Thursday, March 18, 2010

میرا نام اور اس کی مشکلات

 اس میں کوئ شک نہیں کہ میرا نام ذراغیر معمولی سا ہے بحت کم لوگ ایسا نام رکھتے ھیں چنانچہ  انٹرنیٹ پر مجھے صرف ۶ وھاج ملے ھیں ممکن اور بھی ھون لیکن جب امام سراج وہاج سے ملاقات ہوئ اور نام بتایا گیا تو امام صاحب بہت محظوظ ہوئے وہ ہمارے اسلامک سینٹر آئے تھے اور میرے ذمّے ان کا تعارف کرانا تھا
 میری ساری زندگی میں صرف ایک وہاج ملے ہین جو ماشا اللہ حافظ قرآن ہیں اور پچھلے رمضان المبارک میں میرے ساتھ اعتکاف میں تھے ابھی نوجوانی میں ھین
تو جب میں نے شروع شروع میں اپنے نام کے دستخط کرنے سیکھے تو مشکل آ پڑی وہ میرے بینک نے ڈالی۔ میں جب اپنا چیک لکھوں ان کا دستخط ایکسپرٹ اس کو ردّ کر دے حتی ا کہ ایک دن میں نے اس کے سامنے بیٹھ کر تین دستخط کیئے وہ حیران رہ گیا  کہنے لگا کمال ہے تینوں ایک دوسرے سے نہیں ملتے تو میں نے اس کے سامنے ایک اور دستخط پیش کیئے ان دنوں ایک صاحب ڈبلیو زیڈ احمد لکھاری کا نام مشہور تھا ان کی وجہ سے میں نے اپنا نام ڈبلیو ڈی احمد لکھ کر دستخط کیئے تو ان ایکسپرٹ صاحب نے مجھے پاس کیا
 لیکن انگلینڈ آیا تو ایک مصیبت اور آپڑی۔ میرے سرٹیفکیٹ سارے وہاج الدین  کے نام سے تھے اور پاسپورٹ پر وہاج الدین احمد لکھا تھا میڈیکل کونسل نے مجھے ثبوت مہیّا کرنے کو کہا کہ میں وہی وہاج ہوں بڑی مشکل سے ایک ماہ کی بحث کے بعد وہ مانے اور تب میں کہیں جاب لینے کے قابل ہوا
امریکہ میں بہت کم لوگ مجھے وہاج بلاتے ہیں عموما" احمد ہی بلاتے رہے ہیں میری بڑی آپا اللہ بخشے مجھے پیار سے وہاجوننا بلاتی تھیں اس لئے آپ کو نیچے ایسا لکھا ہوا نظر آ رہا ہے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Wednesday, March 10, 2010

تقسیم وراثت اور عاق کرنا

پہلے تو اللہ تعالی ا نے سیدھا سا حکم دیا کہ اپنا ترکہ وراثت کے حقدار رشتہ داروں  میں باںٹو مگر پھر اللہ نے خود قریبی لوگوں کے حصے بیان کر دئے کہ انسان اپنی مرضی میں حق کا خیال نہیں رکھتا چنانچہ بیوی بچّوں وغیرہ کے حصوں کا الگ حکم رکھ دیا
اس کے باوجود لوگ اپنے بچوّں کو "عاق" کر دیتے ہیں اور سمجھتے ھیں کہ کہ اس طرح بچّے کو اس کی جائداد میں سے کچھ نہیں ملے گا لیکن یہ دنیاوی قانون اللہ کے قانون کو نہیں مٹا سکتا اور اگر اس کا ترکہ ہے تو اس میں "عاق" کیا ہوا بچہ اپنا حق رکھتا ہے اگر اسے اس کا حق نہ دیا گیا تو نہ دینے والے گنہگار ھوں گے اور قیامت کے روز وھ اپنا حق مانگے گا اور اللہ اسے دلوائے گا 

