Tuesday, December 23, 2014

محبّت اور مذھب کا اختلاف

Please visit my English blog at Saugoree

میرے ایک عزیز دوست جگ بیتی او آپ بیتی  'کہانیاں' لکھتے ہیں   میں اکثر ان سے متاثّر ہوتا ہوں کبھی کبھی مجھے بھی ایسا لکھنے کا خیال آتا ہے
   عرصہ ہوا میں اس وقت انگلستان میں کام کر رہا تھا اس وقت وہاں ہسپتالوں کی گروپینگ اور قسم کی تھی خیر ہمارے گرپ کے تمام ہندوستانی اور پاکستانی کسی اتوار کو اکٹّے ہو جاتے اور خوب محفل جمتی چنانچہ اس طرح ہم سب ایک دوسرے سے واقف ہوجاتے تھے اسی زمانے کا ذکر ہے ہمارے گروپ میں ایک نئ ہندوساتی ہائوس فزیشن آئ بڑی سیدھی سادی لڑکی تھی ہمارے سینئر لڑکوں میں ایک صاحب جو مسلمان تھے انھیں وہ لڑکی پسند آئ۔ وہ بھی سیدھے سادھے مسلمان پاکستانی تھے لڑکی کی ایک بات یاد ہے کہ اس کے وارڈ میں ایک سٹروک کا مریض داخل ہوا بچاری پریشان تھی کیا کرے کس طرح اس کی مدد کرے ساری رات اس کے سرہانے بیٹھی سوچتی رہی اور جو اس کی ضروریات تھی نرس کی طرح کرتی رہی  - اب ممکن ہے اس میں کچھ  'ذیب داستاں کے لئے کچھ بڑھا' بھی دیا گیا ہو مگر قارئین کو اس کی سادگی سمجھ آگئ ہو گی  ہوتے ہوتے ان دونوں میں - یعنی جن پاکستانی صاحب کا ذکر کیا ہے ان میں باقاعدہ محبت ہوگئ شادی کی بات چلی  دہلی میں اس کے گھر والے نہ مانے اور پاکستان میں ان کے گھر والے تیار نہ ہوئے اب یہ مجھے یاد نہیں کہ لڑکی نے ہندو سے مسلمان ہونے کا ذکر کیا تھا یا نہیں
 ممکن ہے اور بھی ایسے وقعات ہوتے رہتے ہیں ان میں کچھ اور اسباب ہوتے ہوں لیکن اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ محبت کو قربان کر دیا جاتا ہے میں یہ ان مغربی ممالک کی بات کر رہا ہوں اور پڑھے لکھے ہوشمند انسانوں کا لکھ رہا ہوں پاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا ذکر نہیں کر رہا ہوں

Saturday, December 6, 2014

داڑھی کا فیشن یا رواج

جب ہم کالج میں تھے تو کلین شیو کا رواج تھا
لڑکے شیو 'چھوڑ' دیتے جب امتحان سر پہ آتا یا جب ظاہر کرنا ہو کہ  'ڈیپریشن' ہے یا محبت ہو گئ ہے اور یہ فلموں سے ہماری تہژیب  میں داخل ہوتی ہے چنانچہ ہماری جوانی کے زمانے ہیرو کلین شیو ہوتا تھا اور داڑھی تب بڑھاتا تھا جب ہیروئن سے ناراضگی ہو یا کوئ اور مشکل آ پڑی ہو جب 'فراق' کے گانے کا موقعہ ہو وغیرہ وغیرہ اب آجکل یہ زمانہ آیا ہے کہ ہیرو کی شیو نہیں کی ہوتی اور جب 'مشکل' آئ ہو تو تھوڑا سا مزید داڑھی کو بڑھا دیا جاتا ہے یعنی اب ہیروئن جب کیس کرتی ہے تو ہیرو کی شیو نہیں ہوئ ہوتی یہ رواج اب ایسا ہو گیا ہے کہ جوان لوگ باقاعدہ دارھی ایسی بناتے ہیں جیسے شیو نہیں کی ہوئ
وقت وقت کی بات ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, November 25, 2014

