Monday, June 10, 2013

شادی اور محبت یا محبت اور شادی

 ہم ایسے دور سے گزر رہے ہین
جہاں مغرب اور مشرق کی روایات تہذیب وغیرہ گڈ  مڈ ہو چکی ہے مغرب میں عموما" شادی سے پہلے محبت ضروری سمجھی جاتی ہے اور مشرق میں اس کا الٹ  ہے مغرب میں شادی کا تصور دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور مشرق میں دو خاندانوں کے درمیان
یہ بہت بڑا فرق ہے اور آج مغربی ممالک میں ایسے بہت سے خاندان بسے ہوئے ہیں جو اپنی مشرقی روایات کو مغرب میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور وہ بھی بزور اور مشقّت میں ڈال کے یعنی اپنے آپ کو بھی اور اپنے بچوں کو بھی جو مغربی روایات میں پلے بڑھے ہیں ایک بچی نے اپنی رام کہانی لکھی ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایک اور ہی شخص سے محبت کرتی ہے مگر ماں باپ  اس پر نہ صرف یہ کہ راضی نہیں ہوتے بلکہ رد کرتے ہوئے اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کی مرضی والی جگہ شادی کرے اور یہ کہ وہ اس پر راضی ہو گئ ہے کہ خاندان  اور ماں باپ کے خلاف نہیں جانا چاہتی چنانچہ اس نے اپنی محبت کو خاندان یا والدین کی عزت پر قربان کر دیا 
 بظاہر بڑی اچھی بات ہے اور 
لائق تحسین ہے مگر میرے دل میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا وہ اس شادی کو بخوبی نبھا سکے گی اور اگر اس کے خاوند کو معلوم ہوا کہ وہ اس کی بیوی کسی اور کو اتنا چاہتی ہے تو وہ کیا خیال کرے گا کیا اس کی یا دونوں کی ازدواجی زیندگی اجیرن نہ ہو جائے گی  کیا اس کے والدین ان باتوں پر کوئ توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کیا انھیں اپنی بیٹی کی خوشی یا پسند کا ہرگز کوئ خیال نہیں ہے 
 ایسے بہت سے سوال پیدا ہوتے ہیں -- میرا خیال ہے اس معاملے میں اس بچی کے والدین غلطی کے مرتکب ہیں اگر انھیں یہی کرنا تھا تو اس بچی کو پی ایچ ڈی کیوں کرائ اور اس کو ایسے ماحول میں کیوں دکھا جہاں بچی کو غیر مرد سے اتنی ملنے کی اجازت ہو کہ محبت کے انمٹ قسم کے جذبات پیدا ہو جائیں
اللہ تبارک و تعالےا سے دعا ہے کہ اس بچی کی زنداگی اچھی گزر جائے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, April 28, 2013

پیٹرا--سنگتراشوں کا شہر

ہم نے اس عجیب و غریب شرہ کا نظارہ کیا اور میں جسے چٹان آرٹ کہتا ہوں اس کے نمونے دیکھے محض اس کی پہچان کے لئے ایک تصویر ہے
 اب جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ نظارہ سامنے تھا
واہ وا کیا مزے کی نیند ہے
 یاد رہے آپ نے اپنے لئے اس خاص جگہ کو منتخب کیا ہے اور نوٹس لگوا دیا ہے کہ جلالت مآب کے آرام میں کوئ اسفل انسان مخل نہ ہو سکے
 یاد رہے کہ آپ اپنے آپ کو 'سگ اصحاب کہف' کی نسل  سے ہونے کا دعوےا رکھتے ہیں کوئ عام جانور نہیں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Monday, April 22, 2013

مسجد اقصےا اور قبۃ صخرا


اللہ تبارک وتعالےا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں تینوں حرم کی زیارت کرائ ھرمیںن شریفین تو پہلے جا چکے تھے اللہ نے اس بار مسجد اقصےا کی زیارت کا بندوبست بھی کر دیا
 مسجید نبوی اور مسجدالحرام دونوں سے اس مسجد اقصےا کا معملہ بہت مختلف ہے سعودی بادشاہ اور ان کی دولت و ثروت کے سہارے ان مسجدوں کی خوبصورتی نمائیش دیکھ بھال وغیرہ آنکھون کو چکا چوند پیدا کرتے ہیں مسجد اقصےا کے لئے ایسی کوئ دولت یا بادشاہوں کی پشت پناہی نہیں ہے یوں کہنے کو تو درست کہ شاہ اردنّ اس مسجد کی دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن جب میں نے وہاں مسجد کے صندوق میں  پیسے ڈالے تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا بعد میں یہ احساس ہوا کہ مسجد کی یہ حالت کیوں ہے جمعہ کے روز تو مسجد بھری تھی مگر روزانہ کی جماعتیوں میں اتنے نمازی نہیں ہوتے اور احساس ہوتا ہے کہ اس حرم میں کم مسلمان رہتے ہیں اور ممکن ہے مزید کم ہوتے جا رہے ہوں۳۰ چالیس فیصد نمازی تو باہر سے آنے والے
ہوتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سترہ مہینے اس کو قبلہ بنا کے نمازیں پڑھتے رہے اس حرم کے لئے بڑی بات ہے
 قبہ صخرا کی خوبصورتی اور چمک دمک مسجد اقصےا کی شان کو کم کردیتی ہے اور کئ مسلمان اس زرین گنبد کو ہی مسجد اقصےا سمجھ بیٹھتے ہیں مجھے یہ خیال آ رہا تھا کہ اس قسم کی یہ پہلی عمارت تھی جو مسلمانوں نے بناڈالی کہاں سے اس کا نقشہ وغیرہ تیار کرایا گیا ہوگا مزید معلومات اس سلسلے مین نہیں ملیں خلیفہ عبد المالک بن سلیمان کو یہ خیال کیسے آیا
یہ بھی معلوم نہیں مگر اس کی نقاشی اور خونصورتی کی شان ہے کہ یہ عمارت شہر یروشلم کی نمائیندہ عمارت لگتی ہے

