Sunday, August 19, 2012

عید مبارک

 دو شفٹون میں پڑھی گئ
 جگہ بڑی نہ مل سکی۔ پہلی شفت میں ساڑھے تین ھزار کے قریب اور دوسری میں پانچ ہزار کے قریب مسلمان تھے
 اب ماشا اللہ بڑے شہروں میں ایسے ہی عید ہوتی ہے پھر ہم عید لنچ کے لئے اکٹھے ہوئے بچوں کا پروگرام اچھا تھا  ہمارے اپنے دونوں نہیں تھے اور نہ ہی نواسے پوتے ان کے بغیر بھلا ہم دونوں بوڑھے میاں بیوی کیا کر سکتے تھے آرام کیا اب کل سے شوّال کے روزے شروع کر دیں گے



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Thursday, August 2, 2012

نقلی دوائی کی فروخت پاکستان میں

 ِہ کوئ نئ بات نہیں کہ پاکستان مین ایک عرصہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور عموما" لوگ اللہ تعالےا کے بھروسے ہی ٹھیک ہوتے ہیں لیکن ان بنانے والوں اور بیچنے والوں کے لئیے یہ سوچ کا مقام ہے آخر وہ بھی بیمار ہوتے ہیں اور ان کے بھی بیوی بچے بیمار ہوتے ہیں تو کیا وہ ایسی دوائیں اتعمال کرین گے؟ جہاں تک پاکستان میں اللہ کے سامنے جوابدہی کا معاملہ ہے اس کا تو ذکر ہی نہیں چھیڑنا چاہتا کیوںکہ کئ حضرات یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اس لئے اللہ تعالےا نے رعایت رکھی ہے ان پاکستانیوں سے کچھ نہیں پوچھا جائےگا یہ تو اللہ کے چہیتے ہین اور بس پاکستانی ہونے کے ناطے ہی سیدھے جنّت میں بھیج دئے جائیں گے
 دوسری ملحقہ خبر یہ پڑھی ہے کہ چیف جسٹس نے صوبائ افسروں کو دو ہفتے کا نوٹس دیا ہے کہ آسان اور سادہ فہم قانون بنا کر پیش کریں غیر قانونی  اعضاء کی پیوند کاری کے بارے میں۔ یہ نہایت خوش آئند بات لگتی ہے کیا اس پر خاطر خواہ عمل ہوگا؟ یہ دیکھنا باقی ہے۔ غیر قانونی اعضاء کی پیوندکاری ایک نہایت اہم مسئلہ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس کا یہ اقدام اس شخص کی انسان دوستی، ذہانت اور خدا خوفی کا مظہر ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com





Monday, May 28, 2012

SAUGOR--ساگر



  میں نے تصویر بڑی کرائی ہے مگر انگریزی کا لکھا ہوا ابھی بھی ٹھیک نظر نہیں آتا اوپر ہیندی میں  اور اس کے نیچے انگریزی میں لکھا ہے
ایس اے یو گی او آر - ساگر

 آج--  مئ ۲۸  کو-- ایسا ہوا کہ میں تصویر کو اتنا بڑا کر سکا ہوں کہ ساگر کے سپیلنگ نظر آ رہے ہیں یاد رہے کہ یہ تصویر  سن چھیاسی میں لی تھی
1986 

Friday, May 4, 2012

گرمیوں میں چائے


 اس میں کوئ شک نہیں کہ تصویر چھوٹی ہے مجھے یہ آرٹ اچھی طرح نہین آتا م
مگر جناب گرمیوں کے موسم میں آفٹر نون ٹی کا مزا لیتے ہوئے یہ تصویر لی گئی ہے میں غالبا" ایف ایس سی میں تھا چھٹیوں میں کوٹلے آیا ہوا تھا اور ذاہد میاں بھی آئے تھے جنھیں اس چائے کا شوق تھا
 اسمارٹ تو لگ رہا ہوں
 مقولہ ہے کہ
 گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Saturday, April 14, 2012

گائوں کے اسکول میں

  یہ تو درست ہے کہ میں بہت پرانی بات کر رہا ہوں مگر یوںہی خیال آیا۔
امریکہ میں رہتے ہوئے سکولوں کی کھیلیں دیکھتا ہوں ہر قسم کے فرسٹ کلاس گرائونڈ فٹ بال باسکٹ بال اور نہ جانے کیسے کیسے کھیلوں کے لئے سارے اسباب موجود اور بچّے کبھی یہ خیال بھی نہیں کرتے کہ یہ سب کہاں سے آتا ہے۔ میں اپنے گائوں کے سکول کا سنا رہا ہوں جو مڈل تھا اور ہائ ہو گیا اس وقت پی ٹی ماسٹر بھی آگئے اور پڑھنے لکھنے کے علاوہ کھیلوں کی طرف توجہ کی گئ مجھے یاد ہے کہ بڑا عجیب لگ رہا تھا کھیلوں کی طرف اتنا دھیان کیوں دیا جا رہا ہے خیر ایک والی بال اور نیٹ منگوایا گیا اور دو بڑے باںس کے کھمبے لگا دئے گئے اور باقاعدہ والی بال کھیل شروع ہو گیا میری یعنی سینئر کلاس میں ٹین ایجر اور بڑے جسم والے لڑکے تھے اور شوق سے کھیلنا چاہتے تھے مگر جس طریقہ سے اس نہائت مختصر سامان کا خیر مقدم کیا گیا تھا وہ نہیں بھولتا۔ غریب کے لئے کتنی بڑی نعمت تھی اور سارے بچّے خوش تھے اور احتیاط سے اس سامان کی حفاظت کرتے اب ککرالی ہائ سکول کی اپنی والی بال ٹیم تھی اور دوسرے سکولوں سے مقابلہ کرنا تھا پریکٹس باقاعدہ ہونے لگی



