Monday, February 29, 2016

سحری کی آوازین

پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان میں ہندو مسلم فسدات ہوتے تو تھے مگر اکّا دکّا
   عام طور پر ایک دوسرے کی مذھبی ضروریات کا کسی حد تک خیال رکھا جاتا تھا محرّم میں تعزیے اور اس قسم کے جلوس نکالے جاتے اور ہولی دسہرہ وغیرہ کے تہوار دھوم دھام سے منائے جاتے ایک قسم کا بیلنس روا رکھا گیا تھا
 چنانچہ اس سلسلے میں مجھے یاد آ رہا ہے کہ بچپن میں رمضان شریف کے دنوں میں سحری کے وقت ایسے ہی بازار میں رونق ہو جاتی تھی جیسے پاکستان میں آجکل ہم دیکھتے ہیں اور مزید یہ کہ روزہ رکھنے کے لئے کچھ فقیر لوگ مسلمانوں کی گلیوں میں آواز لگاتے پھرتے تھے
 اٹھو روزدار بابو اٹھو
 ایک صاحب کچھ شعر بولتے تھے  اس آواز سے پہلے اس کا دوسرا مصرع یاد ہے پہلا پوری طرح ابھی تک یاد نہیں آیا سوچا ابھی یہ لکھ لیتے ہیں پھر جب یاد آئےگا تو مکمل کرلیں گے

  پہلا مصرع  جس کا شروع یاد نہیں لیکن بعد کا حصہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنچھی بھئے اداس
 اور دوسرا مصرع ہے  -  ایسا کڑوا بولتا کہ کوئ نہ بیٹھے پاس
 رے اللہ کے پیارے-اٹھو روز۔ ۔ ۔ ۔ ۔
                         
