ھمارے گاءوں کے مشرق میں ایک برساتی نالہ ہے نالہ کے اس پار میرے والد مرحوم کا گائوں ہےجسے سہوںترا کہا جاتا ہے میرے گائوں کا نام کوٹلہ ارب علی خاں ہے نالہ تک پہنچنے کے لِئے ایک مختصر جنگل میں سے گزرنا پڑتا ہے اس کو وہاں کی زبان میں 'بیلی" کہتے ہیں نالہ کی چوڑائ تقریبا" سو گز ہوگی گرمیوں کے موسم میں جب بارشیں آتی ھیں اور پہاڑوں پر سے برف پگھلتی ہے تو نالے میں پانی آتا ھے اس کا بہائو خاصا تیز ہوتا ہے اور پانی کا شور الگ ہوتا ہےایسا ہی شور میں نے نیاگرہ میں سنا ہے
نالے کا نام 'بھنڈر' ہے اور اسے 'دواڑا' بھی کہتے ہیں گدلا پانی اور اس کی تیز لہریں بچّوں کے لیئے کھیل کا سامان پیدا کرتی ہیں ان پہ اسی طرح ٹھیلا جاتا ہے جیسے سمندر میں آپ نےجوان لوگوں کو سرفنگ کرتے دیکھا ہے صرف ہمارے پاس تختے نہیں تھے جب زیادہ تیز لہریں ہوں تو صرف بڑے لڑکے ہی جا سکتے ہیں پہر بہی خطرہ رہتا ہے ڈوب جانے کا
جب اس نالے مین پانی آتا ہے تو اس "طوفانی" پانی کو پنجابی میں "ھاڑ" آنا کہتے تھے اور "کانگ" بہی کہا جاتا تھا یہ وہی نالے ہے جس کے متعلق میں پہلے لکھ چکا ہوں جب گجرات سے آتے ہوے راستے میں آتا ہے وہ ہمارے گائوں سے دس بارہ میل دور ہے دواڑا پھر گجرات سے بھی آگے جاتا ہے اور پھر ایک اور نالہ "بھمبر" سے ملجاتا ہے اب تو ان پر پل بن چکے ہیں
اتنا پانی ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارے گھر مِن اوورفلو ہو کے آ جایے ویسے بھی نالہ کوٹلے کی نسبت نشیب میں ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Wednesday, June 30, 2010
Thursday, June 17, 2010
میرے بلاگ کے استاد-استانیاں
میرے انگریزی بلاگ پر دیکھیے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Sunday, May 9, 2010
انگلستان اور زیبرا کراسنگ
ہم نئے نئے انگلستان پہنچے تھے-جی ہاں اپنے لینڈ لیڈی والے گھر سے نکل کرہم نے سوچا لندن کی سیر ہی ہو جاءے تو ٹیوب پکڑی اورکنگز کراس کا ٹکٹ لیکر چل دءے اب ہم کاریں دیکھتے جا رہے تھے یہاں سب کاروں مین باقاعدہ وہ بلنک کرنے والے اشارے لگے تھے یہ یاد رہے کہ لیٹ ففٹیز تک کاروں کے اشارے مختلف ہوا کرتے تھے جیسے سائڈ کھڑکی سے ایک ہاتھ نما ڈنڈا سا نکل آتا تھا اگر دائں طرف والا نکلا تو سمجھو گاڑی دائں طرف مڑنا چاھتی ھے تو یہ بلنکر دیکھ دیکھ کے ہم خوش ہو رہے تھے اب چلتے چلتے سڑک پار کرنے کو کھڑے ہوئے یہاں تو ہر جگہ زیبرا کراسنگ تھی اب جو ٹھرے تو ایک گاڑی ہمارے لیئے رک گئ اندر بیٹھا ہئوا انگریز ہمیں اشارہ کر رھا تھا کہ ہم سڑک پار کریں اب بھلا یہ کرتسی ہم نے کہاں دیکھی تجی پہلے تو ہماری لکھنوی طبیعت کو یہ گوارا نہ ہئوا ہم نے اسے اشارہ کیا کہ نھیں پہلے آپ-بھلا پاکستان میں کون ان باتوں کی پرواہ کرتا ہے اور ہم اسی اندازے کو ذہن میں لیئے ہئوے تھے کہ سڑکوں پہ ہر قسم کے جو نشانات بنے ہوتے ہیں وہ بس خوبصورتی کے لئے ہوتے ھیں- خیر۔ تو اس بچارے نے پھر ہمین اشارہ کیا مگر ہم سمجھے کہ یہ تو انگریز ہے اس نے تو تکلّف کرنا ہی ہے مگر ہم بھی نہائت شائستگی کے مالک ہیں آج اسے بتا کے ہی چھوڑیں گے کون زیادہ شائستہ ہے چنانچہ پھر اسے زرا جھک کے مزید اشارہ کیا کہ چلو اب وہ مجبور تھا یہ زیبرا کراسنگ تھی اور وہ ٹھرا ھئوا تھا اب نہ معلوم کے بار یہ پہلے آپ چلتا رہا ہو گا آخر وہ تنگ آکر چل ہی دیا اور ہم خوش - شائستگی میں ہم نے پہلا میدان مار لیا کیا یاد کرے گا انگریز بھی
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Thursday, April 29, 2010
موںھ بولی بہنیں
پیشاور یونیورسٹی ابھی نئ بنی تھی تمام رھائشی بںگلے خوبصورت بنائے گئے تھے اور کشادہ ہوادار قسم کےیعنی بڑی اچھّی پلیننگ کی گئ تھی یہ سارے یونیورسٹی کے سٹاف کے لیئے تھے چنانچہ پی ٹاءپ بنگلے پروفیسروں کے، آر ٹائپ اسسٹنٹ پروفیسروں کے ایس ٹائپ سینیئر لیکچرار اور جے ٹائپ جونئر لیکچرار کے لیئے بنائے گئے تھےچوںکہ
ہمارا درجہ سینئر لیکچرار کا تھا تو ہمارے لیئے نمبر ۲۰ یعنی ایس ٹونٹی بنگلہ الاٹ کیا گیا تھا
ایس ٹونٹی ھمارے کاموں یا کارستانیوں کی وجہ سے اپنا نام پیدا کر گیا۔ اس وقت ھم چار ڈاکٹر منچلے بن بیاہے وھاں رہتے تھے صرف ایک کی شادی ہوئ اور وہ باقاعدہ پشاور صدر میں رھائش کے لیئے چلے گئے ھمارے پڑوس کا بنگلہ نمبر ۲۱ یعنی ایس ٹونٹی ون تھا جہاں اس وقت تین لڑکیاں اور ان کی امّان جان رہتی تھیں آمّاں جان کو دل کی تکلیف تھی اور ان کی دوائوں وغیرہ کا میں نے خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔ بڑی لڑکی کالج میں سینئر لیکچرار تھی اس سے چھوٹی ایم اے انگلش کی طالبہ اور اس سے چھوٹی ہائ سکول میں تھی ان کے ہاں جب کچھ اچھّی چیز پکتی تو ہم سب کو بلایا جاتا اس طرح ہم سب ان لڑکیوں کے موںھ بولے بھائ اور وہ سب ھماری موںھ بولی بہنیں بن کئیں
ماشا اللہ بڑی طرح دار سمجھدار اور نہائت شائستہ تھین ان کے والد مشرقی پاکستان کی گورنمنٹ میں بڑے عہدے پر فائز تھے ھم سب ان بہنوں کا اسی طرح خیال رکھتے تھے جیسے وہ ہماری اصلی بہنیں ھوں چنانچہ جب بڑی بہن کی شادی ھوئ تو تمام انتظامات ھمارے ہی ہاتھوں میں تھے حتّی ا کہ شادی سے پہلے امّان جان نے ہمیں ہی دولھا میاں کو دیکھنے بھیجا تھا جو ماشا اللہ اس وقت لاء کالج میں وائس پرنسیپل کے عہدے پہ تھے یوں ھم نے ھر طرح کی کوشش رکھی کہ لڑکیاں باپ کی غیر موجودگی نہ محسوس کریں دو سال یا اس سے کچھ اوپر ہم نے اس طرح گزارے تھے اور ان بہنوں کی یاد دل میں رہ گئ ہے
