Monday, August 8, 2016

تو من شدم

تو من شدی من تو شدم تو تن شدی من جاں شدم
تا کس نگوید بعد ازیں تو دیگری من دیگرم

مجھے اس کے اشعار دوسری طرح کے یاد ہین/تھے

من تو شدم تو من شدی من جاں شدم تو تن شدی
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

اب کوئ صحیح جاننے والا ہی اس کو بتا سکتا ہے کونسا درست ہے

Please visit my English blog at Saugoree

Monday, July 25, 2016

جولائ کی گرمی

        اس برس امریکہ میں بھی جولائ کی گرمی معمول سے زیادہ رہی اور روزے اور سالوں کی نسبت مشکل رہے مگر ہمیں پاکستان کی گرمیوں کے روزے یاد ہیں تو ایسا خراب نہیں محسوس ہوتا بلکہ اور اللہ تعالےا کا شکر ادا کرتے ہیں 
            عید کے بعد پھر وہی پرا نا روٹین کھانے پینے کا شروع ہو گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ روزہ رکھے ہوئے عرصہ ہو گیا ارادہ یہ کیا تھا کہ اس مرتبہ روزوں کی برکت سے اپنی روحانیت کو فروغ دیں گے اور اس طرح اپنی روح کو طمانیت حاصل ہوگی مگریہ سب کچھ نہ ہو سکا اب نہ معلوم آللہ جلّ شانہ ہمیں اگلے سال کے رمضان شریف تک مہلت دے یا نہ دے سوچا ہے کہ یہ مہینے جو اب چل رہے ہیں ان میں ہی مزید کوشش کی جائے بغیر روزوں کے
 اللہ ہمّت دے 

Please visit my English blog at Saugoree

Friday, July 1, 2016

جمعۃ الوداع اور پاکستان


 آج سے ۶۹ برس پہلے بھی ایسا دن تھا
وہ پندرہ اگست  ۱۹۴۷تھا اور جمعہ الوداع تھا رمضان شریف کی ستایسویں رات بھی تھی نوزائیدہ ملک پاکستان کا پہلا روز اور ایسا مبارک دن مجھے کبھی نہیں بھولےگا محض ہائ سکول کا طالب علم تھا مگر سوچ رہا تھا کہ آللہ تعالےا نے ہمیں یہ ملک ایسے روز عطا فرمایا ہے بڑی حکمتیں ہون گی اور ابھی وہ نعرے--پاکستان کا مطلب کیا   لا الہ الا اللہ -  اور  - جاتی ہے تو جائے جان  لے کے رہیں گے پاکستان--  لگاتے ہوئے جوش  و خروش میرا گلا یاد کر رہا تھا سارے نئے ملک میں پاکستان کی سلامتی کی دعائیں مانگی گئ تھین
 یہ سب کچھ اب بھی سوچتا ہوں مگر یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ نہ وہ نعرہ کسی کو یاد ہے پاکستان میں اور نہ ہی وہ جوش و خروش رہ گیا ہے  میں اس وقت اپنے مسلمان ہونے پہ فخر کرتا تھا اور سینہ تان کے کہتا تھا کہ میں پاکستانی ہوں
 آج بھی میں کہتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں مگر سینہ نہیں تانا جاتا بلکہ سر جھکا کے کہتا ہوں
ہائے میرا پاکستان تیرے خود غرض لیڈروں نے تیرے ساتھ کیا سلوک کر ڈالا ہے

Please visit my English blog at Saugoree

Friday, June 17, 2016

درود شریف اور جمعہ


آج جمعہ ہے اور رمضان شریف بھی لیکن ہمیں تاکید کی گئ ہے کہ جمعہ کے روز درود پڑھنا چاہئے ویسے تو جب بھی پڑھین اچھا ہے آج تو اور بھی اچھا ہے
 اقبال علیہ رحمہ سے کسی نے سوال کیا  درود پڑھنے کی علماء نے ایسی تاکید جو کی ہے اس میں کیا حکمت ہے
 آپ نے فرمایا درود شریف کا الفاظ قرآن کے نہیں ہیں مگر جن بزرگوں نے لکھے ہیں ان کے ہم مشکور ہیں
 سوال کرنے والے صاحب کی اس جواب سے تسلّی نہیں ہوئ
 مگر سوچنے کی بات ہے کہ آپ صلّ اللہ علیہ وسلّم نہ ہوتے تو ہمیں کون اللہ کی پہچان کراتا
ہمیں کون سمجھاتا  دین کیا ہے ہمیں نماز جیسی عبودیت کون سکھاتا
 ہمیں لوگوں سے ملنے ملانے کی عادات کوں سکھاتا
 ہمیں  اپنے خاندان اور گھر کے رہنے کے طور طریقے کون سکھاتا ہمیں
 عید بقرعید کی خوشیان منانے کے طریقے کون سکھاتا
 ہمیں اتنا کچھ سکھایا ہے جو کوئ اور انسان یا ماسٹر اتالیق والدین وغیرہ نہیں سکھا سکتے تھے
 خالی ہم یہی دیکھ لیں کہ آپ نے جو ہمیں سکھایا ہے  تو ہم اس کا شکریہ آپ سے کیسے ادا کر سکتے ہیں میرے خیال میں درود شریف ایک ذریعہ ہے ممکن ہے اور بھی مصلحتیں ہوں اور حکمتیں ہوں مگر کیا اتنا ہی کافی نہیں؟ اور یہ سکھانے والی 'لسٹ' کا شروع لکھا ہے اسے مکمل کیجئے اگر کر سکتے ہیں تو

