Monday, July 21, 2014

کالے خان

سب سے زیادہ جو 'مشہور' نام  ایس ٹونٹی میں رہا ہے وہ ہے
     کالے خان
ویسے وہ ہمارا  نوکر تھا مگر اس کی بےوقوفی کی حد تک باتیں حرکتیں ہمیں خوشدلی کا سامان  مہیا کرتی تھیں -  اسے ہر روز سمجھانا پڑتا تھا کہ ٹوتھ پیسٹ والی ٹیوب اور شیونگ کریم میں کیا فرق ہے اور وہ روزانہ وہی غلطی کر جاتا تھا
شیونگ کریم لانے کا کہو تو ٹوتھ پیسٹ لے آتا اور۔۔۔۔۔
 ایک بار ہم لوگ رات گھر پہیچے تو سیکھا ایک چھوٹا سا تالا لگا ہوا ہے ہم نے ایک اچھا اور بڑا سا تالا خرید کر لگایا تھا وہ غائب تھا۔  اب اندر پہیچ کر 
 کالے خان؟
 آیا جی
 پوچھا گیا کہ وہ بڑا تالا کیا ہوا تو بڑی معصومیت سے یہ جواب ملا
' کوئ لے جاسی نا'
مطلب یہ کہ وہ اچھا تالا کوئ چور لے جائے گا اس لئے اتار کر دوسرا لگا دیا

 ہم لوگ پچھلے صحن میں گپ شپ لگا رہے تھے کالے خان کو پلنگ اٹھا کر سامنے والے برامدے میں لے جانے کو کہا گیا
 اب وہ کھڑا سوچ رہا ہے اور ہم سب انتظار کر رہے ہیں پھر اس سے نہ رہا گیا جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا
 " جی کس طرحاں لے کے جاواں'
 اب اسے بتانے کے لئے ہم سب کے سب بول رہے تھے کوِئ کہ رہا تھا یوں کرو کوئ کہتاتھا یوں کرو اور وہ  ہونّق بنا کھڑا سن رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہں آرہا تھا کیا کرے
 پھر جب سب اپنی خوشدلی مکمل کر چکے تو سیدھی بات بتائ گئ
 اس کی سادگی/بیوقوفی کو ہم نے سٹینڈرڈ بنا رکھا تھا جب کسی اور کا ذکر کرنا ہوتا تو  کہتے فلاں دس فیصد یا چالیس فیصد کالے خاں ہے
 اس کے ساتھ ساتھ اسکی کچھ عادتیں عجیب تھین جنہیں محسوس کیا جا سکتا ہے

  ہم لوگ رات کو فلم دیکھ کر کھانے کو دیر سے کھاتے کالے خان ہمیں کھلانے کے بعد خود کھاتا پھر سوتا تھا
 ان چند جھلکیوں سے پتہ چل جاتا ہے کالے خان کیا چیز تھا اور اسے ہم سب کیوں اتنا چاہتے تھے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Monday, July 7, 2014

