Monday, June 1, 2015

مراحلِ زندگی

یہ سطور برقی 'صفحہ' پر اتارتے ہوئے ذہن ایک غیر مبہم احساسِ گناہ سے دوچارہے اور ہو بھی کیوں نہ کیونکہ ہم ان تمام مراحل سے  اللہ کے فضل سے گذر چکے ہیں  اور آخری مرحلہ پر ہیں اور جس مرحلہ کا انتظار ہے اس کا ذکر مناسب نہیں سمجھا جاتا 
1  پہلا -' نو مولود' سے شروع ہوتا ہے اور اس بعد 
 2'صبّی' دودھ پیتے بچّے کو کہتے ہین پھر 
3بچپن'۔ 
4پھر نوجوانی چڑھ آتی ہے

5 =  اس کے بعد جوانی آتی ہے جس پر ہم ابھی  گھمنڈ ہی شروع کرتے ہیں کہ
6 = کہولت' یعنی ادھیڑ عمر آپکڑتی ہے
7 =آخر انسان بڑھاپے میں داخل ہوتا ہے اور اس وقت تک یہ سمجھ بخوبی آ جاتی   ہے کہ یہ آخری مرحلہ ہو گا۔                                                                     



Please visit my English blog at Saugoree

Sunday, May 31, 2015

موسیقی یا میوزک الف


ہم آپ سب موسیقی سے بخوبی واقف ہیں لیکن میں اس وقت اس کا تجزیہ کرنا چاہتا ہوں
 سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ میوزک ہمیں سکون دیتا ہے اور سننا اچھا لگتا ہےتو بھلا یہ کیسے ہوتا ہے۔ ہے تو آخر بس ایک آواز ہی نا- توپھر ایک گدھے  اکی ڈھیںچوڈھیںچو کیوں اچھی نہیں لگتی
اس فرق کو سمجھنے کے لئے ہمیں چند بنیادی باتوں کی طرف دھیان دینا ہوگا
 اوّل یہ کہ آواز جو ہمارے کانوں میں پہنچتی ہے اسے ہم کیسے سنتے ہیں - آواز ہوا میں کچھ لہریں پیدا کرتی ہے جو کان کی طرف آئیں تو کان ان لہروں کو کان کے سوراخ کی طرف موڑ دیتا ہے اس سے ایک نالی میں داخل ہوتی ہیں آگے کان کا پردہ آجاتا ہے اس سے یہ لہریں ٹکراتی ہیں اور ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو پردے کی اندر کی طرف تین باریک  منّی سی 'ہڈّیوں' کو ہلاتا ہے اس سے اندرونی کان میں جو نالیاں ہیں اور ان میں جو'مایہ' موجود ہے ان لہروں کے ارتعاش کو ایک قسم کے  اندرونی پردے کو  محسوس کراتا  ہے جس میں ایسے خلیہ جات ہیں جن کا تعلق ان نسوں سے ہے جو دماغ کو جا کرملتی ہیں اور جوش دلاتی ہین یا محرک     کرتی ہیں
                                                                                            دماغ کا وہ
حصہ جو قدرت نے  قوت سماعی کے لئے مخصوص کیا ہے اس مین تحرّک پیدا ہوتا ہے یعنی ہم اس آواز کو 'سن لیتے ہیں' دماغ ان حصّوں میں دوسرے حصّوں سے کنیکشن ہین تو ان سے آپس میں 'گفتگو' ہوتی ہے جو اس آواز کا مطلب سمجھاتے ہیں چنانچہ اس طرح ہم کہتے ہیں اس آواز کا یہ مطلب ہے یا یہ بے مطلب بات ہے یا چٹخنی چڑھانے کی    آواز ہے یا  ڈھیںچو  ڈھیںچو ہے وغیرہ
 یہاں تک صرف آواز کی بات تھی اس کے بعد اس کا پہچاننا تھا پھر اسکا مطلب معلوم کرنا تھا تو یہ کہ کیا مطلب ہے اس کے بعد سمجھنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے سمجھنے کے لئے پہلے سے معلومات ہونی چاہیئں دھیان ہونا چاہیئے وغیرہ وغیرہ یہ سب دماغی کام ہیں
                                  تواب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ موسیقی کیاچیز ہے 
اآواز دو قسم کی ہوگئ  - ایک  وہ جس کا مطلب ہو یعنی  معنی والی آواز دوسری وہ جس میں کوئ معنےا نہیں یا جس کو ہم کسی خاص آواز سے نہ ملا سکیں جیسے گدھے کی آواز یا چٹخنی کی آواز تو  ایسی کو ہم 'شور' کہ سکتے ہیں یعنی بے معنی آواز بس شور ہے اور 'شور' وہ بھی ہے جو کانوں کو برا لگے آواز اگر بہت زیادہ تیز ہے تو وہ بھی کانوں کو بری لگتی ہے بلکہ کانوں کو یا قوت سماعی کو نقصان پہنچاتی ہے
 معنی والی آواز- یعنی جس کو ہم سمجھتے ہیں- سے ہم اس کے اثر کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں- نصیحت ہے تو اس پر عمل کر لیتے ہیں اچھی بات ہو تو اس سے خوش ہو لیتے ہیں بری خبر ہو تو اس سے رنجیدہ ہوجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ پھر ان اچھی باتوں میں دل کو خوش کرنے والی بہت سی چیزیں ہیں اس میں کس قسم کے الفاظ ہیں کس طریقہ سے ادا کی گئی ، کس کی طرف سے تھی الفاظ کو کیسے جوڑا گیا کیا الفاظ ایک خاص  ایک مسجّع اور مقفّفےا عبارت کا حصّہ ہیں کیوںکہ ان سب باتوں کا اپنا اپنا تاثّر ہے اور ہر خصوصیت ان الفاط کے معنےا اور تاثّر کو بڑھاتی ہے
 اب آتے ہیں ہم موسیقی کی طرف
           موسیقی ایک ایسا آرٹ ہے جو مختلف آوازون کو ایک ایک ربط اور قاعدے مین ملاکر پے در پے سلسلہ مین یوں جوڑتا ہے  کہ ایک لڑی سی بن جائے اس طرح ان آوازوں میں ایک وزن ایک ارتباط تیار ہو جاتا ہے مزید یہ کہ آوازوں کی لہروں مین ایک مقرّر اوںچائ یا نیچائ کی ساخت پیدا ہو جاتی ہے
    یہ موسیقی کی تعریف میں نے اپنی کوشش سے ڈکشنریاں دیکھ  کر لکھی ہے آپ کو یہ محسوس ہوگیا ہوگا کہ موسیقی کی تعریف کتنی مشکل ہے گو آپ اور میں  اسکو آسانی سے سمجھ لیتے ہیں --اگلی قسط ملاحظہ کیجئے

