Tuesday, August 24, 2010

مسلمانوں کے لئے رمضان کی برکتیں

  آںحضور صلّ اللہ علیہ و سلّم کے فرمان کے مطابق اس ماہ کا پہلا عشرہ 'رحمت'، دوسرا 'مغفرت اور تیسرا آگ یعنی جہنّم سے نجات  شمار کیا جاتا ہے
 ہم اب دوسرے عشرہ میں داخل ہو چکے ہیں اس لئے خوب استغفار کی دعاءیں ماںگنی چاھیئں۔ 
 بچپن میں ایک وظیفہ یا ذکر سیکھا تھا وہ حال ہی میں مجھے یاد آیا اور اس پر میں نے عمل شروع کر دیا آپ کو پسند آئے تو آپ کو اختیار ہے
 جو مجھے یاد پڑتا ہے وہ یوں ہے کہ ہمارے ورنیکلر فائنل کے امتحانوں کے دن تھے ہمارے استاد ایک ماسٹر تھے جن کا نام اللہ بخشے مولوی احمد دین تھا ان کا اپنا دعوہ یہ تھا کہ وہ میرے والد کے شاگرد بھی تھے۔ خیر  ہندو اور سکھ بچّوں کو تو اپنے مذہب کے مطابق کرنے کی تلقین تھی مگر ہم مسلمان بچّوں کو انھوں نے یوں ہدایات دی تھیں کہ یہ ذکر یاد کرو اور ہر نماز کے بعد اور ذکر جو ہم سیکھ چکے تھے اس کے ساتھ یہ بھی گیارہ بار پڑھنا ہے

استغفر اللہ ربّی من کلّ ذنب و اتوب الیہ و اسءلہ التّوبہ'
  اب مجھے یہ نہیں معلوم یہ کہاں سے نقل کی گئ ہے
 کیا زمانہ تھا استادوں کا اب کہاں  ایسے ٹیچر میتے ہیں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Thursday, August 19, 2010

سندھ کے لٹیرے اور سیلاب پاکستان

 جب شروع میں پاکستانی سیلاب کی خبریں آئیں تو میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ اب لٹیروں کی عیش ہے لوگ لٹے پٹے گھروں کو چھوڑ کر نکلیں گے اور یہ بدمعاش ان گھروں میں گھس کر سامان لوٹیں گے پہلی بار سیلاب کی خبریں ۱۹۴۸ میں سنی تھیں جب لاھور میں  یہی دیکھا تھا اس وقت یہ سن کر میں بہت حیران ہوا تھا کہ لوگ اتنے بے شرم اور شیطان کے چیلے بھی ہو سکتے ہیں اس کے بعد جب بھی سیلاب آئے ہیں یہی خبریں سننے میں آئ ہیں یہ پتھر دل اور شقی القلب لوگ سوائے مال کی حوس کے اور کچھ نہیں جانتے اپنوں سے بات ہوئی تو معلوم ہئوا کہ لوگ کرائے کی کشتیاں لیکر لوٹنے جاتے ہیں اور مال اکٹھا کرتے ہیں لیکن سندھ میں تو حد ہی ہوگئ ہے وہ ان قافلوں پہ باقاعدہ ڈاکہ ڈالتے ہیں اور بندوقوں وغیرہ کے زور پر پیدل لوگوں سے مویشی بھی چھین لیتے ہیں اور جو ٹرکوں یا دوسری گاڑیوں میں جا رہے ہوتے ہیں ان سے بھی زیور اور نقدی لوٹتے ہیں

 یہ کیسے مسلمان ہیں اور کیسے بے درد انسان ہیں ادھر لوگ سیلاب کی آفت سے مجبور ہو کر نکلتے ہیں گھر ویسے برباد ہئوا ہے اور اب سامان بھی گیا نقدی بھی گئ غریبوں کے مویشی بھی گئے ان شیطان کے چیلوں نے اپنا ظلم شروع کر رکھا ہے وہ جو اللہ تعالےا نے سورہ والتّین میں کہا ہے یہ    اسفل سافلین'  لوگ ہیں
 انسان کس حد تک گر جاتا ہے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Wednesday, August 11, 2010

رمضان مبارک

اس ماہ مبارک کی آمد پر اپنے تمام مسلمان بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں
عرض کیا ہے    
  آ گئیں ساعتیں برکتوں رحمتوں والیاں آمد ماہ رمضان ہے
یہ فرشتے پکارے اٹھو مومنو-لوٹ لو برکتیں ماہ رمضان ہے
   اسی ماہ کی ساعتوں میں اتارے گئے تھے خدا کی طرف سے صحیفے تمام
  اسی ماہ کی ساعتوں مین اتارا گیا عرش سے پاک قرآن ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Monday, July 19, 2010

