Sunday, March 25, 2012

سرورق کی نئی تصویر

 ِہ تقریبا" ساڑھے تین سال کی عمر ہے
 شلوار قمیص چلتی تھی لیکن قمیص کے کالر سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھر کی سنگر مشین پر کپڑے تیار کئے گئے ہیں بڑی آپا اور چھوٹی آپا سلائی کی پشق کر لیتی تھیں اور ہم غریبوں کے لباس تیار ہو جاتے تھے اسی لئے میری بڑی بہنیں کہتی ہیں مجھے نئے کپڑے پہننے کا بہت شوق تھا
 'نئے نئے کاپلے' میری بچپن کی زبان میں ہے مگر مجھے یہ الفاظ یاد نہیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, March 21, 2012

۲۱ مارچ اور عمرہ کا بیان

 موسم بہار کا شروع آج کا دن سمجھا جاتا ہے
واقعی آس پاس کے پودوں درختوں وغیرہ میں کوںپلیں پھوٹتی نظر آرہی ہیں اور اس تبدیلی کا احساس دلا رہی ہیں خنکی میں ہلکی ہلکی گرمی آ رہی ہے۔
خیر میں تو ابھی حال میں ہی مکّہ المکرّمہ  اور مدینہ المنوّرہ کی سیر کرتا آیا ہوں جہاں موسم قدرے گرمی مائل تھا
زمزم کا حال اپنے انگریزی بلاگ میں لکھ چکا ہوں اچھا خاصا رش تھا ہم نے ایک ہفتہ گزارا صحن بھرا رہتاتھا اور طواف کم ہوتا نہیں ملا رکن یمانی کو اشارہ ہی کرتے رہے وہاں ہاتھ لگانے کے لیئے تقریبا" حجر اسود والا جمگھٹا تھا اور مجھے دھکے پسند نہیں نہ میری عمر اجازت دیتی ہے۔ مقام ابراہیم پہ بھی جمگھٹا رہتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ آپ جھانکنا چاہیں تو نہ کر سکیں مسلمان جوش میں حدود پہ قائم نہیں رہ سکتے۔ مقام ابراہیم پہ میں نے ایک عورت کو سجدہ کرتے دیکھا جو بجائے کعبہ کیطرف سجدہ کرنے کے مقام ابراہیم کو سجدہ کر رہی تھی اسی طرح چوںکہ ملتزم کی جگہ ہر وقت بھری رہتی ہے تو کعبہ کی ساری دیواروں پہ لوگ سر رکھے دعائیں کرتے رہتے ہیں حطیم میں ہم نہ جا سکے سعی کے لیئے وہیل چیئر کا سودا کرنا پڑتا ہے اس میں کوئی سٹینڈرد نہیں جیسا حلق یا قصر کے لئے ہے مانگنے والوں کا قصّہ پرانا ہے صرف اپاہج لوگ ہی دیکھے اور وہ بچّے تھے مجھے بتایا گیا کہ وہ بچے کی ٹہنی ایسے طریقے سے دہری کرکے باندھتے ہیں جیسے کٹی ہوئی ہو۔ لیکن اب اتنے زیادہ نہیں جتنے پہلے ہوا کرتے تھے زمزم لیجانے کی اجازت ہے لیکن اپنے گھرون کو یا دوسرے ملک کو نہیں لیجانے دیتے گورنمنٹ نے بند کردیا ہے زمزم دکانوں پر بھی نہیں ہے اب یہ بھی دیکھا کہ جوتے رکھنے کے لئے پلاسٹک کی تھیلیاں ملتی ہیں اپنی تھلیاں بھی لوگ لاتے ہیں مگر وہ ہوائی  یا انگوٹھے والی چپلوں کا رواج پرانا ہی ہے میں اپنی ہوائی چپل لیکر تنعیم مسجد گیا دو نفل پڑھ کے احرام کی عمرے کی نیت کی اور باہر نکلا تو مجھے اپنی چپل نہ ملی ایک اور چپل پہن کر مسجد حرام لے آیا اور وہاں چھوڑ دی یعنی ڈونیٹ کردی
 اس بات کا افسوس ہوا کہ اس وقت صحن میں عورتوں کو نماز کے لئے جگہ نہیں دی جاتی طواف کے لئے وہاں جانے کی اجازت ہے نئی اور ماڈرن عمارات وغیرہ سب نے مل کے خوبصورت جگہ بنا دی ہے مگر کعبہ پر اس بڑے برج-ہلٹن ٹاورز-  کا زیادہ اثر ہے کعبہ چھوٹا لگنے لگا ہے سعی کے لئے چار منزلیں بن گئی ہیں مگر اب صفا پہ چڑھ کر کعبہ نظر نہیں آتا میلین اخضرین پر دوڑنے سے مجھے پھر امّاں جی یاد آئیں اور وہ احساس ہوا کہ اللہ تعالےا نے ایک ماں کی بچے کے لئے بیچینی اضطراب اور تڑپ کو کیوں  عمرہ یا حج کاایک رکن بنا دیا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, February 29, 2012