ایک بہن اس وقت امریکہ میں تھی اور اس کے آنے کے بعد ہی شادی مکمّل ہوئ تھی اتنا یاد ہے کہ آنے سے پہلے اس نے امّی کو تار دی تھی کہ اس کے لیئے دال بنا کر تیّار رکّھین ان دنوں دیسی کھانے امریکہ میں بھلا کہاں ملتے ہوںگے ان بہنوں کی دو باتیں انہیں ممیّز کرتی تھیں ایک یہ کہ سب کی سب لاںبے قدوں کی مالک تھیں اور دوسرے یہ کہ انہیں اچھے رنگوں کے کپڑے پہننے کی تمیز تھی اللہ سے دعا ہے جہاں بھی ھیں انہیں خوش اور آباد رکّھے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
ہمارا درجہ سینئر لیکچرار کا تھا تو ہمارے لیئے نمبر ۲۰ یعنی ایس ٹونٹی بنگلہ الاٹ کیا گیا تھا
ایس ٹونٹی ھمارے کاموں یا کارستانیوں کی وجہ سے اپنا نام پیدا کر گیا۔ اس وقت ھم چار ڈاکٹر منچلے بن بیاہے وھاں رہتے تھے صرف ایک کی شادی ہوئ اور وہ باقاعدہ پشاور صدر میں رھائش کے لیئے چلے گئے ھمارے پڑوس کا بنگلہ نمبر ۲۱ یعنی ایس ٹونٹی ون تھا جہاں اس وقت تین لڑکیاں اور ان کی امّان جان رہتی تھیں آمّاں جان کو دل کی تکلیف تھی اور ان کی دوائوں وغیرہ کا میں نے خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔ بڑی لڑکی کالج میں سینئر لیکچرار تھی اس سے چھوٹی ایم اے انگلش کی طالبہ اور اس سے چھوٹی ہائ سکول میں تھی ان کے ہاں جب کچھ اچھّی چیز پکتی تو ہم سب کو بلایا جاتا اس طرح ہم سب ان لڑکیوں کے موںھ بولے بھائ اور وہ سب ھماری موںھ بولی بہنیں بن کئیں
ماشا اللہ بڑی طرح دار سمجھدار اور نہائت شائستہ تھین ان کے والد مشرقی پاکستان کی گورنمنٹ میں بڑے عہدے پر فائز تھے ھم سب ان بہنوں کا اسی طرح خیال رکھتے تھے جیسے وہ ہماری اصلی بہنیں ھوں چنانچہ جب بڑی بہن کی شادی ھوئ تو تمام انتظامات ھمارے ہی ہاتھوں میں تھے حتّی ا کہ شادی سے پہلے امّان جان نے ہمیں ہی دولھا میاں کو دیکھنے بھیجا تھا جو ماشا اللہ اس وقت لاء کالج میں وائس پرنسیپل کے عہدے پہ تھے یوں ھم نے ھر طرح کی کوشش رکھی کہ لڑکیاں باپ کی غیر موجودگی نہ محسوس کریں دو سال یا اس سے کچھ اوپر ہم نے اس طرح گزارے تھے اور ان بہنوں کی یاد دل میں رہ گئ ہے
ایک بہن اس وقت امریکہ میں تھی اور اس کے آنے کے بعد ہی شادی مکمّل ہوئ تھی اتنا یاد ہے کہ آنے سے پہلے اس نے امّی کو تار دی تھی کہ اس کے لیئے دال بنا کر تیّار رکّھین ان دنوں دیسی کھانے امریکہ میں بھلا کہاں ملتے ہوںگے ان بہنوں کی دو باتیں انہیں ممیّز کرتی تھیں ایک یہ کہ سب کی سب لاںبے قدوں کی مالک تھیں اور دوسرے یہ کہ انہیں اچھے رنگوں کے کپڑے پہننے کی تمیز تھی اللہ سے دعا ہے جہاں بھی ھیں انہیں خوش اور آباد رکّھے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Thursday, April 1, 2010