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, March 9, 2010

نا راضگی اور اس کے نتائج

حدیث میں ھے کہ مومن کو مومن سے تین دن سے زائد ناراض نہیں رہنا چاھئے
یہ درست ھے کہ ساتھ رہتے ہوئے دو انسانوں میں کبھی اوںچی نیچی بات ہو ہی جاتی ھے دوستی رفاقت اور ملنا جلنا مسلمانوں میں اتفاق اور یکجہتی کا سبب ہوتا ہے
 یہی چیز خاندان کے اندر اور بھی مظبوط ہونی چاہئے تو اس کے لئے اللہ نے قطع رحمی کو حرام قرار دے دیا۔ مگر عام دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ لوگ دوستوں سے تو پھر بھی کچھ تعلق قائم کر لیتے ہیں بات آئ گئ ہو جاتی ہے معاف کر دیا جاتا ہے لیکن اپنے رشتہ داروں میں جب ایسی بات ہو جائے تو عمر بھر کا طعنہ بن کے رہ جاتی ہے اور کوئ فریق دوسرے فریق کو معاف کرنے پہ آمادہ نہیں ہوتا
اللہ تعالی ا نے اس رشتے کی قوت بڑھانے کے لئے سو بہانے اور طریقے رکھے ہیں مگر اکثر گھرانوں میں {میرے اپنے گھرانے سمیت -ان کا اثر نظر نہیں آتا میرے دیکھنے میں ایک اور بات یہ بھی آئ ھے کہ ناراض شدہ کے بچوں میں یہی ناراضگی بغیر وجہ جانے چلتی رہتی ہے اور خواہ مخواہ دوری کا سبب بن جاتی ہے عام نکاح خواں ایک آیت ضرور پڑھتے ہیں سورہ نساء کی پہلی والی جس میں اللہ نے رحم کے رشتہ جوڑنے کا ذکر کیا ہے اس سے مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم کہنے کو تو کہ لیتے ہیں کہ ھاں میں مسلم ہوں مگر اپنی خواھشات کو اللہ کے حکم پر ترجیح دئے جاتے ھیں تو پھر کیا ہم نے واقعی اپنی خواھشات کو اللہ کے حکم کے تابع کر دیا ہے؟ --


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Saturday, March 6, 2010

میرے سردار دوست

عموما" سرداروں کے لطیفے لکھے جاتے ھیں لیکن یہ ایک بہادر اور وٹی قوم ھیں میرے دوست اپنے میڈیکل کالج کے بیسٹ گرایجوایٹ تھے میرے ساتھ کچھ دن انھوں نے گزارے جو میرے انگلستان کے یادگار دنوں میں سے ھیں ان کے ھمراہ ایک روز میں ان کے ایک سردار دوست کو ملنے گیا، دونوں ماشا اللہ اپنی مخصوص پگڑیوں میں تھے
ان  کے دوست ان سے یوں ھمکلام ہوئے  
                    جی کی پیو گے؟
جو مرضی پلا دے یار متّ ای مارنی اے

  اتنی پنجابی تو سب کو سمجھ آسکتی ھے اس لیئے اردو ترجمہ نھیں کر رہا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, February 23, 2010

امریکی بلّیوں کے خواب


بچپن مِن جب میں ساگر میں تھا تو گھر کے لئے گوشت لینے کو مجھے ہی بھیجا جاتا تھا جامع مسجد کے پیچھے اب تو بڑا بازار اور شاپینگ سینٹر ہے پہلے وہاں قصائیوں کی دکانیں تھیں جو باریک جنگلے کے اندر رکھیں گئ تھین تاکہ مکھیان اندر نہ آسکیں مگر وہ حلا ایسی رکاواتون سے کیا رکیں گی خیر میں گوشت لینے وہاں جاتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ چھیچھڑے
الگ ملتے تھے وہ میں اپنے گھر کی بلّی کے لئے لاتا تھا وہ بلّی ایک 'ضرورت؛ کے لئے تھی تاکہ چوہوں کو پکڑا جاسکےوہاں چوہون  کے علاوہ بلّیاں چھیچھڑے ہی پسند کرتی ہیں
اب آپ جانتے ھی ھیں کہ ہندوستان پاکستان وغیرہ میں جو بلّیان رھتی ھیں ان کو تو خواب میں چھیچھڑے نظر آتے ھیں میں
 حیران  ہوں اس بات پہ کہ یہاں یعنی امریکہ میں بلّیاں اپنے
خوابوں میں کیا دیکھتی ھیں؟
سٹوروں مین تو میں نے کہیں چھیچھڑے بکتے دیکھے نہیں مگر اور بھت کچھ ہے بلکہ
اتنی بھرمار ھے قسم قسم کے کھانوں کی ان شہزادیوں کے لیئے کہ اگر میں خود بلّی ہوں تو خود ہی حیران ہوجائوں کیا پسند کروں؟  کیٹ چائو یا ایئمز یا اور اتنی اچھی اچھی مزیدار اور ھر قسم کے گوشت سے بنائ ہوئ چیزیں سمجھ میں نھیں آتا کیا کھانا پسند کروں
تو سوال یہ ہے کہ امریکی بلّی خواب میں کیا دیکھتی ھے؟


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Wednesday, February 10, 2010

