Sunday, September 2, 2012

پرانی تہذیب ابھی زندہ ہے

 میں ایک عزیز کے ہاں گیا بہت عرصہ کے بعد ملاقات ہو رہی تھی بلکہ جن سے میتی جان پہچان تھی اور جن کے ساتھ میں بچپن میں کھیلا تھا وہ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے ان کی بیگم اور بچے جنھوں نے میرا نام ہی سن رکھا تحھا ان سے ملاقات ہوئ۔ بھابی اور بچوں کے لئے میں کچھ لیکر گیا تھا۔
 ملنے والے آ رہے تھے میرا نام سن کر سب کو خیال تھا
 ایک ملنے والے میرے ساتھ بیٹھے تھے یکایک اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھے کہا کھڑے ہو جائیے تو میں کھڑا ہو گیا سوچ رہا تھا یہ بڑا عجیب سوال تھا پھر انھوں نے ایک فیتہ نکالا اور میرا ناپ لینا شروع کر دیا-
 اب یہ ہے کہ پرانے زمانے میں یہ طریقہ تھا کہ جوڑا سینے کے لئیے درزی گھر پر بھی بلوا لیتے تھے آجکل ایسا بھلا کہاں ہوتا ہے لوگ سلے سلائے جوڑے دیتے ہیں میں اس کو پہن کر خوش ہوتا ہوں یہ مجھے نہ صرف اپنے بچپن کے ساتھی کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس پرانے تہذیب و تمدّن کا مزا بھی یاد کراتا ہے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, August 19, 2012

عید مبارک

 دو شفٹون میں پڑھی گئ
 جگہ بڑی نہ مل سکی۔ پہلی شفت میں ساڑھے تین ھزار کے قریب اور دوسری میں پانچ ہزار کے قریب مسلمان تھے
 اب ماشا اللہ بڑے شہروں میں ایسے ہی عید ہوتی ہے پھر ہم عید لنچ کے لئے اکٹھے ہوئے بچوں کا پروگرام اچھا تھا  ہمارے اپنے دونوں نہیں تھے اور نہ ہی نواسے پوتے ان کے بغیر بھلا ہم دونوں بوڑھے میاں بیوی کیا کر سکتے تھے آرام کیا اب کل سے شوّال کے روزے شروع کر دیں گے



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Thursday, August 2, 2012

نقلی دوائی کی فروخت پاکستان میں

 ِہ کوئ نئ بات نہیں کہ پاکستان مین ایک عرصہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور عموما" لوگ اللہ تعالےا کے بھروسے ہی ٹھیک ہوتے ہیں لیکن ان بنانے والوں اور بیچنے والوں کے لئیے یہ سوچ کا مقام ہے آخر وہ بھی بیمار ہوتے ہیں اور ان کے بھی بیوی بچے بیمار ہوتے ہیں تو کیا وہ ایسی دوائیں اتعمال کرین گے؟ جہاں تک پاکستان میں اللہ کے سامنے جوابدہی کا معاملہ ہے اس کا تو ذکر ہی نہیں چھیڑنا چاہتا کیوںکہ کئ حضرات یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اس لئے اللہ تعالےا نے رعایت رکھی ہے ان پاکستانیوں سے کچھ نہیں پوچھا جائےگا یہ تو اللہ کے چہیتے ہین اور بس پاکستانی ہونے کے ناطے ہی سیدھے جنّت میں بھیج دئے جائیں گے
 دوسری ملحقہ خبر یہ پڑھی ہے کہ چیف جسٹس نے صوبائ افسروں کو دو ہفتے کا نوٹس دیا ہے کہ آسان اور سادہ فہم قانون بنا کر پیش کریں غیر قانونی  اعضاء کی پیوند کاری کے بارے میں۔ یہ نہایت خوش آئند بات لگتی ہے کیا اس پر خاطر خواہ عمل ہوگا؟ یہ دیکھنا باقی ہے۔ غیر قانونی اعضاء کی پیوندکاری ایک نہایت اہم مسئلہ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس کا یہ اقدام اس شخص کی انسان دوستی، ذہانت اور خدا خوفی کا مظہر ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com