سگرٹ، اشتہار اور آپ کی صحت
سر زمین امریکہ میں حکومت امریکہ کے سرجن جنرل نے جب سگرٹ کے اشتہاروں کو ممنوع قرار دیا تو سگرٹ نوشی پہ خاطر خواہ اثر دیکھا گیا تھا لیکن مشرق وسطی ا اور پاکستان بھارت وغیرہ میں اسی طرح اشتہار بازی چلتی رہی اس کے بعدامریکہ میں وہ خبر بھی دیکھی گئ کہ وہ آدمی جو امریکہ میں سگرٹ کے اشتہار میں دیکھا گیا تھا اس کی موت پھیپھڑوں کے سرطان سے واقع ہوئ خیر جو ہوا سو ھوا مگر پھر مزید سگرٹون کے استعمال میں کمی دکھائ جانے لگی مثال کے طور پر اب جو فلمیں وغیرہ بنائ جاتی ھیں خصوصا" اس ملک میں ان میں ایکٹر اور ایکٹرسیں سگرٹ پیتے نہیں دکھاتے
ان تمام باتوں کا مجموعی اثر کہاں تک ہئوا ہے اس کا کوئ مکمل تجزیہ ابھی تک میری نظر سے نہیں گزرا ہماری اسلامک میڈیکل اسوسیاشن میں ایک صاحب نے قریبا" بیس سال پہلے ایک سٹیٹسٹیکل تجزیہ پیش کیا تھا اس مین یہ بات خصوصا' قابل تذکرہ ہے کہ انھوں نے پاکستان اور مشرق وسطی ا کے تمام کھیلوں مین سگرٹ کے اشتہار بہت جلی حروف میں دیکھے جاتے تھے اور امریکہ میں جو کمپنیاں مقامی اشتہار نھین نکال سکتی تھین وہ اپنا سارا سرمایہ ان ملکوں میں کھیلوں پر اشتہار بازی میں لگا رہی تھیں
اب جو یہ خبر دیکھی کہ پاکستان میں جناب اعجاز جخرانی صاحب نے مشورہ دیا تھا کہ سگرٹوں کی فروخت پر زیادہ ٹیکس لگایا جائے اور اس آمدنی کو صحت عامّہ پہ خرچ کیا جائے تو بہت افسوس ہئوا ممکن ہے اس مشورہ کو واپس لیا جائے مگر اس حقیقت سے اغماض نھیں کیا جا سکتا کہ کھیلوں کے تماش بینوں میں سگرٹ کا استعمال واقعی حد سے زیادہ ہے میرے ناقص خیال میں اس طرف توجّہ دینی چاہئے کہ سگرٹ کے بجائے وہ لوگ اور کس چیز کا استعمال کر سکتے ہیں میرے ثہن میں گنڑیریاں آتی ھیں اور مونگ پھلی وغیرہ بھی۔۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہوگا؟
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
ان تمام باتوں کا مجموعی اثر کہاں تک ہئوا ہے اس کا کوئ مکمل تجزیہ ابھی تک میری نظر سے نہیں گزرا ہماری اسلامک میڈیکل اسوسیاشن میں ایک صاحب نے قریبا" بیس سال پہلے ایک سٹیٹسٹیکل تجزیہ پیش کیا تھا اس مین یہ بات خصوصا' قابل تذکرہ ہے کہ انھوں نے پاکستان اور مشرق وسطی ا کے تمام کھیلوں مین سگرٹ کے اشتہار بہت جلی حروف میں دیکھے جاتے تھے اور امریکہ میں جو کمپنیاں مقامی اشتہار نھین نکال سکتی تھین وہ اپنا سارا سرمایہ ان ملکوں میں کھیلوں پر اشتہار بازی میں لگا رہی تھیں