 اب نہ معلوم ہندو ئزم کا زور ہے تو شائد ایسی آزادیاں مسلمانوں کو میسّر نہ ہون

      کل اچانک یاد آگیا

پھٹا پرانا پینجرہ پہ پنچھی بھئے اداس
ایسا کڑوا بولتا کہ کوئ نہ بیٹھے پاس



Please visit my English blog at Saugoree

Monday, February 1, 2016

کاغذ اور پنسل


جب ہم مڈل سکول مین پڑھتے تھے
 وہ زمانہ غریبی کا زمانہ تھا عام کاغذ اتنے سستے نہیں تھے کہ انھیں فضول رف کاموں کے لئے ضائع کیا جائے
 عام لیڈ (lead) کی پنسلیں بھی زیادہ استعمال نہیں ہوتی تھیں یاد رہے کہ کہ ہم گائوں مین پڑھتے تھے ممکن ہے شہر کے سکولوں میں ایسی باتیں نہیں تھین مگر پھر بھی کاغذ اور پنسل احتیاط سے استعمال ہوا کرتے تھے آجکل کاغذ کمپیوٹروں کی وجہ سے بہت سستے سمجھے جاتے ہیں اور کاپیاں بھی سکول کے بچے ڈھیروں خریدتے ہیں
وہ بچے جن کے گھروں میں کوئ فوجی ہوتا تھا ان بچوں کے پاس  فوجی تھیلے ہوتے جوبطور بستہ استعمال  ہوتے تھےکیوں کہ ایک تو یہ کہ انھیں مفت ملتے اور دوسرے یہ کہ بہت مضبوط ہوتے عام بچے مضبوط چادر کے ایک چوکور ٹکڑے میں کتابیں باندھ کر اسے بستہ بنا لیتے تھے ہمارے پاس باقاعدہ ایک تھیلا تھا جیسے بازار سے چیزیں لانے والا ہوتا ہے فوجی گھر والوں کے بچوں نے ہمیں ایک عجیب سے کاغذ سے ملایا وہ گول لپٹا ہئوا سا تھا جو ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اس کاغذ سے انگریز اپنی تشریف صاف کرتے ہیں یعنی فراغت کے بعد-
 خیر کالج میں جانے کے بعد ہم بھی پکے شہری ہوگئے
لیکن آجکل کئ گھروں میں وہی 'ٹیشو' والا کاغذ پھر استعمال ہونے لگا ہے اور اب اس سے کھانے کے بعد ہاتھ پوںچھنے کے استعمال میں لایا جاتا ہے اسے شائستگی میں شامل کر لیا گیا ہے
 لکھنے کے لئے  گائوں میں  پنسل کے علاوہ قلم اور پر استعمال ہوتے تھے
 قلم کی کوئ قیمت نہیں ہوتی تھی کیوںکہ اس کے لئے ' کانّا' عام جگہ جگہ اگا ہئوا مل جاتا تھا  یعنی  اس کی جھاڑی اردو میں اسے  'سرکنڈہ کا نام دیا گیا ہے اور ایک شاخ میں سے کئ قلمی بن جاتی تھین انھیں خوبصورتی سے گھڑا جاتا تھا کسی
تیزچاقو سے اور اردو لکھنے کے لئے اس سے بہتر اور کچھ نہیں
 خوشخطی ایک ایسا آرٹ ہے جو سب لڑکوں کو سیکھنا پڑتا تھا بچوں کو سب سے پہلے ماسٹر قلم پکڑنا سکھاتے یہ چیزیں اب عام علم میں ہی نہیں بچے جیسا چاہے قلم پکڑ لیں کوئ اس مین ترمیم کرنے والا نہیں
 اب آئیے ' پر ' کی طرف
 پر -  ایک پرانا نام ہے یعنی اس زمانے سے جب لکھنے کے کئیے کسی پرندے کے پر کو استعمال کیا جاتا تھا ہم  جس کو  پر کہ رہے ہیں اسے اردو میں قط یا قلم ہی کہ لیا جاتا ہے  یعنی وہ قلم جس میں نب لگائ جاتی ہے اور اردو یا انگریزی کے لئے علیدہ علیحدہ نبیں ملتی تھی ماسٹر لوگ اس کے استعمال کے لئے بھی اسکو صحیح طریقے سے پکڑنا سکھاتے اور انگریزی لکھنے کے لئے چار لکیروں والا کاغذ استعمال ہوتا تھا اردو کے لئے ایک ہی لکیر والا
 سکھایا یہ جاتا تھا کہ میم اور نون یا ی لکھنے میں لکیر کے نیچے کیا حصہ ہوگا اور اوپر کیا ہوگا
 پھر زمانہ بدلا اور فائونٹیں پین آ گئے
 خوشخطی ختم ہونی شروع ہوگئ اس کے بعد   'بائرو ' پین اور پنسلیں آگئیں اور یہ سب کچھ ماضی کا حصہ ہو گیا

Please visit my English blog at Saugoree

Wednesday, January 20, 2016

بچّہ خان کے بچّے

 میں بچہ[ باچا)خان یونیورسٹی سے واقف نہین تھا مگر چارسدّہ جانتا ہوں
 سمجھ میں نہیں آتا کیوں ان بچوں پر حملہ کیا گیا اور وہ کیسے مسلمان ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اندازہ ہے۰ قران بھی پڑھتے ہوں گے
--و من یقتل مومنا" متعمّدا" فجزآءہجہنّم خالد فیھا و غضب اللہ علیہ و لعنہ و اعدّلہ عذابا" عظیما" ---

[اور جو کوئ قتل کرے مسلمان کو جان بوجھ کر تو اس کی سزا دوزخ ہے پڑا رہیگا سی میں اور اس پر اللہ کا غضب ہوا اور اس کو لعنت کی اور اس کے واسطے تیار کیا بڑا عذاب]
 قران کریم یہاں کوئ استثنےا نہیں پیش کرتا
 اور ابھی تو پشاور سکول کے ۱۱۴ مظلوموں کے لئے روتے ہوئے ہمارے آںسو بھی خشک نہیں کوئے اور مزید مظلوم بچون کو گولی کا نشانہ بنایا گیا ہے اب ہم مزید آنسو کہاں سے لائیں یا اللہ رحم کر میرے پاکستانی مطلوم بچوں پر نہ معلوم کتنے عالم کتنے سائینسدان کیسے کیسے موجدوں کو  تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا اللہ تعالےا کیسے ان ظالموں کو بخشے گا کیا انھیں اللہ کا ذرا سا بھی ڈر نہیں