پشاور کے میڈیکل کالج میں

                                   پیشاور میڈیکل کالج   
  جیسا کہ کسی کالج میں بھی ہوتا ہے سب کچھ ویسا ہی میڈیکل کالج میں بھی ہوتا ہے
 آخر سب نوجوانوں کی وجہ سے ہی ہے 'پروفیسر لوگ' تو  ان کی وجہ سے مزے اٹھاتے ہیں چنانچہ سالانہ پروگرام جیسے کالج کی پکنک یا سالانہ کھیلیں اور ڈرامے وغیرہ سب انھیں کے لئے بنتے ہیں اور وہی اس کے پروگرام تیار کرتے ہیں ہم خود ڈراموں اور میوزک پروگراموں میں بطور سٹاف حصہ لیتے رہے ان کی بڑی اچھی یادیں محفوظ ہیں- یعنی ذہن میں کالج ابھی نیا تھا جب ہم نے وہاں کام شروع کیا تھا ابھی پہلی کلاس نکلنے والی تھی تو ان بچوں کو وہ مشکل درپیش تھی کہ ڈاکٹر تو بن جائیں گے لیکن میڈیکل کونسل نے تسلیم ہی نہ کیا تو کیا کریں گے ان کو   یہ الگ کام شروع کرنا پڑا تاکہ  ریکگنائز ہو جائے
 بہت سے لڑکے اور لڑکیاں جو ہمارے سٹوڈنٹ تھے یاد ہیں کبھی کبھی کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو یادیں تازہ ہو جاتی ہیں تمام کا ذکر تو نہیں کیا جا سکتا مگر ایک ڈرامہ کے متعلق ضرور لکھنا چاہتا ہوں
 ایک 'سکٹ' ہم نے سٹاف  کی طرف سے تیا کیا تھا جس میں کچھ مضحکہ خیز کچھ سبق آموز سٹوڈنٹ-سٹاف کی باتیں لکھی گئی تھیں اسے ہم پانچ  لیکچراروں نے بڑی خوبی سے پیش کیا جس کی پرایکٹس ہر شام 'ایس ٹونٹی' میں ہوتی تھی ہم نے اس 'پریکٹس کو بھی اپنے لئے بہت مزیدار پایا ہمارے ایک صاحب داڑھی رکھتے تھے ان کو مریض کا  حصہ دیا گیا تھا اور انھیں کے ڈائیلاگ مضحکہ خیز تھے اور وہ بڑے ماسٹرلی طریقے سے ادا کئے گئے بٰعد میں ہمیں پتہ چلا کہ کچھ لوگ جو ہمیں جانتے نہیں تھے کہ رہے تھے کہ اس مریض کی داڑھی تو بلکل اصلی لگتی تھی
 وہ 'سکٹ' ابھی تک میرے پاس لکھا پڑا ہے اس کے علاوہ میں میوزک ڈاءریکٹر بھی تھا سٹاف کی طرف سے ان بچوں اور بچیوں کو 'میری' سپرویژن' تھی پشاور میں لڑکے اور لڑکیوں کو ابھی ایسی کھلے اجازت نہیں تھی اس لڑکیاں کچھ ہچکھچاہٹ سے آتی تھین کہ بعد میں پروفیسر صاحب کلاس میں 'رکارڈ لگائیں گے
 -----ایک سٹوڈنت یاد آتا ہے جو بہت اچھی باںسری بجاتا تھا جس کمپٹیشن میں بھی وہ گیا پہلا انعام لے کے آیا خصوصا' جب وہ اس کا نام یاد نہیں تھا ایک اور صاحب سے بات ہوئ تو معلوم ہوا اور یاد آیا- اس کا نام اقبال چغتائ تھا  اب نہ معلوم کہاں ہوگا------راگ پہاڑی کی دھن شروع کرتا تھا تو حال پہ سنّاٹا چھا جاتا تھا
پشاور بھی لکھتے ہیں پیشاور بھی لیکن پشتو میں  پخاور لکھتے ہیں یا بولتے ہیں لکھنے میں خ نہیں "خیں' ہوتی ہے اس لئے کہ جنوبی علاقوں میں خین کو شین بلاتے ہیں تو جب میں چمن میں تھا تو اس فرق کا پتہ چلا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, June 25, 2014

ہماری منھ بولی بہنیں

نام لئے بغیر ہم نے اپنی منھ بولی بہنوں کا تعارف تو کرا دیا ہے بڑی جو وہاں سینئر لیکچرار تھین انھیں ہم آپا کہتے تھے ان سے چھوٹی امریکہ سے واپس آئیں تو 'امّی' کو تار بھیجی کہ  -میرے لئے دال پکا کے رکھیں''  اس کے بعد یوں ہوا کہ آپا کی بات لاء کالج کے وائس پرنسیپل سے چل نکلی امّی گھر میں تو تھین مگر لڑکیوں کے والد ایک اعلےا افسر مشرقی پاکستان میں مقیم تھے ان کے آنے کا امکان نہیں تھا غالبا" دوسری بیگم وہاں تھیں خیر اب ہم نے امّی سے بات کی کہ آخر ہم لوگ ان کے بھائ ہیں تو کیا حرج ہے ہم آپ کی طرف سے پرنسیپل صاحب سے مل آئیں اور آپ بات پکّی کر لیں آپا بھی مان گئیں چنانچہ ہم چاروں نے حق ہمسائگی اور حق برادرانہ احسن طریقے سے نبھایا شادی کی تاریخ مقرر ہوئ تو ساراا نتظام بھی ہم لوگوں نے ہی کیا--دراصل ہمارے سٹوڈنٹ ہمیں بہت چاہتے تھے خصوصا' جن کا لگائو موسیقی سے تھا وہ سب بہت تندہی سے سارے انتظامات کے لئے کام کرتے رہے۔ آپا کو انتظار تھا کہ شائد ان کے والد تشریف لائیں مگر وہ نہ آئے اور آپا بہت روتی رہیں ہم لوگ بھی دل ہی دل میں ان کے والد کو کوستے رہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