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, March 25, 2012

سرورق کی نئی تصویر

 ِہ تقریبا" ساڑھے تین سال کی عمر ہے
 شلوار قمیص چلتی تھی لیکن قمیص کے کالر سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھر کی سنگر مشین پر کپڑے تیار کئے گئے ہیں بڑی آپا اور چھوٹی آپا سلائی کی پشق کر لیتی تھیں اور ہم غریبوں کے لباس تیار ہو جاتے تھے اسی لئے میری بڑی بہنیں کہتی ہیں مجھے نئے کپڑے پہننے کا بہت شوق تھا
 'نئے نئے کاپلے' میری بچپن کی زبان میں ہے مگر مجھے یہ الفاظ یاد نہیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, March 21, 2012

۲۱ مارچ اور عمرہ کا بیان

 موسم بہار کا شروع آج کا دن سمجھا جاتا ہے
واقعی آس پاس کے پودوں درختوں وغیرہ میں کوںپلیں پھوٹتی نظر آرہی ہیں اور اس تبدیلی کا احساس دلا رہی ہیں خنکی میں ہلکی ہلکی گرمی آ رہی ہے۔
خیر میں تو ابھی حال میں ہی مکّہ المکرّمہ  اور مدینہ المنوّرہ کی سیر کرتا آیا ہوں جہاں موسم قدرے گرمی مائل تھا
زمزم کا حال اپنے انگریزی بلاگ میں لکھ چکا ہوں اچھا خاصا رش تھا ہم نے ایک ہفتہ گزارا صحن بھرا رہتاتھا اور طواف کم ہوتا نہیں ملا رکن یمانی کو اشارہ ہی کرتے رہے وہاں ہاتھ لگانے کے لیئے تقریبا" حجر اسود والا جمگھٹا تھا اور مجھے دھکے پسند نہیں نہ میری عمر اجازت دیتی ہے۔ مقام ابراہیم پہ بھی جمگھٹا رہتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ آپ جھانکنا چاہیں تو نہ کر سکیں مسلمان جوش میں حدود پہ قائم نہیں رہ سکتے۔ مقام ابراہیم پہ میں نے ایک عورت کو سجدہ کرتے دیکھا جو بجائے کعبہ کیطرف سجدہ کرنے کے مقام ابراہیم کو سجدہ کر رہی تھی اسی طرح چوںکہ ملتزم کی جگہ ہر وقت بھری رہتی ہے تو کعبہ کی ساری دیواروں پہ لوگ سر رکھے دعائیں کرتے رہتے ہیں حطیم میں ہم نہ جا سکے سعی کے لیئے وہیل چیئر کا سودا کرنا پڑتا ہے اس میں کوئی سٹینڈرد نہیں جیسا حلق یا قصر کے لئے ہے مانگنے والوں کا قصّہ پرانا ہے صرف اپاہج لوگ ہی دیکھے اور وہ بچّے تھے مجھے بتایا گیا کہ وہ بچے کی ٹہنی ایسے طریقے سے دہری کرکے باندھتے ہیں جیسے کٹی ہوئی ہو۔ لیکن اب اتنے زیادہ نہیں جتنے پہلے ہوا کرتے تھے زمزم لیجانے کی اجازت ہے لیکن اپنے گھرون کو یا دوسرے ملک کو نہیں لیجانے دیتے گورنمنٹ نے بند کردیا ہے زمزم دکانوں پر بھی نہیں ہے اب یہ بھی دیکھا کہ جوتے رکھنے کے لئے پلاسٹک کی تھیلیاں ملتی ہیں اپنی تھلیاں بھی لوگ لاتے ہیں مگر وہ ہوائی  یا انگوٹھے والی چپلوں کا رواج پرانا ہی ہے میں اپنی ہوائی چپل لیکر تنعیم مسجد گیا دو نفل پڑھ کے احرام کی عمرے کی نیت کی اور باہر نکلا تو مجھے اپنی چپل نہ ملی ایک اور چپل پہن کر مسجد حرام لے آیا اور وہاں چھوڑ دی یعنی ڈونیٹ کردی
 اس بات کا افسوس ہوا کہ اس وقت صحن میں عورتوں کو نماز کے لئے جگہ نہیں دی جاتی طواف کے لئے وہاں جانے کی اجازت ہے نئی اور ماڈرن عمارات وغیرہ سب نے مل کے خوبصورت جگہ بنا دی ہے مگر کعبہ پر اس بڑے برج-ہلٹن ٹاورز-  کا زیادہ اثر ہے کعبہ چھوٹا لگنے لگا ہے سعی کے لئے چار منزلیں بن گئی ہیں مگر اب صفا پہ چڑھ کر کعبہ نظر نہیں آتا میلین اخضرین پر دوڑنے سے مجھے پھر امّاں جی یاد آئیں اور وہ احساس ہوا کہ اللہ تعالےا نے ایک ماں کی بچے کے لئے بیچینی اضطراب اور تڑپ کو کیوں  عمرہ یا حج کاایک رکن بنا دیا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/