Tuesday, December 7, 2010

پہلی سالگرہ-میری پوتی کی آٹھ دسمبر ہوگی

 صبح اٹھا تو پیاری ایمانی کا ہنستا ہوئا چہرا سامنے آرہا تھا۔ گول مٹول سی پیاری سی گڑیا آج ایک سال کی عمر کر لی فجر کی نماز کے بعد جو ہاتھ اٹھائے تو بس اسی کے لئے دعائیں کرتا رہا اللہ  اس کو ایک نیک اور صحیح مسلمہ بنائے ایمان کی پختگی اور اسلام کی محبت عطا فرمائے قران مجید سے اور رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم سے محبت  اور لگن عطا فرمائے والدین کی آںکھوں کی ٹھنڈک اور انھیں ہزار خوشیاں دکھائے اور اس کی اپنی زندگی خوشیوں سے بھری اور دکھ تکلیفوں سے مبرّا ہو اور لمبی عمر عطا ہو- آمین ثم آمین
تم کیا جانو میری گڑیا کہ تم نے صرف جنم لےکر اس بوڑھے کی زندگی میں کتنی مسرّتیں بھر دی ہیں جیتی رہو بٹیا
غلطی سے پہلے ہی لکھ گیا ہوں بڑھاپے میں سب کچھ معاف ہو جاتا ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Wednesday, December 1, 2010

شادی بیاہ میں دف

مگر انگرہزوں کے وقت میں سی پی تھا
 ساگر ایک چھوٹا سا شہر ہے بلکل ہندوستان کے وسظ میں واقع ہے آجکل اسے مدّھ پردیش کہتے ہیں
ہمارے محلّے میں زیادہ تر ہندو بستے تھے ہمارا گھرانہ میرے والد مرحوم کی وجہ سے بہت 'مولویوں کا گھرانہ' تھا مگر اس میں کچھ 'روشن خیالی' بھی شامل تھی مثال کے طور  پر میری بہنیں لڑکیوں کے اسکول مِن داخل ہوئی تھیں اور چار جماعت پاس کیں کیوںکہ وہ پرائمری اسکول تھا اگرچہ پردے کا انتظام تھا مگر فلم دیکھنے کی اجازت تھی امّاں جان سمیت سب بچوں کو گنی چنی چند فلمیں سہی مگر میں نے بچپن میں اپنی فیملی کے ساتھ دیکھیں اس زمانے میں شادی سے پہلے گھر میں ڈھولکی شروع ہو جاتی تھی کمال یہ ہے کہ میری بڑی بہن کو بلایا جاتا تھا وہ ڈھولکی بھی بجاتی اور گاتی بھی تھیں لوک گیت 'دادروں ' کی شکل میں تھے بلکہ ان کے بول بھی اسی قسم کے ہوتے تھے
' ڈالیں گلے میں موہن مالا بلم انگنا میں کھڑے
مجھے تو طرزیں بھی یاد ہیں مگر لکھ نہیں سکتا ایک اور یاد آئ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اب دیکھئے کیسے کٹے

 پھر ہم پنجاب آگئے اور یہاں بھی شادی سے پہلے وہی رواج تھے گائوں مِن بجائے ڈھولکی کے دف رکھا جاتا تھا میری بڑی بہن کی بیٹی اسی طرح بلائ جاتی تھی اسے بھی وہی شوق تھے اور اب گیت پنجابی تھے
"چٹھّی آئ زورآور دی ی ی ہو اللہ جانے گھٹّ کے سینے نال لاواں
سحیب جانے گھٹّ کے سینے نال لاواں کہ
کہ چٹھّی آگئ زورآور دی ی ی ہو
 اور زیادہ اس وقت یاد نہیں آرہے
 آللہ دونوں کو جنّت میں جگہ عطا فرنمائے دونوں اللہ کو پیاری ہو چکی ہیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ 