اے کہ صد طور است پیدا از نشانِ پائے تو --  خاک یثرب را تجلّی گاہ عرفاں کردہ ای

Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, June 16, 2016

اقبالیات و دیگر اشعار

علّامہ صاحب مرحوم کی شام کی مجلسوں میں کئ بڑے آدمی اور لٹریری ہئوا کرتے تھے ان میں ایک مولانا عبد المجید سالک بھی تھے اور علامہ کے چاہنے والوں میں تھے کسی نے غلطی سے لکھا تھا کہ ڈاکٹر عبد السلام خورشید ان کے صاحبزادے تھے حالاکہ ان کے والد کا نام محمد حسین تھا گو یہ بات الگ ہے کہ مولانا سالک اور ڈاکٹر سلام دونوں احمدی تھے مگر علامہ صاحب کے ساتھ لگائو میں شیعہ سنّی یا احمدی وغیرہ کا کوئ سوال نہیں ہوتا تھا اگرچہ علامہ نے ایک پیمفلٹ اسلام اور احمدیت کے متعلق بھی لکھا تھا اور مرزا بشیرالدین نے اس متعلق اپنے خطبات میں بھی کچھ کہا تھا

خیر جو کچھ بھی ہو وہ کیا دن تھے علامہ زیادہ تر پنجابی میں گفتگو کرتے تھے اور اردو صرف غیر پنجابی دانوں کی لئے بولتے اور یہی طریقہ انگریزی کے ساتھ بھی چلاتے

 Please visit my English blog at Saugoree
  چند اور اسعار

مصطفےا اندر حرا خلوت گزید  -  مدّتے جز خویشتن کس را ندید
نقش مارا در دل او ریختند   -  ملّتے از خلوتش انگیختند
می توانی منکر یزداں شدن  -  منکر از شان نبی نتواں شدن


عشق کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا - تو نے فرہاد نہ کھودا کبھی ویرانہء دل 

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے - کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
 تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو -  کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں


                                
                        ثروت کی پسند

یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز- نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
  وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود   -  ہوتی ہے بنداء مومن کی اذاں سے پیدا


 یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
 ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

وہ سجدہ روح زمیں جس سے کاںپ جاتی تھی - اسی کو آج ترستے ہیں منبرو محراب
 سنی نہ مصرو فلسطین میں وہ اذاں میں نے -  دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہءمسیماب

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے - شمشیرا سناں اوّل طاءوس رباب آخر
 گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طاءرک بلند بال دانہ و دام سے گزر

 تیرا جوہر ہے نوری پاک ہے تو -     دیدہء افلاک ہے تو Farogh e deedah e aflak hay too
  تیرے صید زبوں افرشتہ و حور -  کہ شاہین شہ لولاک ہے تو

   
  علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا - تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

فرنگ سے بہت آگےہے منزل مومن
 قدم اٹھا یہ مقام انتہائے راہ نہیں
 اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی - ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
 شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا  - پر دم ہے اگر تو  تو نہیں خطرہء افتاد


تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
 گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشّاف

 مزید خودی

تا کجا طواف چراغ محفلے- زآتش خود سوز اگر داری دلے

   زخاک خویش طلب آتشے کہ پیدا نیست
 تجلّیء دیگرے در خور تقاضا نیست

 از سوال آشفتہ اجزائے خودی
 بے تجلّی نخل سینائے خودی

 مختلف اشعار  پہلا غالب کا ہے

 لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوںچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے


 عشق تو ایک جست میں پہنچا مقام قرب تک
عقل الجھ کے رہ گئ بزم تصوّرات میں

  علم ہے ابن الکتاب
 عشق ہے امّ الکتاب
   علم اشیا علّم آدم الاشیاء ستے
ہم عصا و ہم ید بیضا ستے

 وہ اشعار جن کے مصرعے زیادہ مشہور ہیں
  
۱ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر - سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

 اگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالب
 ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئ ہے


تاریخ ہزاروں سالوں میں بس اتنی ہی بدلی محسن
 تب دور تھا پہلے پتّھر کا ابلوگ ہی پتھر بن گئے ہیں