اب جو یہ خبر دیکھی کہ پاکستان میں جناب اعجاز جخرانی صاحب نے مشورہ دیا تھا کہ سگرٹوں کی فروخت پر زیادہ ٹیکس لگایا جائے اور اس آمدنی کو صحت عامّہ پہ خرچ کیا جائے تو بہت افسوس ہئوا ممکن ہے اس مشورہ کو واپس لیا جائے مگر اس حقیقت سے اغماض نھیں کیا جا سکتا کہ کھیلوں کے تماش بینوں میں سگرٹ کا استعمال واقعی حد سے زیادہ ہے میرے ناقص خیال میں اس طرف توجّہ دینی چاہئے کہ سگرٹ کے بجائے وہ لوگ اور کس چیز کا استعمال کر سکتے ہیں میرے ثہن میں گنڑیریاں آتی ھیں اور مونگ پھلی وغیرہ بھی۔۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہوگا؟
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Tuesday, March 23, 2010
یوم پاکستان
مجھے ایسے دنوں میں اپنا پرانا پاکستان بہت یادآتا ھے جس کے ماتم میں یہ اشعار جناب مشیر کاظمی مرحوم نے تحریر فرمائے
پھول لیکر گیا آیا روتا ہوا-- -بات ایسی ھے کہنے کا یارا نہیں
قبر اقبال سے آ رہی تھی صدا-- یہ چمن مجھکو آدھا گوارا نہیں
چند ہاتھوں میں گلشن کی تصویر تھی-- چند ہاتھوں میں آئنے ٹوٹے ہوے
سب کے دل چور تھے سب ہی مجبور تھے--بیکسی وہ کہ تاب نظارا نہیں
شہر ماتم تھا اقبال کا مقبرہ--- تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی--روح قائد بھی تھی سر جھکائے ہوئے
کہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہو گیا
یہ تصوّر تو ھرگز ھمارا نہیں
سرنگوں قبر پر تھا منار وطن--کہ رہا تھا کہ اے تاجدار وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر--کیسے قائم ہئوا یہ حصار وطن
کچھ اسیران گلشن تھے حاضر وہاں-- کچھ سیاسی مھاشے بھی موجود تھے
چاںد تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے-- چاںد تاروں کے لاشے بھی موجود تھے
میرا ہںسنا تو پہلے ہی اک جرم تھا
میرا رونا بھی ان کو گوارا نہیں
کیا فسانہ کہوں ماضی وحال کا---شیر تھا ایک میں ارض بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی-- ایک شاہیں تھا میں ذہن اقبال کا
ایک بازو اڑتا ہوں میں آجکل
دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں
یوں تو ہونے کو گھر ہے سلامت رہے-- کھینچ دی گھر میں دیوار اغیار نے
ایک تھے جو کبھی آج دو ہوگئے--جیسے کوئ بھی رشتہ ہمارا نہیں
کچھ تمھاری نزاکت کی مجبوریاں-- کچھ ھماری شرافت کی مجبوریاں
تم نے روکے محبّت کے خود راستے--اس طرح ھم میں ہوتی گئی دوریاں
کھول تو دوں میں راز محبت مگر
تیری رسواِئیاں بھی گوارا نہیں
اس چمن کے ہیں بلبل ستائے ہوئے--اس چمن کے بھی بلبل ستائے ہوئے
آج شاخ و شجر بوئے صحن چمن--باغبانوں سے ہیں خوف کھائے ہوئے
وہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ مردوں میں ہیں-
-ایسی موجیں ہیں جن کا کنارا نہیں
وہ جو تصویر مجھ کو دکھائ گئ--میرے خون جگر سے نہائ گئ