Saturday, November 27, 2010

کیا مسلمان کو کرسمس منانی چاہیئے

                                                                       سادہ سا جواب یہ ہے کہ نہیں منانی چاہیئے
                                                                  یہ خیال 'تھینکس گیونگ' کی وجہ سے آیا ہے-    وہ جو عیسائ ہیں مناتے ہیں مناتے رہیں
اب سوال یہ ہے کہ جب آپ کے عیسائ دوست یا آپ کے ہمکار وغیرہ آپ کو کرسمس کی مبارکباد دیں "میری کرسمس" کہیں اور آپ ان کو جوب میں اسی طرح کہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ ان کی کرسمس منانے میں شریک ہو گئے ہیں؟
 ہمارے علمآء فرماتے ہیں کہ آپ اس کے کہنے سے ان کے تہوار میں شریک ہوگئے
 میرا دل اس فلسفہ کو قبول نہیں کرتا۔ جب ایک غیر مسلم مجھے عید مبارک کہتا ہے تو کیا وہ میرے عید منانے میں شریک ہو رہا ہے؟
میرے ناقص خیال میں نہ وہ عید منارہا ہے اور نہ میں بطور مسلم کرسمس منا رہا ہوں میں تو صرف اپنے عیسائ دوست کو خوشی پہنچا رہا ہوں دوست کی حیثیت سے اور میں اس اپنے اسلامی اصول کے مطابق غیر مسلم دوست سے اچھا سلوک کر رہا ہوں جس کی اجازت دی گئی ہے کیا اس نیت سے 'میری کرسمس'کہنا گناہ ہوگا؟


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Friday, November 19, 2010

حجّ بیت اللہ کا موسم

آج کے روز حجّ کے تمام مناسک مکمل ہوئے اور اب حاجی لوگ یا اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوںگے یا وہ جو مدینۃ المنوّرہ پہلے نہیں گئے تھے اب  مدینے کی راہ پکڑیں گے-
 جنہاں پھڑی مدینے دی راہ یارو نال انھاں دے اسہاڈیاں دعاواں
مینں وی بیٹھیا ہویا  ہاں ایہوئ سوچنا واں- کدوں میں مدینے ول جاواں
  حر مسلمان کے دل میں یہی خواہش دہتی ہے کہ حج کو جائیں اور دیار مدینہ کی پر سکون فضائوں میں خوشی کے وقت گذاریں
حجّ ایک ایسا فریضہ ہے کہ جب تک آپ خود نہ کریں اس کا احساس نہیں ہو سکتا  ایک عجیب سفر ہے ایسا جیسے آپ کی باقاعدہ ایپوئنٹمنٹ ہے اللہ تبارک و تعالےا سے اور آپ 'اللہ کے گھر' جاتے ہیں
 ایک بچّے کا لطیفہ یاد آ گیا سناتا چلوں
 اپنے ماں باپ کے ساتھ بثے بھی جاتے ہیں ان کے اپنی عمر کے لحاظ سے علیحدہ ہی  تائثرات ہوتے ہیں
 چنانچہ ایک مکالمہ کسی بڑے نے دو بچوں کی باتوں پر کان دھرتے ہوئے سنا وہ آپ تک پہنچا دوں
ایک بچہ دوسرے سے پوچھتا ہے
 تم نے اللہ کا گھر دیکھا؟
ہاں دیکھا
 اچھّا اللہ میاں گھر مین تھے؟
 نہیں تو - ایسا لگتا ہے وہ چھٹی پہ گئے ہوئے تھے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Saturday, November 13, 2010

