Saturday, November 27, 2010

کیا مسلمان کو کرسمس منانی چاہیئے

                                                                       سادہ سا جواب یہ ہے کہ نہیں منانی چاہیئے
                                                                  یہ خیال 'تھینکس گیونگ' کی وجہ سے آیا ہے-    وہ جو عیسائ ہیں مناتے ہیں مناتے رہیں
اب سوال یہ ہے کہ جب آپ کے عیسائ دوست یا آپ کے ہمکار وغیرہ آپ کو کرسمس کی مبارکباد دیں "میری کرسمس" کہیں اور آپ ان کو جوب میں اسی طرح کہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ ان کی کرسمس منانے میں شریک ہو گئے ہیں؟
 ہمارے علمآء فرماتے ہیں کہ آپ اس کے کہنے سے ان کے تہوار میں شریک ہوگئے
 میرا دل اس فلسفہ کو قبول نہیں کرتا۔ جب ایک غیر مسلم مجھے عید مبارک کہتا ہے تو کیا وہ میرے عید منانے میں شریک ہو رہا ہے؟
میرے ناقص خیال میں نہ وہ عید منارہا ہے اور نہ میں بطور مسلم کرسمس منا رہا ہوں میں تو صرف اپنے عیسائ دوست کو خوشی پہنچا رہا ہوں دوست کی حیثیت سے اور میں اس اپنے اسلامی اصول کے مطابق غیر مسلم دوست سے اچھا سلوک کر رہا ہوں جس کی اجازت دی گئی ہے کیا اس نیت سے 'میری کرسمس'کہنا گناہ ہوگا؟


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Friday, November 19, 2010

حجّ بیت اللہ کا موسم

آج کے روز حجّ کے تمام مناسک مکمل ہوئے اور اب حاجی لوگ یا اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوںگے یا وہ جو مدینۃ المنوّرہ پہلے نہیں گئے تھے اب  مدینے کی راہ پکڑیں گے-
 جنہاں پھڑی مدینے دی راہ یارو نال انھاں دے اسہاڈیاں دعاواں
مینں وی بیٹھیا ہویا  ہاں ایہوئ سوچنا واں- کدوں میں مدینے ول جاواں
  حر مسلمان کے دل میں یہی خواہش دہتی ہے کہ حج کو جائیں اور دیار مدینہ کی پر سکون فضائوں میں خوشی کے وقت گذاریں
حجّ ایک ایسا فریضہ ہے کہ جب تک آپ خود نہ کریں اس کا احساس نہیں ہو سکتا  ایک عجیب سفر ہے ایسا جیسے آپ کی باقاعدہ ایپوئنٹمنٹ ہے اللہ تبارک و تعالےا سے اور آپ 'اللہ کے گھر' جاتے ہیں
 ایک بچّے کا لطیفہ یاد آ گیا سناتا چلوں
 اپنے ماں باپ کے ساتھ بثے بھی جاتے ہیں ان کے اپنی عمر کے لحاظ سے علیحدہ ہی  تائثرات ہوتے ہیں
 چنانچہ ایک مکالمہ کسی بڑے نے دو بچوں کی باتوں پر کان دھرتے ہوئے سنا وہ آپ تک پہنچا دوں
ایک بچہ دوسرے سے پوچھتا ہے
 تم نے اللہ کا گھر دیکھا؟
ہاں دیکھا
 اچھّا اللہ میاں گھر مین تھے؟
 نہیں تو - ایسا لگتا ہے وہ چھٹی پہ گئے ہوئے تھے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Saturday, November 13, 2010

