت ہے محض اسلامی یا مذہبی تعلیم نہیں اور اس کے مضبوط دلائل پیش کئے گئے ہیں
              جب زوجین کے متعلق احادیث لکھی جاتی ہیں تو اس میں رسول اللہ صل اللہ و علیہ وسلم کے جو اقوال درج کئے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر مردوں کےحقوق 
 ہوتے ہیں اور ایک دو عورتوں کے بھی جو ہوں ان میں بھی وہی مردوں کی بات لکھی ہوتی ہے آںحضرت صل اللہ علیہ وسلم نے ممکن ہے عورتوں کے مزید بیان کئے ہوں لیکن وہ لکھنے والوں نے قابل تحریر نہیں سمجھے اب صرف ان کی سرخیاں لکھتا ہوں

بڑی سرخی ہے - - زوجین ایک دوسرے کے لئے - -ے]
                                                  عورت کے لئےشوہر کا مقام
                                   رضائے شوہر کا صلہ جنت ہے
                                  بہترین بیوی کے خصائل
                          اختلاف زوجین میں حضور -ص= کا عجیب فیصلہ
                                ایک جفاکش اور خدمت گزار عورت --اسماء بنت ابو بکر  
                                                  عورت کے چند فرائض اور ان کا صلہ
                     عام عورتون کی  مزاجی کیفیت اور حسن سلوک کی تاکید
 عورتوں کے حقوق مردوں پر  اس میں یہ ہے جو کھائو وہی کھلائو پہنائو وغیرہ
    مردوں کی سب سے بڑی آزماَش عورتیں ہیں
           
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت سے ملنا
  اب آپ خود اندازہ  لگا لیں میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں




Please visit my English blog at Saugoree

Monday, August 8, 2016

تو من شدم

تو من شدی من تو شدم تو تن شدی من جاں شدم
تا کس نگوید بعد ازیں تو دیگری من دیگرم

مجھے اس کے اشعار دوسری طرح کے یاد ہین/تھے

من تو شدم تو من شدی من جاں شدم تو تن شدی
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

اب کوئ صحیح جاننے والا ہی اس کو بتا سکتا ہے کونسا درست ہے

Please visit my English blog at Saugoree

Monday, July 25, 2016

جولائ کی گرمی

        اس برس امریکہ میں بھی جولائ کی گرمی معمول سے زیادہ رہی اور روزے اور سالوں کی نسبت مشکل رہے مگر ہمیں پاکستان کی گرمیوں کے روزے یاد ہیں تو ایسا خراب نہیں محسوس ہوتا بلکہ اور اللہ تعالےا کا شکر ادا کرتے ہیں 
            عید کے بعد پھر وہی پرا نا روٹین کھانے پینے کا شروع ہو گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ روزہ رکھے ہوئے عرصہ ہو گیا ارادہ یہ کیا تھا کہ اس مرتبہ روزوں کی برکت سے اپنی روحانیت کو فروغ دیں گے اور اس طرح اپنی روح کو طمانیت حاصل ہوگی مگریہ سب کچھ نہ ہو سکا اب نہ معلوم آللہ جلّ شانہ ہمیں اگلے سال کے رمضان شریف تک مہلت دے یا نہ دے سوچا ہے کہ یہ مہینے جو اب چل رہے ہیں ان میں ہی مزید کوشش کی جائے بغیر روزوں کے
 اللہ ہمّت دے 