لمبر پنکچر

 یہ ایک قسم کا 'چھوٹا اپریشن' ہے جس میں ڈاکٹر ریڑھ کی ہڈّی میں  ایک لمبی سی سوئ داخل کرتا ہے اور جو مادہ دماغ کے ارد گرد گردش کرتا ہے اس کی تھوڑی سی مقدار نکالتا ہے عموما"  اس کو ٹیسٹ کرنے کے لیئے
 یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میو ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں ہائوس فزیشن تھا اور خدا جھوٹ نہ بلوائے کوئ چھ یا سات مریض --ٹی ی مننجائٹس--کے میرے وارڈ میں تھے ایک دس گیارہ برس کا لڑکا بھی تھا جو ٹھِک تو ہو گیا تھا مگر اپنی بینائ کھو بیٹھا تھا -ا بھی وارڈ میں دوائیاں لے رہا تھا مگر بہتر ہو چکا تھا۔ نرس کے ساتھ ساتھ وہ بھی آ جاتا تھا جب میں کوئ  لمبر پنکچر کرنے لگتا اور اپنی نئ نئ سیکھی ہوئ میڈیکل ٹرمینالوجی بول کر خوش ہوتا تھا۔ چونکہ میں نرس کو کہا کرتا تھا مریض کی پوزیشن ٹھیک کرو تو وہ نرس کو یہ کہا کرتا سسٹر صاحبہ پوزیشن ٹھیک کریں ڈاکٹر صاحب کو لمبر پنکچر میں گڑ بڑ نہ ہو
 جب کوئ مریض دم توڑنے کے وقت پر ہوتا تو بیرے کو آواز لگاتا آکسیجن سلنڈر لے آئو
 ہم سب اس کی باتوں سے محظوظ ہوتے - بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والا بہت پیارا بچّہ تھا
نہ معلوم ان دنوں کیوں اتنے مریض اس خطرناک مرض والے آ داخل ہوءے تھے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, November 9, 2010

علّامہ اقبال ر ح

مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج یوم اقبال ہے بھائ افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے معلوم ہوا   مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں ۹ نومبر کو چھٹی بنا دی گئ ہے


 -بھت چھٹیان بن جاتی ہیں مگر ان شخصیات کی یاد بھی بہت ضروری ہے ورنہ انہیں کون جانے گا نئ پود میں سے
علامہ کی شخصیت بہت بھاری ہے قائد اعظم کی شخصیت سے بھی زیادہ میرا خیال ہے کہ پاکستان کے متعلّق جاننے والے لوگوں کو ان دو حضرات کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہئیے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/