لمبر پنکچر

 یہ ایک قسم کا 'چھوٹا اپریشن' ہے جس میں ڈاکٹر ریڑھ کی ہڈّی میں  ایک لمبی سی سوئ داخل کرتا ہے اور جو مادہ دماغ کے ارد گرد گردش کرتا ہے اس کی تھوڑی سی مقدار نکالتا ہے عموما"  اس کو ٹیسٹ کرنے کے لیئے
 یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میو ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں ہائوس فزیشن تھا اور خدا جھوٹ نہ بلوائے کوئ چھ یا سات مریض --ٹی ی مننجائٹس--کے میرے وارڈ میں تھے ایک دس گیارہ برس کا لڑکا بھی تھا جو ٹھِک تو ہو گیا تھا مگر اپنی بینائ کھو بیٹھا تھا -ا بھی وارڈ میں دوائیاں لے رہا تھا مگر بہتر ہو چکا تھا۔ نرس کے ساتھ ساتھ وہ بھی آ جاتا تھا جب میں کوئ  لمبر پنکچر کرنے لگتا اور اپنی نئ نئ سیکھی ہوئ میڈیکل ٹرمینالوجی بول کر خوش ہوتا تھا۔ چونکہ میں نرس کو کہا کرتا تھا مریض کی پوزیشن ٹھیک کرو تو وہ نرس کو یہ کہا کرتا سسٹر صاحبہ پوزیشن ٹھیک کریں ڈاکٹر صاحب کو لمبر پنکچر میں گڑ بڑ نہ ہو
 جب کوئ مریض دم توڑنے کے وقت پر ہوتا تو بیرے کو آواز لگاتا آکسیجن سلنڈر لے آئو
 ہم سب اس کی باتوں سے محظوظ ہوتے - بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والا بہت پیارا بچّہ تھا
نہ معلوم ان دنوں کیوں اتنے مریض اس خطرناک مرض والے آ داخل ہوءے تھے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, November 9, 2010

علّامہ اقبال ر ح

مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج یوم اقبال ہے بھائ افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے معلوم ہوا   مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں ۹ نومبر کو چھٹی بنا دی گئ ہے


 -بھت چھٹیان بن جاتی ہیں مگر ان شخصیات کی یاد بھی بہت ضروری ہے ورنہ انہیں کون جانے گا نئ پود میں سے
علامہ کی شخصیت بہت بھاری ہے قائد اعظم کی شخصیت سے بھی زیادہ میرا خیال ہے کہ پاکستان کے متعلّق جاننے والے لوگوں کو ان دو حضرات کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہئیے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, October 26, 2010