ایس ٹونٹی کے پڑوسی

 ہمارے دائیں جانب کے بنگلے میں ایک صاھب اکیلے تھے اور یونیورسٹی میں سینئر لیکچرار تھے جو کہ 'ایس' ٹائپ بنگلوں سے ظاہر ہے وہ اچھے ہٹّے کٹّے مضبوط جسم کے مالک تھے اور جب چلتے تھے تو کچھ ایسا لگتا تھا پہلوانی کر کے آ رہے ہیں آپ کی گردن بھی اچھے سائز کی تھی تو ہم انھیں 'گوریلا" کہتے تھے اگرچہ بات چیت میں وہ شائستہ اور نفیس عادتوں کے مالک تھے
 اسی طرح دوسری طرف کے بنگلے میں کچھ 'عورتیں' رہتی تھین ان میں ایک ابھی اتنی چھوٹی تھی کہ اسے ہم یارڈ میں تتلیوں کے پیچھے بھاگتے دیکھا کرتے تھے اس سے بڑی انگریزی کے ایم اے کی طالبہ تھین اور اس سے بڑی امریکہ گئ ہوئ تھیں ان سے بڑی  امریکہ سے واپس آ چکی تھین اور وہان ایک کالج میں سینئر لیکچرار تھین اور ان کی امّاں جان جو کہ دل کی مریضہ تھین۔
 ان کو ہم اپنی موںھ بولی بہنیں کہتے تھے اس سے اگلے بنگلے میں ایک لیکچرار تھے اب یہ نہیں معلوم کہاں مگر وہ عمر میں زیادہ تھے اور کوٹ ٹائ وغیرہ کے ساتھ شلوار اور پگڑی ہوتی تھی بڑے مزے کی باتیں کیا کرتے تھے اور پرانے   لاہور کے قصے سناتے تھے جب وہاں نئ نئ بجلی آئ تھی ان کے ہاں جاکر چائ وغیرہ پینے کا مزا یوں رہتا تھا کہ وہ فرماتے تھے
"آپ لوگ ائیں تو اس کے ساتھ کھانے کی چیزیں ہمیں بھی مل جاتی ہیں ورنہ تو گھر میں مارشل لاء لگا ہوتا ہے'
 ہماری منھ بولی بہنیں بھی ہمیں کھانے پہ بلایا کرتی تھیں 
ان کے پیچھے آر ٹائپ بنگلے تھے جہاں انگلش کے 'ریڈر' یعنی اسسٹنٹ پروفیسر تھے وہ بھی اسی طرح ملا کرتے ان کی بیگم نہائت سلیقے والی تھین پھر ان کے  پیچھے 'پی ٹائپ' بنگلون کی قطار تھی
یعنی پروفیسروں کے بنگلے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, June 3, 2014