انتیس فروری

 ایسی تاریخ چونکہ چار برس کے بعد آتی ہے اس لئے کچھ لکھنا چاہیئے وقت زیادہ نہیں مگر اتنا ہے کہ صبح سفر پہ نکلنے سے پہلے کچھ کہتا چلوں ابھی تو بچوں کے پاس جائیں گے لیکن ارادہ عمرہ پہ جانے کا ہے تو مارچ کے وسط مین واپسی ہوگی کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں ٹیکے لگوائو ویزا لگوائو اور پھر ہوٹلوں کا چکّر اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ لگتا ہے سعودی گورنمنٹ غریب آدمیوں کو حج سے محروم کرنے کا پورا انتظام کر رہی ہے اللہ سے دعا کرنی ہے کہ مسلمانوں کو عقل دے اور اپنے خاندان اور دوستوں کے لئے تو کرنی ہی ہیں بہت سی دعائِن بس اپنے لئے تو یہی کافی ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالےا ہماری عبادتیں اور عمرے قبول کر لے اور ہمارا خاتمہ صالحین کے ساتھ کرے آمین

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Friday, February 17, 2012

ستّرہ فروری

 نہ معلوم کیوں یہ تاریخ مجھے یاد آتی ہے۔ بھایجان معراج اور بھابی نسیم کی شادی آج کے روز سیالکوٹ میں ہوئ تھی ساٹھ سال پہلے- --یہ ایسا روز تھا جب مجھے زندگی میں پہلی بار اپنا سوٹ- یعنی کوٹ پتلون والا- ملا جو خاص اس روز کے لئے بنوایا گیا تھا ہماری زندگی میں مشرقی اطوار کم ہو رہے تھے اور مغربی طریقے آتے جا رہے تھے یعنی ہمارے گھرانے میں یہ تبدیلیاں آ رہی تھیں اسی وجہ سے جب بھایجان معراج نے نیا گھر سٹلائٹ ٹاون میں بنوایا اور جب اس میں صوفہ سیٹ رکھا گیا تو وہ بھی مجھے یاد ہے کیوںکہ یہ ہمارے گھرانے کا پہلا صوفہ تھا- اللہ سے دعا ہے کہ وہ بھایجان معراج اور بھابی نسیم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, February 14, 2012

محمد رفی یا رفیع



 نہیں نہیں یہ میرےماسٹر نہیں اب میرے ٹیچروں ماسٹروں کا حال ختم ہو چکا یہ وہی مشہور گانے والے ہیں

 انگریزی کے بلاگ میں وھٹنی ہیوسٹن کی ناگہانی فوتگی پر کچھ لکھا ہے خصوصا' اس بات پر کہ بمشکل ۴۸ سال کی
تھی اور غالبا" اس کی موت شراب اور دیگر منشیات کی وجہ سے ہوئ یا ان کا خاصا دخل ہے اس پہ مجھے جناب رفی صاحب یاد آ گئے
میرے ایک دوست سن بہتّر میں حج کرتے ہوئے پاکستان سے امریکہ آئے تو انھوں نے بتایا کہ رفی صاحب ان کے ساتھ حج پہ تھے اور یہ کہ بلند آواز سے قران کی تلاوت کرتے تھے تو منےا میں انکے خیمہ کہ پاس لوگ کھڑے سنا کرتے ان کو کون ہندوستان پاکستان وغیرہ میں نہیں جانتا ان کی زندگی کا پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ نہ شراب پیتے تھے نہ زیادہ پارٹیوں میں جاتے اور سٹوڈیو سے گھر-گھر سے سٹو ڈیو والا ان کا معمول تھا اللہ انھیں جنّت میں جگہ عطافرمائے 
 مگر استاد نصرت فتح علی خاں کا معاملہ دوسرا ہے وہ ذیابیطس کے مریض ہونے کی وجہ سے پچاس برس کی چھوٹی عمر میں ہم سے جدا ہو گئے ہندوستانی گانے والوں میں کے ایل سہگل تھے جو شراب کی وجہ سے چھوٹی عمر میں چل بسے مگر اللہ نے انھیں کیا آواز عطا کی تھی اور کس عمدگی سے گایا کرتے تھے ہندوستان پاکستان میں بھی اب شراب اور منشیات کا اثر بڑے ایکٹروں اور گویوں میں ہے لیکن شائد اتنا زیدہ نہیں جتنا ہم مغربی ملکوں میں دیکھتے ہیں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, February 8, 2012