Please visit my English blog at Saugoree

Saturday, January 24, 2015

دیوان ٹرانسپورٹ


 عرصہ ہوا مجھے ایک کتاب دیکھنے کا اتّفاق ہوا تھا جس کا عنوان تھا = دیوان ٹرانسپورٹ
 اس میں کئ قسم کے اشعار اور 'مقولے تھے پاستان کے رہنے والوں کے لئے کوئ مشکل نہیں سمجھنے کی کہ تقریبا" ہر شخص  نے ٹرکوں اور بسوں پر  کچھ نہ کچھ لکھا دیکھا ہوگا جو اچھے پائے کے اشعار سے لیکر فضول قسم کے اشعار  تک سب پر مشتمل ہوتا ہے اندازہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو بسوں وغیرہ کی پینٹنگ کرتے ہیں ان کی پسند کی باتیں شعر یا کسی اور قسم کے بول یا مقولے ہوتے ہیں مثال کے طور پر آپ نے لاہور میں اکثر یہ دیکھاہوگا
 پّپو یار تنگ نہ کر
 یا--  پھر ملیں گے
 وغیرہ تو قارئین حضرات اس دیوان میں تمام پاکستانی بسوں ٹرکوں وغیرہ پر لکھے ہوئے اشعر کو ایک منچلے صاحب نے جمع کر دیا ہے  اور اس لئے اس کتاب کا عنوان  ' دیوان ٹرانسپورٹ ' رکھا گیا
 اس کی کے کچھ نمونے پیش کر رہا ہوں
 " یہ جینا بھی کوئ جینا ہے   -  جہلم سے آگے دینہ ہے"

کس قدر خوش نظر آتے ہیں میرے شہر کے لوگ  -   آج اخبار کسی نے نہ پڑھا ہو جیسے   ]راولپیڈی لگتا ہے[
 میرے محبوب کا انداز جہاں میں سب سے نرالا ہے  -  ادائیں بہت شوخ ہیں مگر رنگ ذرا کالا ہے
یہ اگلا اس زمانے کا ہے جب ای میل شروع نہیں ہوئ تھی
 --کراچی     یا الاہی کیا غضب ہے خط کا آنا بند ہے  -  یا محبّت کم ہوئ یا ڈاکخانہ بند ہے

کون کہتا ہے ملاقات نہیں ہوتا - ملاقات تو ہوتا ہے مگر بات نہیں ہوتا
 یہ ٹرک ضرور پشاور میں بنایا گیا ہوگا
 باقی پھر