مشہور گانے اور راگ درباری

میرے بہت سے دلپسند گانوں کی دھنیں راگ درباری سے نکالی ہوئ ہیں
 سب سے زیادہ مشہور وہ بھجن ہے جس کو فلم بیجو باورا میں رفی مرحوم نے گایا اور اسے ترتیب دینے والے نوشاد مرحوم ہیں نوشاد صاحب نے فلمی دنیا میں پکّے اور سیمی کلاسیکل گانوں کو جو رواج دیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے اگرچہ اوردوسرے ڈائریکٹر بھی اس کام میں شامل ہیں جیسے کھیم چند پرکاش یا سی رامچندر انل بسواس وغیرہ
 رفی صاحب کی ادائگی اس میں چار چاند لگا دیتی ہے
 جی مین  "او دنیا کے رکھوالے"  کی بات ہی کر رہا ہوں
 دوسرے گانوں کا لکھنے سے پہلے میں ایک اور بھجن اور ایک غزل کے متعلق کچھ لکھوںگا
 یہ بھجن ساحر لدھیانوی  -مسلمان-- کا لکھا ہوا ہے آشا بھونسلے نے کمال خوبی اور لگن سے پیش کیا ہے اور ساتھ موسیقی میں زیادہ اس کے ردھم پر زور دیا گیا ہے جو کہ عام بھجنوں کی ایک خاص خوبی ہے موسیقی روی صاحب کی ہے ساحر صاحب کے الفاظ نہایت رسیلے اور خود اپنا ردھم رکھتے ہیں اور نہایت پر معنی ہیں میں نے مسلمان اسلئے لکھا ہے کیوںکہ ایک حدیث شریف کا مطلب بھی یہی ہے
پہلے اس بھجن کے بول سنئے= "تورا من درپن کہلائے بھلے برے سارے کرموں کو دیکھے اور دکھائے تورا من درپن کہلائے
 وابسا بن معبد رضی اللہ عنہ نے آپ صل اللہ علیہ وسلم سے  نیکی کے متعلق پوچھا تو فرمایا
"اپنے دل سے پوچھو نیکی وہ ہے جس سے دل کو سکوں ائے اور بدی وہ ہے جو نفس کو جھنجھوڑے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "
 میں پوری حدیث نہیں لکھ رہا صرف اتنا درج کیا ہے جو موضوع کے متعلق ہے  اب اس سے آپ اندازہ لگا لیں ممکن ہے ساحر صاحب حادیث سے واقف نہ ہوں مگر یہ ایک عام سچائ بھی تو ہے اور آپ سارے بھجن کو غور سے سنیں تو سر دھنتے رہیں گے یہ درباری کا ہلکا پھلکا انداز بھی ہے
 تیسرا  گانا ایک عمدہ غزل ہے جو نور جہاں نے اپنی خاص آواز اور انداز میں ادا کی ہے
 اور اس راگ کی دھن کو مزید اجاگر کرتی ہے اور یہ  سن ۴۵ کی نور جہاں ہیں حفیظ صاحب ایسے مشہور موسیقار تو نہیں ہیں مگر اس راگ کی دھن کی ادائیگی کے لئے انھوں نے اس وقت کی بہتریں کلاکار اور مسحور کن آواز کی مالک کا سہارا لیا ہے اور باقی بیک گرائونڈ موسیقی کو مدھم کر دیا اور طبلے/دھولکی کو چھوڑ ہی دیا ہے
 "بلبلو مت رو یہاں آںسو بہانا ہے منع ان قفس کے قیدیوں کو غل مچانا ہے منع
 پوری غزل کے الفاظ بھی اسی طرح دل کو پکڑتے ہیں
 دوسرے اور بھی بہت سے گیت اس راگ سے اپنی دھن لیتے ہیں  مثال کے طور پر
 دل جلتا ہے تو جلنے دے
  تو پیار کا ساگر ہے
 تیری دنیا میں دل لگتا نہیں
 مجھے تم سے کچھ بھی نہ چاہئے

وغیرہ سارے میری پسند کے گیت ہیں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Thursday, October 9, 2014