اولاد کی بہتری

 سب سے پہلے تو یہ کہنا ہے کہ مغرب میں ڈیرہ اختیار کرتے ہوئے یہ سوچا تھا کہ یہیں شادی کر کے رہ جائیں پھر شادی کے بعد دو دماغ اکٹھے ہو گئے--یہاں جو آسانیاں ہیں انھیں چھوڑنا مشکل ہے کئی دوست جو ہمّت کر کے پاکستان گئے بھی ان مِن سے اکثر واپس آگئے--پھر جب بچّے ہوئے تو سوچا ان کی تربیت کہاں بہتر ہوگی بہت کچھ سوچنے پر یہی اندازہ لگایا کہ اب جو ہو سو ہو ان کی تربیت یہیں بہتر ہو گی پاکستان میں اب اتنی ہی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں جن سے ہم ڈرا کرتے تھے
 پھر پڑھا نے لکھانے کے بعد بچّے بڑے ہوئے تو ان کی شادیوں کا وقت آیا ان کے لیئے پاکستان سے لایا جائے یا یہاں ہی ڈھونڈا جائے بچّوں نے اس میں ہماری مدد کر دی کہ یہیں ڈھونڈا جائے تو اب ان کی شادیان یہیں مگر پاکستانیوں میں کر دی گئیں اب ہم سوچتے ہیں کیا ہم نے ان کے لیئے بہتر کیا؟ یہ تو اب وقت ہی بتائے گا ہم نے اپنی سی کوشش کر دی انھیں پاکستانی تہذیب اردو پنجابی وغیرہ سے تعارف کرا دیا اب وہ کہاں تک اپنی اولادوں کو اس تہذیب سے بہرہ ور کریں گے یہ ہمارے بس میں نہیں اتنا ضرور ہے کہ ایمان اور اسلام سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں اس کا اہتمام رکھّا ہے آگے اللہ تعالےا کی مرضی اور منشا ہے ایسے موقعے پر ابراہیم علیہ السلام کی دعا یاد آتی ہے جو انھوں نے اپنی اولاد کے لئے کی تھی کہ ایمان اور اسلام ہاتھ سے نہ جائے  اور تمام اولاد میں اللہ کی پرستش ہی باقی رہے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Saturday, July 10, 2010

بشیر کھوکھر کی کہانی

مرحوم میرا تقریبا" ہم عمر تھا
ککرالی اسکول ھمارے گائوں سے کوئ میل بھر ہوگا مختلف گائون سے سیکڑوں بچّے میل میل اور دو یا چار میل تک سے پیدل وقت پر اسکول پہںچتے تھے ان بچّوں کا روزانہ کا یہی معمول تھا صبح صبح ٹولیوں مین ہںستے کھیلتے  بچّے ککرالی گائوں کی طرف جاتے نظر آتے تھے اسی ایک ٹولی میں میں بھی تھا۔ہمارے گھر کے تقریبا" سامنے بثیر کھوکھر کا گھر تھا اور اس سے ذرا آگے جان یعنی رمضان کھوکھر کا چنانچہ ہم تین اور دوسرا میرا قریبی دوست بشیر-جو بعد میں ڈاکٹر بشیر بھٹّی کہلایا-  دوسرے محلّے سے آ ملتا تھا دونوں بشیر اور جان مجھ سے دو سال پیچھے تھے دونوں بشیر ذہین تھے
بشیر کھوکھر کا باپ گجرات پنجاب بس کا ٹکٹ کلکٹر تھا جنھین گجرات یا کہیں بھی جانا ہوتا تھا سب اس پہ ہی بھروسہ رکھتے لوگوں کی بھیڑ میں سے ٹکٹ کٹوانا اتنا آسان نہیں تھا
 بشیر سے چھوٹے دو اور لڑکے تھے صابر اور "فیکا" یعنی رفیق۔ بشیر ذرا لنگڑا کے چلتا تھا  آٹھوین تک پہںچتے پہںچتے مزید کمزوری کی وجہ سے بلکل چلنے سے معذور ہو گیا میں میٹرک پاس کر کے لاہور چلا گیا جب میں نے ایف ایس سی پاس کی اس وقت تک وہ پلنگ پر پڑگیا
 جب تک میں میڈیکل کالج داخل ہئوا وہ اٹھنے بیٹھنے سے بھی رہ گیا ان سب باتوں کے باوجود میں جب اسے ملتا اسے پہلے کی طرح ہی ہںس مکھ پاتا وہ یا سگرٹ یا حقّہ مںہ سے لگاتا اور ہم سب سے اسی طرح باتین کیا کرتا جیسے پہلے کرتا تھا
   اس کا باپ جب چلتا تھا تو اس کی خمیدہ کمر ہوتی اور گردن بھی زیادہ نہیں موڑ سکتا تھا جب میں چوتھے سال میں تھا تب میں نے اس بیماری کا پڑھا انگریزی میں اسے پوکر بیک کہا جاتا ہے
Poker Back-- Ankylosing Spondylitis.
 باپ کے فوت ہونے کے بعد بشیر کی خدمت اس کی مان کیا کرتی مزید کمزور ہوتا گیا مگر جب بھی میں جاتا اس کے چہرے پہ مسکراہٹ ہی دیکھتا سگرٹ بھی اس کی مان دیا کرتی خود نہیں پی سکتا تھا اس وقت تک چھوٹا فیکو میٹرک چھوڑ کے کہیں باہر چلا گیا چھوٹا تھا تو ہمارے گھر میں آتا تھا میری بہنیں اس سے کام وام کرا لیتی تھین تو ان کی گرویدگی حاصل کر لی صابر ہاتھ پائوں کا ٹھیک تھا مگر ذہن کمزور تھا فیکو ذہن کا تیز تھا بشیر کی طرح مگر پڑھائ سے بھاگ گیا۔
کئ سال بعد میں انگلینڈ سے واپس آیا تو معلوم ہئوا بشیر اور اس کی مان بھی فوت ہو چکے تھر صرف صابر گھر میں تھا فیکو کو میری بڑی بہن نے لاہور میں کہیں پکڑا اس کے پاس ٹویوٹا گاڑی تھی  اس نے خاصی آمدنی بنا لی تھی اور غالبا" موٹر سیلز میں تھا
 بشیر کے متعلّق میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ جب وہ اس قابل ہوا کہ اپنی زندگی بنالے تو بیماری نے بستر پہ ڈال دیا سوچتا تھا جیسے میرے اپنے خیالات  احساسات اور تمنّائیں ہوتی تھیں اس کی بھی  ہوتی ہوںگی ان سے کیسے نپٹتا ہوگا اس کے بھی دل میں امنگیں اور ارمان اسی طرح جنم لیتے ہونگے جیسے میرے دل میں اس وقت ہو تے تھے اس کا ٹیڑھا میڑا سا جسم کمزور اور ہڈیوں کا ڈھانچہ سا مگر ذہن صاف تھا اور چہرا اسی طرح ہںستا ہوا
 اللہ اسے جنّت میں بھی اسی طرح ہنستا رکھّے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Wednesday, June 30, 2010