Please visit my English blog at Saugoree

Wednesday, December 31, 2014

نیا سال مباراک

 تمام قارئین کرام کی خدمت میں میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو
 اللہ کرے نئے سال میں آپ کی تمام خواہشات پوری ہوں تمام دکھ ختم ہوں اپنی جاب میں ترقّی ملے گھر والے سب خوش رہیں تمام بیماریاں ختم  ہوں
اس موقعہ پر فیض مرحوم کی ایک نظم جو بعد مں موصول ہوئ نقل کر رہا ہوں جناب اروق سلود سے شکریہ کے ساتھ
اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے رہ اک بات وہی

آسماں بدلا ہے افسوس نہ بدلی ہے زمیں 
ایک ہندسے کا بدلنا کوئجدّت تو نہیں

اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرے
کسکو معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے

جنوری فروری اور مارچ میں ہوگی سردی
ور اپریل مئ جون میں ہوگی گرمی

تو نیا ہے تو دکھا صبح نئ شام نئ
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئ

بےسبب دیتے ہیں کیوں لوگ مبارکبادیں
کیا سبھی بھول گئےوقت کی کڑوی یادیں

تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فیض نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی

Please visit my English blog at Saugoree

Tuesday, December 23, 2014

محبّت اور مذھب کا اختلاف

Please visit my English blog at Saugoree

میرے ایک عزیز دوست جگ بیتی او آپ بیتی  'کہانیاں' لکھتے ہیں   میں اکثر ان سے متاثّر ہوتا ہوں کبھی کبھی مجھے بھی ایسا لکھنے کا خیال آتا ہے
   عرصہ ہوا میں اس وقت انگلستان میں کام کر رہا تھا اس وقت وہاں ہسپتالوں کی گروپینگ اور قسم کی تھی خیر ہمارے گرپ کے تمام ہندوستانی اور پاکستانی کسی اتوار کو اکٹّے ہو جاتے اور خوب محفل جمتی چنانچہ اس طرح ہم سب ایک دوسرے سے واقف ہوجاتے تھے اسی زمانے کا ذکر ہے ہمارے گروپ میں ایک نئ ہندوساتی ہائوس فزیشن آئ بڑی سیدھی سادی لڑکی تھی ہمارے سینئر لڑکوں میں ایک صاحب جو مسلمان تھے انھیں وہ لڑکی پسند آئ۔ وہ بھی سیدھے سادھے مسلمان پاکستانی تھے لڑکی کی ایک بات یاد ہے کہ اس کے وارڈ میں ایک سٹروک کا مریض داخل ہوا بچاری پریشان تھی کیا کرے کس طرح اس کی مدد کرے ساری رات اس کے سرہانے بیٹھی سوچتی رہی اور جو اس کی ضروریات تھی نرس کی طرح کرتی رہی  - اب ممکن ہے اس میں کچھ  'ذیب داستاں کے لئے کچھ بڑھا' بھی دیا گیا ہو مگر قارئین کو اس کی سادگی سمجھ آگئ ہو گی  ہوتے ہوتے ان دونوں میں - یعنی جن پاکستانی صاحب کا ذکر کیا ہے ان میں باقاعدہ محبت ہوگئ شادی کی بات چلی  دہلی میں اس کے گھر والے نہ مانے اور پاکستان میں ان کے گھر والے تیار نہ ہوئے اب یہ مجھے یاد نہیں کہ لڑکی نے ہندو سے مسلمان ہونے کا ذکر کیا تھا یا نہیں
 ممکن ہے اور بھی ایسے وقعات ہوتے رہتے ہیں ان میں کچھ اور اسباب ہوتے ہوں لیکن اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ محبت کو قربان کر دیا جاتا ہے میں یہ ان مغربی ممالک کی بات کر رہا ہوں اور پڑھے لکھے ہوشمند انسانوں کا لکھ رہا ہوں پاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا ذکر نہیں کر رہا ہوں

Saturday, December 6, 2014

داڑھی کا فیشن یا رواج

جب ہم کالج میں تھے تو کلین شیو کا رواج تھا
لڑکے شیو 'چھوڑ' دیتے جب امتحان سر پہ آتا یا جب ظاہر کرنا ہو کہ  'ڈیپریشن' ہے یا محبت ہو گئ ہے اور یہ فلموں سے ہماری تہژیب  میں داخل ہوتی ہے چنانچہ ہماری جوانی کے زمانے ہیرو کلین شیو ہوتا تھا اور داڑھی تب بڑھاتا تھا جب ہیروئن سے ناراضگی ہو یا کوئ اور مشکل آ پڑی ہو جب 'فراق' کے گانے کا موقعہ ہو وغیرہ وغیرہ اب آجکل یہ زمانہ آیا ہے کہ ہیرو کی شیو نہیں کی ہوتی اور جب 'مشکل' آئ ہو تو تھوڑا سا مزید داڑھی کو بڑھا دیا جاتا ہے یعنی اب ہیروئن جب کیس کرتی ہے تو ہیرو کی شیو نہیں ہوئ ہوتی یہ رواج اب ایسا ہو گیا ہے کہ جوان لوگ باقاعدہ دارھی ایسی بناتے ہیں جیسے شیو نہیں کی ہوئ
وقت وقت کی بات ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, November 25, 2014