خوشتر آں باشد کہ - - - - -

       خوشتر آں باشد کہ سرِّ دلبراں
گفتہ آید در حدیث دیگراں

  " بہتر یہ ہے کہ دلپسند لوگوں کے راز کو کسی دوسرے کی تمثیل میں کہا جائے
مختصرا" یہی مطلب بیان کر سکتا ہوں مقصد اس شعر کا یہ ہے کہ جن لوگوں کو آپ پسند کرتے ہوں جن کی آپ بہت عزّت کرتے ہوں اگر ان کی کوئ بات  جو مونھ پر کہتے ہوئے اچھی نہ لگتی ہو اس کے بیان کے لئے کوئ ایسا بیان ہو جس سے بات سمجھائ بھی جائے اور کسی تیسرے شخص کے نام پر بیان کی جائے
اس کی ایک مثال پرانے زمانے کی یوں دی گئ ہے
          ایک بار کہیں وضو کرتے ہوئے حسن اور حسین رضی اللہ عنہ جب وہ چھوٹے تھے کسی بڑے آدمی کو دیکھا جو کچھ غلطی کر رہا تھا تو ان دونوں نے اسے صحیح طریقہ بتانے کے لئے یوں کیا کہ اس کے پاس جاکر کہا ہم دونوں وضو کے صحیح طریقے پہ جھگڑ رہے ہیں آپ فیصلہ کریں میں اس طریقہ سے کرتا ہوں اور میرا یہ بھائ اس غلط طریقے سے کر رہا ہے اور ایک نے اس آدمی والا غلط طریقہ کیا اور دوسرے نے صحیح طریقہ کیا وہ آدمی سمجھ گیا اور صحیح طریقہ بتایا اس طرح اس کو خود بھی معلوم ہو گیا صحیح طریقہ کیا ہے
 اس مثال سے بات آپ کی سمجھ میں آگئ ہوگی ایک اور  مثال ہی سمجھ لیں مگر یہ بات  الگ ہے اردو زبان اور اس کی تہذیب میں کچھ فقرے یا الفاظ یا کلمات تہذیب کو زیادہ ظاہر کرتے ہیں جیسے اردو زبان میں تو یا تم یا آپ تین مختلف الفاظ ہیں یا کہا جاتا ہے 'آپ کے دشمنوں کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟' پوچھنے والا مخاطب کی عزت اور حیثیت دیکھ کر خراب طبیعت کو مخاطب کے بجائے اس کے'دشمن' کا نام لے رہا ہے یہ بات ہمارے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو سمجھانا بہت مشکل ہے اور ابھی حال میں ہی مجھے اس کا سامنا کرنا پڑا تھا اس بچے کو دشمن کا ریفرینس بلکل سمجھ نہیں آیا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Friday, September 26, 2014

راگ بھیروی یا بھیرویں

سب سے زیادہ مقبول عام راگ جس سے کئ دھنیں فلمی گانوں کی نکالی گئ ہیں وہ راگ بھیروی ہے اس کے ساتھ راگ بھیرو بھی بولا گیا ہے میں ان کے تفاوت کو اچھی طرح نہیں سمجھتا اس لئے اس سلسلے مین کچھ نہیں لکھوںگا
 بچپن میں سہگل کا ایک گانا سنا ہوا تھا جہ اس سال رکارڈ ہوا جس سال میں پیدا ہوا تھا اور یہ اب بھی کلاسیکل ہے صرف ہامونیم اور طبلے کا ساتھ راگ بھیروی کی یہ دھن اس کی بہترین مثال سمجھی جا سکتی ہے
بابل مورا نئہر چھوٹو جائے
 اس میں سہگل کا اپنا آرٹ بھی شامل ہے جس طریقے سے اس نے اسے گایا ہے پھر اس کے بعد دو اور سہگل کے ہی مشہور گیت ہیں اور میری پسند کے بھی جو اسی راگ سے نکلی ہوئ دھن میں گائے گئے ہیں
 اے کاتب تقدیر مجھے اتنا بتا دے
  اور کیا ہی خوب گایا ہے  اس کے بعد
 جب دل ہی نٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے
 یہ گانا مجھے اپنے گائوں کی یاد دلاتا ہے کہ ان دنوں میں خود گنگنایا کرتا تھا  میری پسند کے گانوں میں بھیرویں والے گانے یہ ہیں
 انصاف کا مندر ہے یہ بھگوان کا گھر ہے

دو ہنسوں کا جوڑا بچھڑ گءیو رے

لاگا چنری میں داگ چھپائوں کیسے

دعا کر غم دل خدا سے دعا کر

 ایک بھجن ہے ----مدھوکر شام ہمارے چور


پوچھو نہ کیسے میں نے رین بتائ

 اور کچھ پلکے پھلکے گیت ہیں جیسے---میرا جوتا ہے جاپانی

یا--- بول رادھا بول سنگھم ہوگا کہ نہیں

ایک اور گانا ہے---دوست دوست نہ رہا
 اس گانے کا انٹرول مئیوزک مغربی طرز کا ہے وہ جو 'انسپکٹر مےگرے' والی فلم میں ہے