طلاق کیسے دینی چاپیئے

 سب سے پہلے تو میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں کہ یہ میں کیا لکھنے جا رہا ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالےا نے اس کی-- غیر پسندیدہ سہی مگر-- اجازت تو دے رکّھی ہے دوسرے یہ کہ طلاق دینے میں مسلمان آدمی کبھی جلدی کرتے ہیں اور عموما" غلط طلاق دیتے ہیں اب اس کا مسئلہ اس لیئے بن جاتا ہے کہ طلاق پھر بھی واقع ہو جاتی ہے کہ اگر آپ کھیل کھیل مین یا مذاقا" بھی اپنی بیگم کو کہیں کہ میں نے طلاق دی تو وہ ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے چنانچہ اس سے یہ بخوبی معلوم ہو گیا کہ طلاق کا لفظ کھیل نہیں ہے
 اب فرض کیجے کہ طلاق کی نوبت پہنچ چکی ہے اور طلاق دینی ضروری ہو گئی ہے تو اس کا طریقہ جو شرع سکھاتی ہے میں اس کا اظہار کرنا چاہ رہا ہوں اس لئے نہیں کہ خدا نخواستہ آپ کو کوئی ترغیب دے رہا ہوں میری عمر اب ستتّر برس ہو چکی اور میں نے یہ عمل کئی بار دیکھا ہے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں اور اکثر لڑائی جھگڑا ہوتا دیکھا ہے وغیرہ اور آپ بھی اس سے واقف ہوں گے اگر تو کوئی صاحب کسی عالم سے پوچھ کر دیں تو بات ٹھیک رہتی ہے ورنہ مشکل ہو جاتا ہے
 میں نے تین طلاق کا مسئلہ اپنے انگریزی بلاگ میں لکھا ہے جو آپ وہاں دیکھ سکتے ہیں
Ibn Umar RA narrated:
Rasool-ul-Allah SAWS said,
"Among the halal things the most despised by God is divorce" Abu Dawood and Ibn Majah, considered it saheeh. I have hesitated about writing for a long time and on the other hand I have wanted to write about it for a long time. Yes, I come across this subject every now and again and always I find that we are always making mistakes because of lack of knowledge about this subject.;Generally the notion exists that a Muslim should say three talaqs when divorcing and this is utterly wrong.
From Mahmood Ibn Labeed RA, who said:Rasool-ul-Allah was informed that someone divorced his wife saying three times Talaq in one sitting. He got furious and stood up to say--Are people playing with the Book of Allah while I am still alive amongst you?--On that one man stood up and said--Shall I not kill him Ya Rasool-ul-Allah ?
Well I will be writing more about this before I write the Hadeeth that advises the proper way of divorcing (one time and three times)
 From the above hadeeth of Ibn Labeed what is apparent is that it is haram (prohibited) to say three times divorce in one sitting. However here it does not indicate whether this was considered ONE talaq or was considered three talaq about which the Qur'an Says
"A divorce is permissible only twice; after that the parties should either hold together on equitable terms or separate with kindness; It is not lawful for you (men) to take back any of your gifts (from your wives) except when both parties fear that they would be unable to keep the limits ordained by Allah..........." (Aya 229
"So, if a husband divorces his wife (Irrevocably; that is third time),He cannot after that remarry her until after she married another husband and he divorced her.   .........." (Aya 230--of sura Baqara)
This is the "three talaq" which is allowed by Allah (though not liked) that is one and remarry her, then second and remarry her and THEN the third time pronouncing the final or irrevocable talaq.
So pronouncing three talaqs in one sitting is prohibited but ACCEPTED as the final irrevocable talaq which makes a husband and wife to get married for the fourth time ONLY IF that wife has been married and divorced by ANOTHER HUSBAND. (Or if he dies) This is called "halala" (if planned for the purpose of remarrying the same wife for the fourth time) and is very much despised, not allowed if that is "arranged" by the man for his 4th timeThis particular question was admirably dealt with in the old Indian Movie called "Nikah" (Starring Raj Babbar)
 There are two positions about the three talaqs pronounced in one sitting, one of which is accepted as correct the other as not correct according to ( my thinking) ALL FOUR IMAMS as well as many well-known Sahaba and their followers and the followers of the followers.(Taba' taabieen)
 Those who call themselves "ahl-hadeeth" or call themselves Ghair muqallad" (Not following ANY IMAM) and also Shia- consider it wrong to accept the three talaqs as final irrevocable talaq necessitating a halala but are of the opinion that such 'three talaqs" pronounced in one sitting equal to only one talaq.
. Let me first state the position of all four Imams which is based on sunnah and Ijama'a. How that Ijam'a came into being requires another note so will write next time insha-Allah. I am hoping that so far what has been written is clearly understandable but would answer any questions
 اس سے پہلے دو اور پوسٹ ہیں مجھے کلک کرنے والا طریقہ ابھی نہیں آتا معذور ہوں لیکن یہ ہے کہ تین طلاق کا زبان سے نکالنا اچّھا نہیں کسی صورت میں بھی اس سے پرہیز ہی کرنا بہتر ہے ہر حال مین
اسے طلاق مغلّظہ کہا گیا ہے۔
سب سے بہتے طریقہ طلاق دینے کا یوں بتایا گیا ہے
 بیوی جس کو ابھی مہینہ آتا ہے اس کے مہینے ختم ہونے پر جب وہ طاھرہ ہو چکی ہو اور اس کے ساتھ مرد نے ہمبستری نہیں کی ہو اس وقت اسے ایک طلاق دی جائے
 "میں نے تمھیں طلاق دی"
 اس کے بعد بیوی جب تین  مہینے گزر کر جائیں اور  جس روزچوتھا  مہینہ شروع کرے گی تو عدت پوری ہونے پر طلاق مکمل ہوگی