Tuesday, October 26, 2010

طلاق کیسے دینی چاپیئے

 سب سے پہلے تو میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں کہ یہ میں کیا لکھنے جا رہا ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالےا نے اس کی-- غیر پسندیدہ سہی مگر-- اجازت تو دے رکّھی ہے دوسرے یہ کہ طلاق دینے میں مسلمان آدمی کبھی جلدی کرتے ہیں اور عموما" غلط طلاق دیتے ہیں اب اس کا مسئلہ اس لیئے بن جاتا ہے کہ طلاق پھر بھی واقع ہو جاتی ہے کہ اگر آپ کھیل کھیل مین یا مذاقا" بھی اپنی بیگم کو کہیں کہ میں نے طلاق دی تو وہ ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے چنانچہ اس سے یہ بخوبی معلوم ہو گیا کہ طلاق کا لفظ کھیل نہیں ہے
 اب فرض کیجے کہ طلاق کی نوبت پہنچ چکی ہے اور طلاق دینی ضروری ہو گئی ہے تو اس کا طریقہ جو شرع سکھاتی ہے میں اس کا اظہار کرنا چاہ رہا ہوں اس لئے نہیں کہ خدا نخواستہ آپ کو کوئی ترغیب دے رہا ہوں میری عمر اب ستتّر برس ہو چکی اور میں نے یہ عمل کئی بار دیکھا ہے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں اور اکثر لڑائی جھگڑا ہوتا دیکھا ہے وغیرہ اور آپ بھی اس سے واقف ہوں گے اگر تو کوئی صاحب کسی عالم سے پوچھ کر دیں تو بات ٹھیک رہتی ہے ورنہ مشکل ہو جاتا ہے
 میں نے تین طلاق کا مسئلہ اپنے انگریزی بلاگ میں لکھا ہے جو آپ وہاں دیکھ سکتے ہیں
Ibn Umar RA narrated:
Rasool-ul-Allah SAWS said,
"Among the halal things the most despised by God is divorce" Abu Dawood and Ibn Majah, considered it saheeh. I have hesitated about writing for a long time and on the other hand I have wanted to write about it for a long time. Yes, I come across this subject every now and again and always I find that we are always making mistakes because of lack of knowledge about this subject.;Generally the notion exists that a Muslim should say three talaqs when divorcing and this is utterly wrong.
From Mahmood Ibn Labeed RA, who said:Rasool-ul-Allah was informed that someone divorced his wife saying three times Talaq in one sitting. He got furious and stood up to say--Are people playing with the Book of Allah while I am still alive amongst you?--On that one man stood up and said--Shall I not kill him Ya Rasool-ul-Allah ?
Well I will be writing more about this before I write the Hadeeth that advises the proper way of divorcing (one time and three times)
 From the above hadeeth of Ibn Labeed what is apparent is that it is haram (prohibited) to say three times divorce in one sitting. However here it does not indicate whether this was considered ONE talaq or was considered three talaq about which the Qur'an Says
"A divorce is permissible only twice; after that the parties should either hold together on equitable terms or separate with kindness; It is not lawful for you (men) to take back any of your gifts (from your wives) except when both parties fear that they would be unable to keep the limits ordained by Allah..........." (Aya 229
"So, if a husband divorces his wife (Irrevocably; that is third time),He cannot after that remarry her until after she married another husband and he divorced her.   .........." (Aya 230--of sura Baqara)
This is the "three talaq" which is allowed by Allah (though not liked) that is one and remarry her, then second and remarry her and THEN the third time pronouncing the final or irrevocable talaq.
So pronouncing three talaqs in one sitting is prohibited but ACCEPTED as the final irrevocable talaq which makes a husband and wife to get married for the fourth time ONLY IF that wife has been married and divorced by ANOTHER HUSBAND. (Or if he dies) This is called "halala" (if planned for the purpose of remarrying the same wife for the fourth time) and is very much despised, not allowed if that is "arranged" by the man for his 4th timeThis particular question was admirably dealt with in the old Indian Movie called "Nikah" (Starring Raj Babbar)
 There are two positions about the three talaqs pronounced in one sitting, one of which is accepted as correct the other as not correct according to ( my thinking) ALL FOUR IMAMS as well as many well-known Sahaba and their followers and the followers of the followers.(Taba' taabieen)
 Those who call themselves "ahl-hadeeth" or call themselves Ghair muqallad" (Not following ANY IMAM) and also Shia- consider it wrong to accept the three talaqs as final irrevocable talaq necessitating a halala but are of the opinion that such 'three talaqs" pronounced in one sitting equal to only one talaq.
. Let me first state the position of all four Imams which is based on sunnah and Ijama'a. How that Ijam'a came into being requires another note so will write next time insha-Allah. I am hoping that so far what has been written is clearly understandable but would answer any questions
 اس سے پہلے دو اور پوسٹ ہیں مجھے کلک کرنے والا طریقہ ابھی نہیں آتا معذور ہوں لیکن یہ ہے کہ تین طلاق کا زبان سے نکالنا اچّھا نہیں کسی صورت میں بھی اس سے پرہیز ہی کرنا بہتر ہے ہر حال مین
اسے طلاق مغلّظہ کہا گیا ہے۔
سب سے بہتے طریقہ طلاق دینے کا یوں بتایا گیا ہے
 بیوی جس کو ابھی مہینہ آتا ہے اس کے مہینے ختم ہونے پر جب وہ طاھرہ ہو چکی ہو اور اس کے ساتھ مرد نے ہمبستری نہیں کی ہو اس وقت اسے ایک طلاق دی جائے
 "میں نے تمھیں طلاق دی"
 اس کے بعد بیوی جب تین  مہینے گزر کر جائیں اور  جس روزچوتھا  مہینہ شروع کرے گی تو عدت پوری ہونے پر طلاق مکمل ہوگی

 اگر خون نہیں آتا تو تین ماہ مکمل ہونے پر عدت ختم ہوگی