Please visit my English blog at Saugoree

Friday, July 1, 2016

جمعۃ الوداع اور پاکستان


 آج سے ۶۹ برس پہلے بھی ایسا دن تھا
وہ پندرہ اگست  ۱۹۴۷تھا اور جمعہ الوداع تھا رمضان شریف کی ستایسویں رات بھی تھی نوزائیدہ ملک پاکستان کا پہلا روز اور ایسا مبارک دن مجھے کبھی نہیں بھولےگا محض ہائ سکول کا طالب علم تھا مگر سوچ رہا تھا کہ آللہ تعالےا نے ہمیں یہ ملک ایسے روز عطا فرمایا ہے بڑی حکمتیں ہون گی اور ابھی وہ نعرے--پاکستان کا مطلب کیا   لا الہ الا اللہ -  اور  - جاتی ہے تو جائے جان  لے کے رہیں گے پاکستان--  لگاتے ہوئے جوش  و خروش میرا گلا یاد کر رہا تھا سارے نئے ملک میں پاکستان کی سلامتی کی دعائیں مانگی گئ تھین
 یہ سب کچھ اب بھی سوچتا ہوں مگر یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ نہ وہ نعرہ کسی کو یاد ہے پاکستان میں اور نہ ہی وہ جوش و خروش رہ گیا ہے  میں اس وقت اپنے مسلمان ہونے پہ فخر کرتا تھا اور سینہ تان کے کہتا تھا کہ میں پاکستانی ہوں
 آج بھی میں کہتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں مگر سینہ نہیں تانا جاتا بلکہ سر جھکا کے کہتا ہوں
ہائے میرا پاکستان تیرے خود غرض لیڈروں نے تیرے ساتھ کیا سلوک کر ڈالا ہے

Please visit my English blog at Saugoree

Friday, June 17, 2016

درود شریف اور جمعہ


آج جمعہ ہے اور رمضان شریف بھی لیکن ہمیں تاکید کی گئ ہے کہ جمعہ کے روز درود پڑھنا چاہئے ویسے تو جب بھی پڑھین اچھا ہے آج تو اور بھی اچھا ہے
 اقبال علیہ رحمہ سے کسی نے سوال کیا  درود پڑھنے کی علماء نے ایسی تاکید جو کی ہے اس میں کیا حکمت ہے
 آپ نے فرمایا درود شریف کا الفاظ قرآن کے نہیں ہیں مگر جن بزرگوں نے لکھے ہیں ان کے ہم مشکور ہیں
 سوال کرنے والے صاحب کی اس جواب سے تسلّی نہیں ہوئ
 مگر سوچنے کی بات ہے کہ آپ صلّ اللہ علیہ وسلّم نہ ہوتے تو ہمیں کون اللہ کی پہچان کراتا
ہمیں کون سمجھاتا  دین کیا ہے ہمیں نماز جیسی عبودیت کون سکھاتا
 ہمیں لوگوں سے ملنے ملانے کی عادات کوں سکھاتا
 ہمیں  اپنے خاندان اور گھر کے رہنے کے طور طریقے کون سکھاتا ہمیں
 عید بقرعید کی خوشیان منانے کے طریقے کون سکھاتا
 ہمیں اتنا کچھ سکھایا ہے جو کوئ اور انسان یا ماسٹر اتالیق والدین وغیرہ نہیں سکھا سکتے تھے
 خالی ہم یہی دیکھ لیں کہ آپ نے جو ہمیں سکھایا ہے  تو ہم اس کا شکریہ آپ سے کیسے ادا کر سکتے ہیں میرے خیال میں درود شریف ایک ذریعہ ہے ممکن ہے اور بھی مصلحتیں ہوں اور حکمتیں ہوں مگر کیا اتنا ہی کافی نہیں؟ اور یہ سکھانے والی 'لسٹ' کا شروع لکھا ہے اسے مکمل کیجئے اگر کر سکتے ہیں تو

اے کہ صد طور است پیدا از نشانِ پائے تو --  خاک یثرب را تجلّی گاہ عرفاں کردہ ای

Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, June 16, 2016

اقبالیات و دیگر اشعار

علّامہ صاحب مرحوم کی شام کی مجلسوں میں کئ بڑے آدمی اور لٹریری ہئوا کرتے تھے ان میں ایک مولانا عبد المجید سالک بھی تھے اور علامہ کے چاہنے والوں میں تھے کسی نے غلطی سے لکھا تھا کہ ڈاکٹر عبد السلام خورشید ان کے صاحبزادے تھے حالاکہ ان کے والد کا نام محمد حسین تھا گو یہ بات الگ ہے کہ مولانا سالک اور ڈاکٹر سلام دونوں احمدی تھے مگر علامہ صاحب کے ساتھ لگائو میں شیعہ سنّی یا احمدی وغیرہ کا کوئ سوال نہیں ہوتا تھا اگرچہ علامہ نے ایک پیمفلٹ اسلام اور احمدیت کے متعلق بھی لکھا تھا اور مرزا بشیرالدین نے اس متعلق اپنے خطبات میں بھی کچھ کہا تھا