ماسٹر لطیف صاحب

 یہ سب سے آخری ماسٹر ہیں جن کے متعلق لکھ رہا ہوں پاکستان بننے والا تھا ہمارا سکولسن چھیالیس میں ہائ ہو گیا تو نویں کلاس  میں بھرتی ہوگیا لیکن ابھی بہت ساے ماسٹر وغیرہ آنے تھے اور ماسٹر لطیف سب سے بعد میں آئے سن سینتالیس شروع ہر رہا تھا اور پاکستان ہندوستان والا بٹوارہ ہونے والا تھا۔ ہم نے سائنس پڑھنی تھی اس لئے بڑی مشکل تھی ۶ ماہ بعد ماسٹر صاحب آئے ابھی انگریزی میں کتاب پڑھنی تھی جس میں بنیادی فزکس اور کیمسٹری تھی میں پہلی دفعہ سائنس شروع کر رہا تھا ماسٹر لطیف ایک اچھے ماسٹر تھے اور تمام مجبوریوں کے باوجود ینھوں نے بڑے دھیان سے ہمیں سائنس پڑھائ وہ اکثر دیوار کے بورڈ پر لکھتے اور پھر اسی دیوار پہ اپنا ایک پائوں لگا کے کھڑے رہتے یعنی گھٹنے کو سامنے رکھتے یہی عادت تھی ان کی رہی ہے ان کی مشکلات کا مختصر یوں لکھوں کہ انھیں ڈیڑھ سال میں دو سال کا کورس ختم کرنا تھا اور جب دسویں میں پہنچے تو پاکستان بنا اور کشمیر کا جھگڑا شروع ہو گیا دسمبر  اور جنوری یعنی ۴۷ اور ۴۸ کے دن ہمارے سکول پر مجاہدین کشمیر کا قبضہ رہا تو جب تک ہمارے میٹرک کے امتحان نزدیک آتے نہ ہمارے پاس کوئ کیمیکلز تھے جو ان مجاھدین نے پھینک دئے اور فلاسک ٹیسٹ ٹیوبیں وغیرہ توڑ پھوڑ کے حقّے بنا لیئے تو ماسٹر لطیف نے امتحان سے پہلے ایک ویک ایند  سوموار ملا کر تین دنوں میں سارے کیمسٹری اور فزکس کے اکسپیریمنٹ کرا دئے جس کے لئے ہمیں گجرات ایک سکول میں جانا پڑا تھا ان کی لیب ادھار لے لی تھی الل ماسٹر لطیف کو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے جنھوں نے مجھے سائنس سے انٹرو ڈیوس کرایا


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, February 7, 2012

ماسٹر عبد العزیز صاحب

ماسٹر ْریشی کے جانے کے بعد اور سکول کے ہائ ہو جانے کے بعد ہمارے جو پہلے ہیڈ ماسٹر آئے وہ گجرات شہر کے رہنے والے ایک کشمیری بی اے بی ٹی تھے اور نہائت رحمدل میٹھی عادتوں کے مالک تھے باوجود اس کے کہ ان کا بھاری اور بڑا جسم اور اچھی پوشاک دیکھ کے بڑا رعب پڑتا تھا شلوار قمیص کوٹ اور کلّھے والی پگڑی پہنتے تھے انگریزی لکھنے  اور پڑھنے کا ذوق مجھے ان کی کلاسوں سے ہی ملا ان کی پڑھائ ہوئ انگریزی نظموں میں سے ایک تو وہ یاد آتی ہے
"Into the valley of Death, rode the six hundred" 
 اور ایک یاد پڑتی ہے جس میں فوج کے تین جوان پل کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں دشمن کی فوج سامنے پل پار کرنے آرہی ہے اور وہ اپنی فوج کو وقت کا وقفہ دینے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ ایسے پیش کرتے ہیں کہ ساری فوج کو روکنے کے لئے اپنے ہتھیار لیکر پل پر ڈٹ جاتے ہیں اور دشمن کے فوجیوں کو مارتے رہتے ہیں حتےا کہ خود وہیں شہید ہو جاتے ہیں اس طرح اپنی فوج کی خدمت سر انجام دیتے ہیں
 ایک بار ماسٹر عزیز کا ایک بیٹا آیا جس نے اپنے گلے میں ایک سانپ لٹکایا ہوا تھا- جی ہاں زندہ۔ اسے ساںپ پالنے کا شوق تھا جو مجھے بڑا عجیب لگا تھا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/