آوارہ ہوں

تو گنگا کی موج --- یا--- برسات میں ہم سے ملے تم سجن
یہ چند گانے یاد آئے تو لکھ دئے ہیں
ہاں یاد آیا کی 'بھیروں' راگ میں گانا میری پسند کا یوں ہے

موہے بھول گئے ساںوریا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, September 23, 2014

پرچم

پاکستنی بھائیوں کو
پرچم ستارہ و ہلال تو یاد ہے--- میں ایک اور پرچم کی بات کرنے جا رہا ہوں
جب سے تشدّد پسند لوگوں نے اسلام کے نام پر اپنی من مانی شروع کر دی ہے میں اکثر کالا جھنڈا دیکھتا ہوں جو مسلما نوں میں مشہور ہے کہ نبی صلّ اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ کا پرچم استعمال کیا تھا ہر ملک کے اپنے سائن ہوتے ہیں پہلے کالے پرچم کو القائدہ وغیرہ کے ساتھ دیکھا تھا اب آجکل آئ ایس آئ ایس والے 'خلیفہ صاحب کا دیکھ رہا ہوں اس میں وہ بھی سعودیوں کی طرح کلمہ طیبہ استعمال کر رہے ہیں مگر اس میں  "لا الہ الا اللہ تو اوپر لکھا ہوتا ہے اور اس کے نیچے  محمد رسول اللہ   لکھنے کے لئے وہ اس مبارک مہر کو استعمال کرتے ہیں جو ہمارے نبی نے ختیار کی تھی
 تو بھلا اس میں کیا خرابی ہے؟
 مجھے اس لئے پسند نہیں کہ کام تو یہ لوگ غیر اسلامی کر رہے ہیں اور اس کے لئے بے دھڑک ہو کر ایسی مبارک نشانی کو لا رہے ہیں جو ہمارے لئے بہت عزت  والا اور  -سیکرڈ- قسم کا درجہ رکھتی ہے اور مجھے اس پر اس وجہ سےاعتراض ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, August 12, 2014

راگ پہاڑی اور مشہور گیت

پہلے کچھ اپنا موسیقی سے لگائو لکھ چکا ہوں اور یہ بھی کہ فلمی گانوں میں کچھ راگوں کے سروں سے نکالی ہوئ طرزیں بہت ہر دلعزیز ہیں
 آج راگ پہاڑی والے گیتوں کے متعلق لکھ رہا ہوں 
پاکستانی فلموں سے ایک مشہور گانا تھا جو مجھے اس راگ کے سر یاد کراتا ہے - آئے موسم رنگیلے سہانے - جیا نہیں مانے- تو چھٹی لےکے آجا بالما 
گانے والی ہیں زبیدہ خانم اور موسیقی راشید عطرے نے ترتیب دی ہے ہندوستانی فلموں میں بہت سے یاد پڑتے ہیں جیسے
سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا
 یا - جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑیگا
 یا- کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
 وغیرہ وغیرہ بہت خو۳بصورت گانے ہیں
 مگر دو گیت ایسے سدا بہار ہیں کلاسک قسم کے جن کو سنتے ہی دل کھل اٹھتا ہے ایک تو وہ جو نورجہاں نے گایا ہے

 آواز دے کہاں ہے
 دنیا میری جواں ہے 

 میرے خیال میں نورجہاں کے بہتریں گانوں میں سے ہے اس کی موسیقی نوشادکی ہے فلم انمول گھڑی میں ڈوءٹ ہے یعنی نورجہاں اور سریندر گاتے ہیں مگر سریندر نورجہاں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں حالانکہ بہت اچھے گانے والوں میں ہیں نورجہاں کے لئے تو تقریبا" ٹائٹل سانگ  یعنی اگر نورجہاں نے ڈورس ڈے کی طرح خود کوئ اپنا ٹی وی پروگرام چلایا ہوتا تو جیسے ڈورس نے ' کے سرا سرا' چلایا تھا- نور جہاں اپنے پروگرام کا ٹائٹل سانگ یہی رکھتیں

 دوسرا گانا جو اس راگ سے نکلا ہے وہ محمد رفی کا گایا ہوا ہے

 سہانی رات ڈھل چکی-نا جانے تم کب آئو گے

 اور پھر اس کی موسیقی جو نوشاد صاحب نے دی ہے اس کا جواب نہیں فلم دلاری مین رفی نے اس قدر پیار سے گایا ہے کہ اور کوئ دوسرا ایسےنہیں گا سکا
لطف یہ ہے کہ دونوں گانوں کے سر اسی راگ سے نکالے گئے ہیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/