Monday, May 28, 2012

SAUGOR--ساگر



  میں نے تصویر بڑی کرائی ہے مگر انگریزی کا لکھا ہوا ابھی بھی ٹھیک نظر نہیں آتا اوپر ہیندی میں  اور اس کے نیچے انگریزی میں لکھا ہے
ایس اے یو گی او آر - ساگر

 آج--  مئ ۲۸  کو-- ایسا ہوا کہ میں تصویر کو اتنا بڑا کر سکا ہوں کہ ساگر کے سپیلنگ نظر آ رہے ہیں یاد رہے کہ یہ تصویر  سن چھیاسی میں لی تھی
1986 

Friday, May 4, 2012

گرمیوں میں چائے


 اس میں کوئ شک نہیں کہ تصویر چھوٹی ہے مجھے یہ آرٹ اچھی طرح نہین آتا م
مگر جناب گرمیوں کے موسم میں آفٹر نون ٹی کا مزا لیتے ہوئے یہ تصویر لی گئی ہے میں غالبا" ایف ایس سی میں تھا چھٹیوں میں کوٹلے آیا ہوا تھا اور ذاہد میاں بھی آئے تھے جنھیں اس چائے کا شوق تھا
 اسمارٹ تو لگ رہا ہوں
 مقولہ ہے کہ
 گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Saturday, April 14, 2012

گائوں کے اسکول میں

  یہ تو درست ہے کہ میں بہت پرانی بات کر رہا ہوں مگر یوںہی خیال آیا۔
امریکہ میں رہتے ہوئے سکولوں کی کھیلیں دیکھتا ہوں ہر قسم کے فرسٹ کلاس گرائونڈ فٹ بال باسکٹ بال اور نہ جانے کیسے کیسے کھیلوں کے لئے سارے اسباب موجود اور بچّے کبھی یہ خیال بھی نہیں کرتے کہ یہ سب کہاں سے آتا ہے۔ میں اپنے گائوں کے سکول کا سنا رہا ہوں جو مڈل تھا اور ہائ ہو گیا اس وقت پی ٹی ماسٹر بھی آگئے اور پڑھنے لکھنے کے علاوہ کھیلوں کی طرف توجہ کی گئ مجھے یاد ہے کہ بڑا عجیب لگ رہا تھا کھیلوں کی طرف اتنا دھیان کیوں دیا جا رہا ہے خیر ایک والی بال اور نیٹ منگوایا گیا اور دو بڑے باںس کے کھمبے لگا دئے گئے اور باقاعدہ والی بال کھیل شروع ہو گیا میری یعنی سینئر کلاس میں ٹین ایجر اور بڑے جسم والے لڑکے تھے اور شوق سے کھیلنا چاہتے تھے مگر جس طریقہ سے اس نہائت مختصر سامان کا خیر مقدم کیا گیا تھا وہ نہیں بھولتا۔ غریب کے لئے کتنی بڑی نعمت تھی اور سارے بچّے خوش تھے اور احتیاط سے اس سامان کی حفاظت کرتے اب ککرالی ہائ سکول کی اپنی والی بال ٹیم تھی اور دوسرے سکولوں سے مقابلہ کرنا تھا پریکٹس باقاعدہ ہونے لگی



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, March 25, 2012

سرورق کی نئی تصویر

 ِہ تقریبا" ساڑھے تین سال کی عمر ہے
 شلوار قمیص چلتی تھی لیکن قمیص کے کالر سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھر کی سنگر مشین پر کپڑے تیار کئے گئے ہیں بڑی آپا اور چھوٹی آپا سلائی کی پشق کر لیتی تھیں اور ہم غریبوں کے لباس تیار ہو جاتے تھے اسی لئے میری بڑی بہنیں کہتی ہیں مجھے نئے کپڑے پہننے کا بہت شوق تھا
 'نئے نئے کاپلے' میری بچپن کی زبان میں ہے مگر مجھے یہ الفاظ یاد نہیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/