قوم کی مائوں بہنوں کی جو آبرو--نقشہ ء ایشیا میں سجائ گئ
موڑ دو آبرو یا وہ تصویر دو
ھم کو حصوں مین بٹنا گوارا نہیں
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
پھول لیکر گیا آیا روتا ہوا-- -بات ایسی ھے کہنے کا یارا نہیں
قبر اقبال سے آ رہی تھی صدا-- یہ چمن مجھکو آدھا گوارا نہیں
چند ہاتھوں میں گلشن کی تصویر تھی-- چند ہاتھوں میں آئنے ٹوٹے ہوے
سب کے دل چور تھے سب ہی مجبور تھے--بیکسی وہ کہ تاب نظارا نہیں
شہر ماتم تھا اقبال کا مقبرہ--- تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی--روح قائد بھی تھی سر جھکائے ہوئے
کہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہو گیا
یہ تصوّر تو ھرگز ھمارا نہیں
سرنگوں قبر پر تھا منار وطن--کہ رہا تھا کہ اے تاجدار وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر--کیسے قائم ہئوا یہ حصار وطن
کچھ اسیران گلشن تھے حاضر وہاں-- کچھ سیاسی مھاشے بھی موجود تھے
چاںد تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے-- چاںد تاروں کے لاشے بھی موجود تھے
میرا ہںسنا تو پہلے ہی اک جرم تھا
میرا رونا بھی ان کو گوارا نہیں
کیا فسانہ کہوں ماضی وحال کا---شیر تھا ایک میں ارض بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی-- ایک شاہیں تھا میں ذہن اقبال کا
ایک بازو اڑتا ہوں میں آجکل
دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں
یوں تو ہونے کو گھر ہے سلامت رہے-- کھینچ دی گھر میں دیوار اغیار نے
ایک تھے جو کبھی آج دو ہوگئے--جیسے کوئ بھی رشتہ ہمارا نہیں
کچھ تمھاری نزاکت کی مجبوریاں-- کچھ ھماری شرافت کی مجبوریاں
تم نے روکے محبّت کے خود راستے--اس طرح ھم میں ہوتی گئی دوریاں
کھول تو دوں میں راز محبت مگر
تیری رسواِئیاں بھی گوارا نہیں
اس چمن کے ہیں بلبل ستائے ہوئے--اس چمن کے بھی بلبل ستائے ہوئے
آج شاخ و شجر بوئے صحن چمن--باغبانوں سے ہیں خوف کھائے ہوئے
وہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ مردوں میں ہیں-
-ایسی موجیں ہیں جن کا کنارا نہیں
وہ جو تصویر مجھ کو دکھائ گئ--میرے خون جگر سے نہائ گئ
قوم کی مائوں بہنوں کی جو آبرو--نقشہ ء ایشیا میں سجائ گئ
موڑ دو آبرو یا وہ تصویر دو
ھم کو حصوں مین بٹنا گوارا نہیں
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Thursday, March 18, 2010
میرا نام اور اس کی مشکلات
اس میں کوئ شک نہیں کہ میرا نام ذراغیر معمولی سا ہے بحت کم لوگ ایسا نام رکھتے ھیں چنانچہ انٹرنیٹ پر مجھے صرف ۶ وھاج ملے ھیں ممکن اور بھی ھون لیکن جب امام سراج وہاج سے ملاقات ہوئ اور نام بتایا گیا تو امام صاحب بہت محظوظ ہوئے وہ ہمارے اسلامک سینٹر آئے تھے اور میرے ذمّے ان کا تعارف کرانا تھا