Please visit my English blog at Saugoree



Wednesday, January 13, 2016

چند احساسات

ہر انسان کی زندگی میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی تو چند رہ جاتی ہیں چند احساس دلاتی ہیں اور چند  ذہن کے کسی کونے میں چھپ جاتی ہیں
میں کوئ بہت بڑا لکھاری نہیں  اور نہ ہی بڑا عالم فاضل لیکن علمی بحث  میں حصہ لینا اچھا سمجھتا ہوں اور شوق بھی ہےی
 اس کے لئے ضروری ہے کہ میں ایسےہم نشین ڈھوندڈ رکھوں  جن سے تبادلہ خیالات کر کے کسی حد تک ذہنی تشنگی کا مداوا ہو سکے اب جو میری مشکلات ہیں ایسے کام کرنے میں مانع ثابت ہو رہی ہیں اب یہی  میری قوت سامعہ کو لے لیں میں کوئ معمولی گفتگو کرنے سے بھی قاصر ہوں بڑھاپے نے مزید اس مشکل میں اضافہ کردیا ہے اور پھر یہ بھی کہ پچاس برس کی  سماعی کمزوری سے میری گویائ بھی وہ نہیں رہی جو پچاس برس پہلے تھی اور چونکہ میرا دائرہءمیل جول بہت چھوٹا ہو گیا ہے تو زیادہ وقت ٹی وی یا کمپیوٹر سے استفادہ میں ہی گزرتا ہے چنانچہ یہ احساس ہوا ہے کہ بلاگستان میں  ہی ایسے حضرات سے رابطہ رکھوں ان مین سے ایک صاحب سے ملاقات بھی ہوئ یعنی جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب دوسرے ہیں "مسٹک" اور ان کے جواب دہندگان میں ایک 'بیانڈ' اور ایک مہناز ہیں جن کو پڑھ کر دل خوش ہو جاتا ہے علاوہ ازیں بیٹی
شبانہ کا بلاگ بھی خوش کرتا ہے ماشا اللہ خوب لکھتی ہے
مسٹک صاحب سے ای میل پر بھی رابطہ ہے یعنی ان کے نام سے بھی واقف ہوں ان کا ایک لفظ مجھے بہت پسند آیا تھا جس کا اردو ترجمہ نہیں کر سکا  وہ ہے 'انٹلیکچول ڈسلیکسیا'           "Intellectual dyslexia"    
 ہر ماہ "قران کے تناظر میں کوئ ٹاپک لے لیتے ہیں اور چند احباب  خصوصا' رٹائر ہوئے ہوئے بیٹھ جاتے ہیں اچھی بحث رہتی ہے وہاں بھی دو اصحاب ایسے ہیں جنھیں سن کر  دل کو خوشی ہوتی ہے جناب خاور  اور شمیم الرحمان  یہ دونوں اپنے ما فی الضمیر کو نہایت پر اثر الفاظ میں بیان کرتے ہیں

Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, December 31, 2015

زباندانی


 مطلب ہے انگریزی زبان کا-
بیٹی شبانہ سے ملتا ہوں تو کوئ مشکل سوال کرتا ہوں}
 اب یہ آپ سے بھی کر رہا ہوں
 اس میں کوئ شک نہیں کہ زبان یا بولی میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو اس کی تہذیب یا تمدّن کے آئینہ دار ہوتے ہیں وہ ضروری نہیں کہ کسی دوسری زبان میں بھی پائے جاتے ہوں
 مثلا" ہم اردو میں بولتے ہیں کیا بیٹھے جھک مار رہے ہو
 اب اس کو یعنی  - جھک مارنے -- کو انگریزی میں ادا کریں تو کیا کہا جائےگا بیٹی شبانہ یہ کہ کر چپ ہو گئی اور مجھے بھی چپ کرا دیا کہ
ماموں جان انگریزی میں بہت غیر پولائیٹ ہوگا
 اب آپ کے لئیے یا آپ کے تصوّر پہ چھوڑتا ہوں


Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, December 3, 2015

پھیرے

بہت عرصہ ہوا لاہور میں ایک فلم بنی تھی
پھیرے
 اس کی کاسٹ اور دوسری باتیں یاد نہیں میں نے دیکھی بھی نہیں تھی
 تو ظاہر ہے اس کا ذکر کیوں کر رہا ہوں- در اصل بات دوسری ہے پھیروں سے جو مطلب لیا جاتا ہے وہ  ان پھیروں کا ہے جو ہندوئوں کے ہاں شادی کے وقت دولھا دلھن لگاتے ہیں یعنی وہ سات چکّر چھوٹی سی آگ کے گرد  لگائے جاتے ہیں اس میں پہلے جوڑا ساتھ ساتھ بیٹھتا ہے اور پروہت کچھ شبد پڑھتا ہے پھر دلھن کے دوپٹّہ کے پہلو سے دولھا کے صافہ یا اس قسم کی کپڑے سے ایک گاںٹھ باندھی جاتی ہے
 یہ واقعی ٹائنگ اف ناٹ ہے (Tying of knot) ہ

مگر ایک بڑا فرق آپ کو دکھانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ان پھیروں میں دولھا آگے ہوتا ہے اور دلہن اس کے پیچھے چل رہی ہوتی ہے اور سات مکمل چکر لگاتے ہیں  - میرا اندازہ ہے -
 خیر وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن اس دن کے بعد باقی کی ساری زندگی بھی انھیں چکروں یا پھیروں میں گزرتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس دن کے بعد سے بیوی آگے ہوتی ہے اور شوہر پیچھے

Please visit my English blog at Saugoree

Saturday, November 21, 2015

محترمہ صبیحہ سے 'ملاقات'

یعنی تقریبا"  روبرو ملاقات نہیں
 ہمیں عرصہ سے یہ خوہش تھی کہ لیزبرگ جائیں اور ان کی بیٹی کا پتہ لگائیں جب سے معلوم ہوا تھا کہ وہاں رہتی ہیں ہم ان کی ایکٹنگ اور ان کے باذوق شخصیت ہونے سے متئاثر ہین
 اتفاق ایسا ہوا کہ ایک پروگرام کے تحت ہمین لیزبرگ جانے کا موقع ملا جس سنٹر میں ٹھرنا تھا وہاں پیہچے جو  صاحب ہمیں استقبال کرنے آئے ایک وجیہ دیسی تھے اب دیکھئے کہ وہ صاحب محترمہ صبیحہ کے داماد نکلے چونکہ وہ عمر رسیدہ ہین اس لئے ملاقات روبرو تو نہیں ہو سکتی تھی مگر انھوں نے کہا میں فون پر بات کرا دیتا ہوں اب مشکل یہ ہے کہ ہم فون پر کچھ نہیں سن سکتے اس لئے معذرت کر لی اتنا ضرور کیا کہ ہم نے جلدی سے ایک نوٹ ان کے نام لکھ کر دے دیا کہ ان تک پنہچا دین
اللہ کیسے کیسے مواقع دکھاتا ہے
ایک بار ایسے ہی محمد علی اور زیبا سے ملاقات ہوئ بہت عرصہ کی بات ہے اور ایسا ایک موقع بھی تھا کہ جان اور یوکو اونو کو دیکھا کہ ہم ایک ہی دفتر میں داخل ہوئے اور یہ جوڑا مجھ سے آگے تھا

Please visit my English blog at Saugoree