سرفنگ اور دواڑا یا بھنڈر

 ھمارے گاءوں کے مشرق میں ایک برساتی نالہ ہے نالہ کے اس پار میرے والد مرحوم کا گائوں ہےجسے سہوںترا کہا جاتا ہے میرے گائوں کا نام کوٹلہ ارب علی خاں ہے نالہ تک پہنچنے کے لِئے ایک مختصر جنگل میں سے گزرنا پڑتا ہے اس کو وہاں کی زبان میں 'بیلی" کہتے ہیں نالہ کی چوڑائ تقریبا" سو گز ہوگی گرمیوں کے موسم میں جب بارشیں آتی ھیں اور پہاڑوں پر سے برف پگھلتی ہے تو نالے میں پانی آتا ھے اس کا بہائو خاصا تیز ہوتا ہے اور پانی کا شور الگ ہوتا ہےایسا ہی شور میں نے نیاگرہ میں سنا ہے
 نالے کا نام 'بھنڈر' ہے اور اسے 'دواڑا' بھی کہتے ہیں گدلا پانی اور اس کی تیز لہریں بچّوں کے لیئے کھیل کا سامان پیدا کرتی ہیں ان پہ اسی طرح ٹھیلا جاتا ہے جیسے سمندر میں آپ نےجوان لوگوں کو سرفنگ کرتے دیکھا ہے صرف ہمارے پاس تختے نہیں تھے جب زیادہ تیز لہریں ہوں تو صرف بڑے لڑکے ہی جا سکتے ہیں پہر بہی خطرہ رہتا ہے ڈوب جانے کا
  جب اس نالے مین پانی آتا ہے تو اس "طوفانی" پانی کو پنجابی میں "ھاڑ" آنا کہتے تھے اور "کانگ" بہی کہا جاتا تھا یہ وہی نالے ہے جس کے متعلق میں پہلے لکھ چکا ہوں جب گجرات سے آتے ہوے راستے میں آتا ہے وہ ہمارے گائوں سے دس بارہ میل دور ہے دواڑا پھر گجرات سے بھی آگے جاتا ہے اور پھر ایک اور نالہ "بھمبر" سے ملجاتا ہے اب تو ان پر پل بن چکے ہیں
اتنا پانی ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارے گھر مِن اوورفلو ہو کے آ جایے ویسے بھی نالہ کوٹلے کی نسبت نشیب میں ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Thursday, June 17, 2010

میرے بلاگ کے استاد-استانیاں

میرے انگریزی بلاگ پر دیکھیے 

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/