سرزمین امریکہ

ان دنوں پین ایم چلتی تھی نیو یارک اترے تو موسم کی خرابی کی وجہ سے سنسناٹی کی فلائٹ کینسل ہو گئ اور مجھے رات جے ایف کے پر ہوٹل میں گزارنی پڑی
نیا "ھالیڈے ان" تھا اور ۱۸ ڈالر ایک رات کے دئے یہ  جنوری ۶۹ کی بات ھے
آتے ہوئے جہاز پر دل میں ھزاروں خیالات چل رھے تھے اس وقت یہ لکھا تھا
نئے سورج کی آمد ھے افق پر ھے نظر میری
خدایا زندگانی میں مری کچھ روشنی کر دے
 بڑے ارمان اور حسرتین اور نہ معلوم کیا کیا دل میں مکسچر لیکر امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھا تھا آتے ھی مجھے محسوس ہوگیاتھا کہ جلد ھی اپنی محبوب لائن مین جگہ مل جائے گی یعنی نیورالوجی کی امّید بندھ گئ تو اس کے بعد شادی کا مسئلہ کھڑا ہونا ھی تھا اس سلسلے میں اپنی بہنوں سے مدد ماںگی دونوں انگلینڈ میں تھیں اور ان کی مدد سے اپنی ریزیڈنسی ختم ہوتے ہوتے یہ معاملہ بھی طے ہوگیا  اور پھر
                      'سب ھںسی خوشی زندگی گزارنے لگے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, February 2, 2010

انگلستان کا سفر-- ۱۳ اکتوبر کی تحریر کے بعد

وہ تمام مشکلات جو اس وقت پاکستان چھوڑنے پر نوجوان پروفیشنلز خصوصا" ڈاکٹرون کواٹھانی  پڑتی تھیں وہ سب اٹھائِن اور پاکستان چھوڑا اس خیال سے کہ پھر واپس آنا ھے چنانچہ بجائے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کی کلاسوں کے ھم نے سرجیکل ھاءوس جاب ڈھونڈنی شروع کی
سعید لندن کے شمال میں سینئر ھاءوس سرجن تھا میں سیدھا اسی کے پاس آیا تھا اور بغیر اسے اطلاع دئے تو وہ ناراض ہوا جیسا کہ اس کی عادت تھی خیر مجھے دو ماہ لگ گئے
  ابھی جاب نہیں ملی تھی کہ ایک روز ٹیوب میں سفر کرتے ہوئے ڈاکٹر بدر عالم صاحب مل گئے یہ ہمارے ساتھ ہی پشاور سے نکلے تھے ان کے ساتھ مل کے بہت خوشی ہوئ تھی وہ بھی ان دنوں جاب کی فکر میں تھے ان کے ھان چاول مچھلی کھائ اور انھین ایک ترکیب بتائ کیسے جاب مل سکتی ھے ان کے علاوہ سلیم حیات اوردوسرے "ایس ٹونٹی" کے حضرات سے وقتا" فوقتا' ملاقات ہوتی رہی اپنی خاندانی مجبوریوں کی وجہ سے امریکہ جانے سے پہلے ایک سال پاکستان میں گزارا تھا
 فروکی امریکہ سے انگلینڈ آیا تو ھم دونوں گلاسگو میں ایک کورس پہ گئے ستمبر 63 کا زمانہ  تھا وھاں مجھے اطلاع ملی کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا یہ بڑا کٹھن وقت تھا جو فروکی کی مدد سے گزارا۔ بھائیجان معراج کے خط نے بھی سہارا دیا تھا اس کے بعد واپس اپنی جاب پہ آیا
     انگلستان میں رہ کر "بیچ" اور ھالیڈے وغیرہ الفاظ کی سمجھ آئ ورنہ پاکستان میں کہاں ان چیزوں کا پتہ چلتا ہےامّاں جان کے انتقال کے بعد جی کچھ بجھ سا گیا تھا اب شادی  اور سیٹل ہونے کے متعلّق سوچنا شروع کیا مگر نیورالوجی کی دھن جو سوار تھی اس کے لیئے امریکہ جانا پڑا وگرنہ خاصا دل لگ گیا تھا اور تقریبا" جی پی کی جاب لے ھی لی تھی پاکستانیوں کے خلاف جو تعصّب انگلستان میں تھا وہ ایناک پاول صاحب کی وجہ سے بڑھ گیا تھا  چوںکہ نیورالوجی کی جاب کے لیئے جونئر جاب کی ضرورت تھی اس لیئے امریکہ میں جونئر جاب لیکر اللہ کا نام لیکر چل پڑا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/