Monday, June 6, 2016

رمضان مبارک


اے اللہ تو ہم سب مسلمانوں کی ساری عبادتیں اس مبارک مہینے میں قبول فرما اور ہمارے روزوں میں اپنی برکتیں نازل فرما کہ وہ تیری قبولیت کے قابل بنیں
 روزوں کی برکت سے ہماری روحوں مین بالیدگی بھر دے اور ہماری روحانیت میں اضافوں کا باعث بنا دے یا ربّ العالمین
 یا اللہ تیرا صد شکر کہ تو نے ہمیں اچھی صحت میں ایک بار پھر اس مبارک مہینے سے ملادیا اب ہمیں توفیق عطا فرما کہ اس ماہ کے روزے اچھی طرح سے ادا کر سکیں پھر گڑ گڑا کر دعائیں کریں کہ انھیں قبول کر لے اے ہمارے پروردگار اور اے ہمارے خدا ہم شکر ادا کرتے ہیں اس ماہ مبارک کے لئے

Please visit my English blog at Saugoree

Thursday, May 12, 2016

سرکاری ٹّٹّی اور قانون


پہلے میں ٹائٹل کی وضاحت کر دوں
  االلہ بخشے میری بھابی نہایت مزاح فہمی طبیعت کی مالک تھین
ان کی ملاقات پڑوس والی کئ عورتوں سے ہوتی تھی جو ممکن ہے زیادہ پڑھی لکھی نہ ہوں اور دیہاتی علاقے سے تعلق رکھتی ہوں تو مجھے ایک بار انھوں نے بتایا کہ فلاں پڑوسن اس فلش سسٹم کو سرکاری ٹّٹی کہ کر پکارتی ہے اس پر مزید بحث نہیں کرتا بلکہ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ 'قانون' سے کیا تعلق ہے
 یوں کہ لیجئے کہ سرکار کی طرف  سے جو پبلک ٹٹیاں بنائ جاتی ہیں ان کو تو سرکاری ہی کہنا پڑیگا ہماری سٹیٹ میں آجکل بڑی گرم گرم خبریں ان سرکاری ٹٹیوں کے متعلق آ رہی ہیں  عام حالات میں ہر جگہ دو علیحدہ علیحدہ کمرے بنائے جاتے ہیں ایک مردوں کے لئے اور  ایک عورتوں کے لئے مخصوص کر دیا جاتا    ہے اوریہ ٹھیک بھی ہے    
 اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ مرد نہیں عورت ہیں یا عورت نہیں مرد ہیں ایک بہت بڑی مثال میرے انگریزی کے بلاگ میں دیکھیئے جو  میں نے 'ٹرانسجنڈرزم' پہ لکھا ہے مثال  جناب بروس جینر صاحب کی ہے جنھوں نے ساٹھ سال مرد کی نہایت کامیاب زندگی گزارنے کے بعد  اعلان کیا ہے کہ وہ مرد نہیں عورت ہیں اور انھیں بروس نہیں کیٹلن یا کیٹ کہ جائے ان کی اس بہادری پہ بڑے زوروں سے مضامیں اور تصاویر چھاپی  گئی ہیں
 تو اب یہ ہے کہ ان جیسے آدمیوں کا کہنا ہے کہ انھیں عورتوں والے کمرے میں فراغت یا بول کی اجازت دی جانی چاہئے ہماری سٹیٹ کے گورنر صاحب نے قانونی اعلان فرمایا ہے کہ وہی ایسے کمرے میں داخل ہو سکتا  یا ہو سکتی ہے جو اس کی 'پیدائشی جنس' ہو چنانچہ اب ہر جگہ بڑی لے دے ہو رہی ہے  کہ یہ غیر 
                                            قانونی امتیازی طریقہ برداشت نہیں کیا جائگا
میں بھلا کون ہوتا ہوں ایسے قانون یا اس کے پیروئوں پہ تنقید کروں بھلے سے اگر مشکل پڑ گئ ہے تو ایک تیسرا کمرہ بنوادیں سب کی خوشی کے لئے - ایک مجھ ایسا غریب کیا کر سکتا ہے مگر ذرا سوچنے کی بات ہے اس کمرے میں جہاں میری بیوی یا بہن یا گئ ہو میں یہ کیسے برداشت کروں کہ اسی کمرے میں فراغت 
- کے لئے بروس جیسا پہلوان بھی چلا جائے توبہ توبہ ہمجنس پسندی تک تو خیر تھی مگر اب معاملہ بہت آگے بڑھ گیا ہے - اللہ اللہ کیسا زمانہ آ گیا ہے وہ ہندی کا ڈائلاگ یاد آ رہا ہے
   " ھے بھگون پھٹ جائے یہ دھرتی اور سما جائوں میں اس میں"

Please visit my English blog at Saugoree