میری ساری زندگی میں صرف ایک وہاج ملے ہین جو ماشا اللہ حافظ قرآن ہیں اور پچھلے رمضان المبارک میں میرے ساتھ اعتکاف میں تھے ابھی نوجوانی میں ھین
تو جب میں نے شروع شروع میں اپنے نام کے دستخط کرنے سیکھے تو مشکل آ پڑی وہ میرے بینک نے ڈالی۔ میں جب اپنا چیک لکھوں ان کا دستخط ایکسپرٹ اس کو ردّ کر دے حتی ا کہ ایک دن میں نے اس کے سامنے بیٹھ کر تین دستخط کیئے وہ حیران رہ گیا کہنے لگا کمال ہے تینوں ایک دوسرے سے نہیں ملتے تو میں نے اس کے سامنے ایک اور دستخط پیش کیئے ان دنوں ایک صاحب ڈبلیو زیڈ احمد لکھاری کا نام مشہور تھا ان کی وجہ سے میں نے اپنا نام ڈبلیو ڈی احمد لکھ کر دستخط کیئے تو ان ایکسپرٹ صاحب نے مجھے پاس کیا
لیکن انگلینڈ آیا تو ایک مصیبت اور آپڑی۔ میرے سرٹیفکیٹ سارے وہاج الدین کے نام سے تھے اور پاسپورٹ پر وہاج الدین احمد لکھا تھا میڈیکل کونسل نے مجھے ثبوت مہیّا کرنے کو کہا کہ میں وہی وہاج ہوں بڑی مشکل سے ایک ماہ کی بحث کے بعد وہ مانے اور تب میں کہیں جاب لینے کے قابل ہوا
امریکہ میں بہت کم لوگ مجھے وہاج بلاتے ہیں عموما" احمد ہی بلاتے رہے ہیں میری بڑی آپا اللہ بخشے مجھے پیار سے وہاجوننا بلاتی تھیں اس لئے آپ کو نیچے ایسا لکھا ہوا نظر آ رہا ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
میری ساری زندگی میں صرف ایک وہاج ملے ہین جو ماشا اللہ حافظ قرآن ہیں اور پچھلے رمضان المبارک میں میرے ساتھ اعتکاف میں تھے ابھی نوجوانی میں ھین
تو جب میں نے شروع شروع میں اپنے نام کے دستخط کرنے سیکھے تو مشکل آ پڑی وہ میرے بینک نے ڈالی۔ میں جب اپنا چیک لکھوں ان کا دستخط ایکسپرٹ اس کو ردّ کر دے حتی ا کہ ایک دن میں نے اس کے سامنے بیٹھ کر تین دستخط کیئے وہ حیران رہ گیا کہنے لگا کمال ہے تینوں ایک دوسرے سے نہیں ملتے تو میں نے اس کے سامنے ایک اور دستخط پیش کیئے ان دنوں ایک صاحب ڈبلیو زیڈ احمد لکھاری کا نام مشہور تھا ان کی وجہ سے میں نے اپنا نام ڈبلیو ڈی احمد لکھ کر دستخط کیئے تو ان ایکسپرٹ صاحب نے مجھے پاس کیا
لیکن انگلینڈ آیا تو ایک مصیبت اور آپڑی۔ میرے سرٹیفکیٹ سارے وہاج الدین کے نام سے تھے اور پاسپورٹ پر وہاج الدین احمد لکھا تھا میڈیکل کونسل نے مجھے ثبوت مہیّا کرنے کو کہا کہ میں وہی وہاج ہوں بڑی مشکل سے ایک ماہ کی بحث کے بعد وہ مانے اور تب میں کہیں جاب لینے کے قابل ہوا
امریکہ میں بہت کم لوگ مجھے وہاج بلاتے ہیں عموما" احمد ہی بلاتے رہے ہیں میری بڑی آپا اللہ بخشے مجھے پیار سے وہاجوننا بلاتی تھیں اس لئے آپ کو نیچے ایسا لکھا ہوا نظر آ رہا ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
Subscribe to:
Posts (Atom)