 اگر خون نہیں آتا تو تین ماہ مکمل ہونے پر عدت ختم ہوگی

Friday, September 24, 2010

ایک ای میل کسی کی

                                      ساجد صاحب نے- خوب لکھا ہے
دو نوجوان  سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص  کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر  یہ ہے وہ شخص!
سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ   ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟
یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل  کیا ہے۔
کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ پوچھتے ہیں۔
سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟
وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین،  مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔
کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمر پوچھتے ہیں۔
یا عمر رضی اللہ تعالی عنہ، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے  ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔
پھر تو قصاص دینا  پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔  سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں۔
 
نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کسقدر  شریف خاندان  سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی  معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر  رضی اللہ تعالی عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے  پر عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کو  روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ  قاتل کی حیثیت سے آ  کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
 
وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس  جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔
سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں: کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء  میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو  ایسا نہیں ہے جو اسکا  نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا  گھر  وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔
کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا  زمین کے ٹکڑے  یا کسی اونٹ کے سودے  کی ضمانت کا معاملہ ہے؟  ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔
اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اعتراض  کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود  صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر  رضی اللہ تعالی عنہ  بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت  نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟  یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا  جائے؟  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!
خود سیدنا   عمر رضی اللہ تعالی عنہ  سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں  ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔
نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟
ابو ذر غفاری  رضی اللہ تعالی عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔
چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر  رضی اللہ تعالی عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ: جانتے ہو اسے؟
ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ: نہیں جانتا اسے۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟
ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ: ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔
امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے،  اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر  واپس آنے کیلئے۔
 
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر  رضی اللہ تعالی عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت  شہر میں  (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔
ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سوال کرتے ہیں۔
مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ مختصر جواب دیتے ہیں۔
ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا  ہونے جا رہا ہے؟
یہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا  مانگیں تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں  اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!
امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو  پرندوں کے چوزوں کی طرح  صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟
ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے عمر رضی اللہ تعالی عنہ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔
سید عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟
نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔
 
سیدنا عمر  رضی اللہ تعالی عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔
اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔
اے ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔
اور اے شخص،  اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔
اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔
محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔
اور اے اللہ، جزائے خیر دے اپنے بے کس بندے محمد سلیم کو، جس نے ترجمہ کر کے اس ایمیل کو اپنے احباب تک پہنچایا۔
اور اے اللہ، جزائے خیر دینا انکو بھی، جن کو یہ ایمیل اچھی لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ۔ آمین یا رب العالمین۔

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Sunday, September 12, 2010

عید مبارک

 میں اعتکاف کے بعد واپس آیا ہوں
 اللہ سب مسلمانوں کی تمام عبادتیں قبول کرے آمین
 یہ سخت الفاظ ایک ہندو شاعر کے ہیں لیکن رجوع کے لائق ہیں ملاحظہ کیجئے-- پنڈت شنکر دیال شرما-

                                       قرآن
عمل کی کتاب تھی
دعا کی کتاب بنا دیا
سمجھنے کی کتاب تھی
پڑھنے کی کتاب بنا دیا
 زندوں کا دستور تھا
مردوں کا منشور بنا دیا
جو علم کی کتاب تھی
اسے لاعلموں کے ہاتھ تھما دیا
 تسخیر کائنات کا درس دینے آئ تھی
 صرف مدرسوں کا نصاب بنا دیا
 مردہ قوموں کو زندہ کرنے آئ تھی
 مردوں کو بخشوانے پہ لگا دیا
 اے مسلمانوں یہ ہم نے کیا کیا---ذرا سوچئے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/