ایس ٹوینٹی

                                ایس ٹونٹی  
 اس مختصر بنگلے کا تعارف پچھلی تحریر میں کر چکا ہوں اور اس کے مکینوں سے بھی آپ کو باخبر کیا ہے
 اب باقی کا حال سنئے ستمبر کے اواخر میں یہ غریب ہی پہلا مکین ہوا اور جب تک باقی حضرات آتے تقریبا" تمام انتظامات یعنی رہنے سہنے کے مکمّل ہو گئے بنگلے میں کئ چیزوں کی کمی تھی جس کی 'شکایت' کرنے کے بجائے ہم نے کالج کے بڑے 'افسروں' مع پرنسپل کو ایک دعوے بھیجی اور کھانے و موسیقی کا بندوبست کیا موسیقی کی کئ وجوہات تھین اوّل" یہ کہ ہم اس کے بہت شوقین تھے اور مجھےکچھ معمولی سی گانےبجانے کی مہارت سی بھی حاصل تھی عین اس وقت میرے جاننے والوں میں ایک نہایت اچھے گلوکار اور ان کے ہمراہ طبلے اورہارمونیم والے بھی موجود تھے اس کے ساتھ ساتھ ہمارے چند سٹوڈنٹ بھِی ہمارے ساتھ آ ملے کہ ان میں ایک موسیقی کا شائق اعلےا درجہ کا بانسری نواز بھی تھا تو ہم نے ان سب کا فائدہ یوں اٹھایا کہ میرے جنم دن یا سالگرہ کا بہانہ لیکر پروگرام بنالیا اور اس ملی جلی محفل میں بڑے افسروں کے سامنے بنگلے کی خستہ حالت بھی ظاہر کر دی گئ اور ان کا تعاون ٹھیک کرنے کے لئے حاصل ہوگیا
بس اس کے بعد پشاور میں کوئ ایسی موسیقی محفل نہیں ہوتی تھی جس میں ہمین دعوت نہ بھیجی گئ ہو پاکستان ائر فورس کی ڈرامیٹک کلب سے جہاں وہ میرے جاننے وال موجود تھے ہمارے مضبوط تعلقات قائم ہو گئے
 اس کے بعد میں مزید ایس ٹونٹی کے پڑوسیوں کے متعلق تحریر کروںگا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Monday, June 2, 2014

پیشاور کی یادیں

میں نے ساگر شہر میں اپنی زندگی کے پہلے دس سال گزارے پھرچار سال گائوں یعنی کوٹلہ ککرالی میں اس کے بعد دس سال لاہور میں۔ پاکستان چھوڑنے سے پہلے تین سال پیشاور میں گزارے
 پاکستان کی یادیں اب پرانی ہوچلی ہیں ہندوستان یعنی ساگر کی یادوں کو کچھ لکھ چکا ہوں اور کچھ کوٹلہ ککرالی کی کچھ لاہور کی جو یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران وقت گزرا ان کی داستان تھی
 آج سوچا کہ پشاور کی یادوں کو تازہ کروں بھت دلگداز اور دلفریب واقعات ہیں اورمیرے دل کو تازگی بخشنے کا ایک مستقل ذریعہ ہیں اوّل تو یہ کہ میڈیکل کالج سے نکل کر یہ پہلی نوکری تھی مگر یہ بھی میڈیکل کالج تھا اور استادوں اور طلباء کے گروپوں سے واسطہ رہا اس لئے محسوس ہی نہ ہوا کہ ہم کالج چھوڑ چکے ہیں سٹوڈنٹ طبقہ میں ہماری ایک عزّت تھی اور جب ہمیں 'سر' کہ کر پکارا جاتا تھا تو دل کو ایک گونہ تسکین سی ملتی تھی سب سے پہلے میں 'ایس ٹونٹی' کے متعلّق لکھنا چاہتا ہوں
یہ ایک یونیورسٹی کی نوکری تھی یعنی ہم پشاور یونیورسٹی کے 'نوکر' تھے میڈیکل کالج --خیبر میڈیکل کالج- نیا بنا تھا مجھےفزیالوجی ڈپارٹمنٹ میں بطور ڈیمانسٹریٹر لیا گیا تھا اور گریڈ 'سینئر لیکچرار کا تھا رہائش کے لئے یونیورٹی میں نئ آبادی بنی تھی جس میں 'بنگلے' تھے 'جےٹائپ' جونئر لیکچرر کے  'ایس ٹائپ' سینئر لیکچرر' کے 'آر ٹائپ' ریڈر یعنی اسسٹنٹ پروفیسر کے اور 'پی ٹاءپ' پروفیسروں کے لئے بنائے گئے تھے مجھے مع تین اور ساتھیوں کے 'ایس ٹونٹی' یعنی بیس نمبر بنگلہ الاٹ ہئوا تھا یہ اسی کی داستاں ہے میرے ساتھی دو اناٹومی کے ایک فزیالوجی اور پھر ایک کی شادی ہونے پر ان کی جگہ ایک پتھالوجی کے ڈیمانسٹریٹر تھے جو ہمارے بنگلے مین آگئے چار کمرے تھے یعنی بیڈروم ایک بیٹھک ایک غسلخانہ ایک باورچی خانہ اور ایک 'سروینٹ کوارٹر' بھی تھا ایک باورچی اور ایک کام کرنے والا نوکر تھا میرے ساتھی سب ایک ہی قسم کی طبیعت رکھتے تھےایک دو سالوں کے فرق مین ڈاکٹر بنے تھے ابھی 'کالج کا الّھڑ پنا' سب میں موجود تھا رات گئے تک گپ شپ رہتی تھی زور زور سے قہقہے لگانا عام تھا آس پاس کے بنگلوں والے شکایت نہیں کرتے تھے کیوںکہ ہم نے سب سے دوستی قائم کر لی تھی میرے بنگالی ہم پیشہ کے جانے کے بعد جب مجھے یہ بنگلہ الاٹ ہئوا تو اس میں سب ہی میری طرح غیر شادی شدہ ڈاکٹررہ رہے تھے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Thursday, May 15, 2014