مشہور گانے اور راگ درباری

میرے بہت سے دلپسند گانوں کی دھنیں راگ درباری سے نکالی ہوئ ہیں
 سب سے زیادہ مشہور وہ بھجن ہے جس کو فلم بیجو باورا میں رفی مرحوم نے گایا اور اسے ترتیب دینے والے نوشاد مرحوم ہیں نوشاد صاحب نے فلمی دنیا میں پکّے اور سیمی کلاسیکل گانوں کو جو رواج دیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے اگرچہ اوردوسرے ڈائریکٹر بھی اس کام میں شامل ہیں جیسے کھیم چند پرکاش یا سی رامچندر انل بسواس وغیرہ
 رفی صاحب کی ادائگی اس میں چار چاند لگا دیتی ہے
 جی مین  "او دنیا کے رکھوالے"  کی بات ہی کر رہا ہوں
 دوسرے گانوں کا لکھنے سے پہلے میں ایک اور بھجن اور ایک غزل کے متعلق کچھ لکھوںگا
 یہ بھجن ساحر لدھیانوی  -مسلمان-- کا لکھا ہوا ہے آشا بھونسلے نے کمال خوبی اور لگن سے پیش کیا ہے اور ساتھ موسیقی میں زیادہ اس کے ردھم پر زور دیا گیا ہے جو کہ عام بھجنوں کی ایک خاص خوبی ہے موسیقی روی صاحب کی ہے ساحر صاحب کے الفاظ نہایت رسیلے اور خود اپنا ردھم رکھتے ہیں اور نہایت پر معنی ہیں میں نے مسلمان اسلئے لکھا ہے کیوںکہ ایک حدیث شریف کا مطلب بھی یہی ہے
پہلے اس بھجن کے بول سنئے= "تورا من درپن کہلائے بھلے برے سارے کرموں کو دیکھے اور دکھائے تورا من درپن کہلائے
 وابسا بن معبد رضی اللہ عنہ نے آپ صل اللہ علیہ وسلم سے  نیکی کے متعلق پوچھا تو فرمایا
"اپنے دل سے پوچھو نیکی وہ ہے جس سے دل کو سکوں ائے اور بدی وہ ہے جو نفس کو جھنجھوڑے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "
 میں پوری حدیث نہیں لکھ رہا صرف اتنا درج کیا ہے جو موضوع کے متعلق ہے  اب اس سے آپ اندازہ لگا لیں ممکن ہے ساحر صاحب حادیث سے واقف نہ ہوں مگر یہ ایک عام سچائ بھی تو ہے اور آپ سارے بھجن کو غور سے سنیں تو سر دھنتے رہیں گے یہ درباری کا ہلکا پھلکا انداز بھی ہے
 تیسرا  گانا ایک عمدہ غزل ہے جو نور جہاں نے اپنی خاص آواز اور انداز میں ادا کی ہے
 اور اس راگ کی دھن کو مزید اجاگر کرتی ہے اور یہ  سن ۴۵ کی نور جہاں ہیں حفیظ صاحب ایسے مشہور موسیقار تو نہیں ہیں مگر اس راگ کی دھن کی ادائیگی کے لئے انھوں نے اس وقت کی بہتریں کلاکار اور مسحور کن آواز کی مالک کا سہارا لیا ہے اور باقی بیک گرائونڈ موسیقی کو مدھم کر دیا اور طبلے/دھولکی کو چھوڑ ہی دیا ہے
 "بلبلو مت رو یہاں آںسو بہانا ہے منع ان قفس کے قیدیوں کو غل مچانا ہے منع
 پوری غزل کے الفاظ بھی اسی طرح دل کو پکڑتے ہیں
 دوسرے اور بھی بہت سے گیت اس راگ سے اپنی دھن لیتے ہیں  مثال کے طور پر
 دل جلتا ہے تو جلنے دے
  تو پیار کا ساگر ہے
 تیری دنیا میں دل لگتا نہیں
 مجھے تم سے کچھ بھی نہ چاہئے

وغیرہ سارے میری پسند کے گیت ہیں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/