خیر جو کچھ بھی ہو وہ کیا دن تھے علامہ زیادہ تر پنجابی میں گفتگو کرتے تھے اور اردو صرف غیر پنجابی دانوں کی لئے بولتے اور یہی طریقہ انگریزی کے ساتھ بھی چلاتے

 Please visit my English blog at Saugoree
  چند اور اسعار

مصطفےا اندر حرا خلوت گزید  -  مدّتے جز خویشتن کس را ندید
نقش مارا در دل او ریختند   -  ملّتے از خلوتش انگیختند
می توانی منکر یزداں شدن  -  منکر از شان نبی نتواں شدن


عشق کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا - تو نے فرہاد نہ کھودا کبھی ویرانہء دل 

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے - کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
 تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو -  کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں


                                
                        ثروت کی پسند

یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز- نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
  وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود   -  ہوتی ہے بنداء مومن کی اذاں سے پیدا


 یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
 ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

وہ سجدہ روح زمیں جس سے کاںپ جاتی تھی - اسی کو آج ترستے ہیں منبرو محراب
 سنی نہ مصرو فلسطین میں وہ اذاں میں نے -  دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہءمسیماب

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے - شمشیرا سناں اوّل طاءوس رباب آخر
 گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طاءرک بلند بال دانہ و دام سے گزر

 تیرا جوہر ہے نوری پاک ہے تو -     دیدہء افلاک ہے تو Farogh e deedah e aflak hay too
  تیرے صید زبوں افرشتہ و حور -  کہ شاہین شہ لولاک ہے تو

   
  علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا - تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

فرنگ سے بہت آگےہے منزل مومن
 قدم اٹھا یہ مقام انتہائے راہ نہیں
 اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی - ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
 شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا  - پر دم ہے اگر تو  تو نہیں خطرہء افتاد


تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
 گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشّاف

 مزید خودی

تا کجا طواف چراغ محفلے- زآتش خود سوز اگر داری دلے

   زخاک خویش طلب آتشے کہ پیدا نیست
 تجلّیء دیگرے در خور تقاضا نیست

 از سوال آشفتہ اجزائے خودی
 بے تجلّی نخل سینائے خودی

 مختلف اشعار  پہلا غالب کا ہے

 لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوںچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے


 عشق تو ایک جست میں پہنچا مقام قرب تک
عقل الجھ کے رہ گئ بزم تصوّرات میں

  علم ہے ابن الکتاب
 عشق ہے امّ الکتاب
   علم اشیا علّم آدم الاشیاء ستے
ہم عصا و ہم ید بیضا ستے

 وہ اشعار جن کے مصرعے زیادہ مشہور ہیں
  
۱ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر - سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

 اگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالب
 ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئ ہے


تاریخ ہزاروں سالوں میں بس اتنی ہی بدلی محسن
 تب دور تھا پہلے پتّھر کا ابلوگ ہی پتھر بن گئے ہیں

Monday, June 6, 2016

رمضان مبارک


اے اللہ تو ہم سب مسلمانوں کی ساری عبادتیں اس مبارک مہینے میں قبول فرما اور ہمارے روزوں میں اپنی برکتیں نازل فرما کہ وہ تیری قبولیت کے قابل بنیں
 روزوں کی برکت سے ہماری روحوں مین بالیدگی بھر دے اور ہماری روحانیت میں اضافوں کا باعث بنا دے یا ربّ العالمین
 یا اللہ تیرا صد شکر کہ تو نے ہمیں اچھی صحت میں ایک بار پھر اس مبارک مہینے سے ملادیا اب ہمیں توفیق عطا فرما کہ اس ماہ کے روزے اچھی طرح سے ادا کر سکیں پھر گڑ گڑا کر دعائیں کریں کہ انھیں قبول کر لے اے ہمارے پروردگار اور اے ہمارے خدا ہم شکر ادا کرتے ہیں اس ماہ مبارک کے لئے

Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, May 12, 2016

سرکاری ٹّٹّی اور قانون


پہلے میں ٹائٹل کی وضاحت کر دوں
  االلہ بخشے میری بھابی نہایت مزاح فہمی طبیعت کی مالک تھین
ان کی ملاقات پڑوس والی کئ عورتوں سے ہوتی تھی جو ممکن ہے زیادہ پڑھی لکھی نہ ہوں اور دیہاتی علاقے سے تعلق رکھتی ہوں تو مجھے ایک بار انھوں نے بتایا کہ فلاں پڑوسن اس فلش سسٹم کو سرکاری ٹّٹی کہ کر پکارتی ہے اس پر مزید بحث نہیں کرتا بلکہ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ 'قانون' سے کیا تعلق ہے
 یوں کہ لیجئے کہ سرکار کی طرف  سے جو پبلک ٹٹیاں بنائ جاتی ہیں ان کو تو سرکاری ہی کہنا پڑیگا ہماری سٹیٹ میں آجکل بڑی گرم گرم خبریں ان سرکاری ٹٹیوں کے متعلق آ رہی ہیں  عام حالات میں ہر جگہ دو علیحدہ علیحدہ کمرے بنائے جاتے ہیں ایک مردوں کے لئے اور  ایک عورتوں کے لئے مخصوص کر دیا جاتا    ہے اوریہ ٹھیک بھی ہے    
 اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ مرد نہیں عورت ہیں یا عورت نہیں مرد ہیں ایک بہت بڑی مثال میرے انگریزی کے بلاگ میں دیکھیئے جو  میں نے 'ٹرانسجنڈرزم' پہ لکھا ہے مثال  جناب بروس جینر صاحب کی ہے جنھوں نے ساٹھ سال مرد کی نہایت کامیاب زندگی گزارنے کے بعد  اعلان کیا ہے کہ وہ مرد نہیں عورت ہیں اور انھیں بروس نہیں کیٹلن یا کیٹ کہ جائے ان کی اس بہادری پہ بڑے زوروں سے مضامیں اور تصاویر چھاپی  گئی ہیں
 تو اب یہ ہے کہ ان جیسے آدمیوں کا کہنا ہے کہ انھیں عورتوں والے کمرے میں فراغت یا بول کی اجازت دی جانی چاہئے ہماری سٹیٹ کے گورنر صاحب نے قانونی اعلان فرمایا ہے کہ وہی ایسے کمرے میں داخل ہو سکتا  یا ہو سکتی ہے جو اس کی 'پیدائشی جنس' ہو چنانچہ اب ہر جگہ بڑی لے دے ہو رہی ہے  کہ یہ غیر 
                                            قانونی امتیازی طریقہ برداشت نہیں کیا جائگا
میں بھلا کون ہوتا ہوں ایسے قانون یا اس کے پیروئوں پہ تنقید کروں بھلے سے اگر مشکل پڑ گئ ہے تو ایک تیسرا کمرہ بنوادیں سب کی خوشی کے لئے - ایک مجھ ایسا غریب کیا کر سکتا ہے مگر ذرا سوچنے کی بات ہے اس کمرے میں جہاں میری بیوی یا بہن یا گئ ہو میں یہ کیسے برداشت کروں کہ اسی کمرے میں فراغت 
- کے لئے بروس جیسا پہلوان بھی چلا جائے توبہ توبہ ہمجنس پسندی تک تو خیر تھی مگر اب معاملہ بہت آگے بڑھ گیا ہے - اللہ اللہ کیسا زمانہ آ گیا ہے وہ ہندی کا ڈائلاگ یاد آ رہا ہے
   " ھے بھگون پھٹ جائے یہ دھرتی اور سما جائوں میں اس میں"

Please visit my English blog at Saugoree