جنگوں کے ہیرو

دنیا کی تاریخ میں اگر آپ غور کریں تو ہمیشہ آپ کو ایسے بڑے لوگوں کے نام ملیں گے جنھوں نے جنگوں میں نمایاں شہرت حاصل کی اس بحث کے قطع نظر کہ آدمیوں کو مارنے میں مہارت حاصل کر کے ہر جرنیل اور سپہ سالار کی خواہش اور ترکیب یہی ہوتی ہے کہ کس طریقے سے دشمن کو زیداہ سے زیادہ نقصان کم سے کم وقت میں پنہچایا جائے اسی میں ان کی ناموری پوشیدہ ہے
 مثالیں تو بہت سی ہیں صرف ایک دو لکھ رہا ہوں جنرل آیزنآور دوسری جنگ عظیم کے فاتحان عظیم میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے اپنے ملک مین یعنی امریکہ میں ان کو نہایت عزت اور  ہردلعزیزی کا مقام حاصل ہے دیکھا جائے تو ان کا امریکہ کے رئیس الاعظم منتخب ہونے میں اسی 'جرنیلی' قوت کا دخل ہے لیکن جب آپ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی اور انسانیت سوز سفّاکی پہ نظر ڈالیں تو آپ کے دل دہل جاتے ہیں تاریخ یہ بھول جاتی ہے کون اشخاص اس ہولناک تباہی کے ذمہ دار ہیں اسی طرح جنرل پیٹن کا قصہ ہے جو بد تمیزی بدکلامی میں لاثانی ہیں انہیں یاد کیا جاتا ہے میں نے سنا تھا کہ جب ان کے نام پر فلم
                                           بنائی گئ اور اس میں جارج
سی سکاٹ کو ایکٹنگ پر سراہا گیا جو اس نے جنرل پیٹن کے رول میں ادا کی تھی تو اس نے آسکر لینے سے انکار کر دیا
    میں اس فلسفے کو نظر انداز کر رہا ہوں جس میں آدمی لڑنے پہ مجبور ہو جاتا ہے لیکن آپ نے دیکھا تھا کہ جب عراقی
افواج شکست سے دو چار ہوِ تھیں تو بھاگتی ہوِ فوج کے تعاقب میں باوجود اس کے کہ شکست تسلیم کی جا چکی تھی
گنرل شوارزکاف نے جان ببوجھ کر اپنے ٹینکوں سے نہتے فوجیوں پر گولے چھوڑے اور ہمیں ٹی وی پر شان سے اکڑ کر بتایا کہ یہ نہایت خونی حملے ہوں گے یہ ایسے جرنیلوں کا طرّہئ امتیاز شمار ہوتا ہے
 ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی گِ ہے جس میں عراقی لوگوں کی تباہی جنگ کے علاوہ جو انسانی ظلم دوسری طریقوں سے کئے گئے ہیں جنھین پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جیسے پرانے زامنے میں بادشاہ اور دوسرے حاکم جانی اور مالی طور پر اپنی رعایا اور مفتوحہ علاقوں کے لوگوں پر جو ظلم و ستم ڈھایا کرتے تھے اب بھی وہی طریقے انسانی تہذیب میں شامل ہیں اگرچہ موجودہ انسانی تہذیب کو اعلےا اخلاقی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان ابھی تک وہی اقدار لئے ہوئے ہےجو قابیل نے ہابیل کے قتل سے شروع کی تھیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/