مسجد اقصےا کے دروازے سے کھڑے ہو کر یہ تصویر لی گئ عموما" مسجد کو لوگ نہیں پہچانتے مگر ہم 'حرم'  میں تھے
"
پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے  مسجد اقصےا تک لے گیا جس کے گرد ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تا کہ ہم اپنے بندے کو اپنی چند نشانیاں دکھائیں بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہےحضرت ابراہیم کی اولاد میں   جتنے پیغمبر پیدا ہوئے ان میں سے بنو اسرائیل کا قبلہ بیت المقدس تھا اور اسمعیل کا
کعبہ تھا آںحضرت صل اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالےا نے جس طرح تمام پیغمبروں کے متفرق اوصاف و خصوصیات کا جامع اور برزخ بنایا تھا اسی طرح حضرت اسحاق و اسماعیل دونوں کی برکتوں اور سعادتوں کا گنجینہ بھی ذات محمدی ص  ہی کو قرار دیا یعنی حضرت ابراہیم کی وراثت جو دو بیٹوں میں صدیوں سے چلی آ رہی تھی وہ آںحضرت صلعم کی بعثت سے پھر ایک جگہ جمع ہو گئ اور گویا وہ 'حقیقت ابراہیمیہ' جو خاندانوں اور نسلوں میں منقسم ہو گئ تھی ذات محمدی میں پھر یکجا ہو گئ اور آپ کو دونوں قبلوں کی تولیت تفویض ہوئ اور بنی  القبلتین  کا منصب عطا ہوا یہی نکتہ تھا جس کے سبب آںحضرت صلعم کو کعبہ اور بیت المقدس دونوں طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا اور اسی لئے معراج میں آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصےا -بیت المقدس- تک لیجایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔"
سیرہ النبی جلد سوم


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/


Saturday, March 23, 2013

yaum-e-Pakistanیوم پاکستان

 آج پھر وہی دن آگیا
 اور کوئ مبارک نہیں لکھ رہا
کوئ خوش نہیں
جلسے ہو رہے ہیں مگر کوئ نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا
 اللہ تعا لےا کو کیا منظور ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا
 اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور پاکستان کو کوئ مسلمان قسم کا رہبر نصیب کرے
 یہ کیسا یوم پاکستان ہے


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, December 30, 2012

دعائوں کا اثر


ہم بہت زاری اور صدق دل سے دعائیں کرتے ہیں اور لمبی لمبی دعائین مانگتے ہیں لیکن اثر نہیں دیکھا اس کی کئ وجوہات ہیں
 ممکن ہے وہ دعا اس وقت ہمارے حق میں درست نہ ہو
 قبول ہو گئ مگر اس  کا وقت دیر سے آیا یا آئےگا
 دعا ہماری نیکیوں کے کھاتے میں جمع ہو گئ
 لیکن زیادہ تر دعا کے قبول نہ ہونے کی وجوہات ایسی ہیں کہ
 ہمارا دل دعا میں نہیں ہے یعنی صدق دل نہیں ہے
 ہمارے اعمال خراب ہیں اور گناہوں کی گٹھڑی بھاری ہے
  چنانچہ

 اگرچہ گریہ و زاری بھی شامل ہے دعائوں مین
 اثر پھر بھی نہیں باقی مسلماں کی دعائوں میں
 نہ ہے اخلاص باقی اور نہ وہ اعمال ہیں اپنے
 رضا اللہ کی ملتی نہیں لمبی دعائوں میں

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, December 23, 2012

شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ

 یا صاحب الجمال و یا سیّد البشر
من وجھک المنیر لقد نوّر القمر

لا یمکن الثنآء   کما کان حقّہ
 بعد از خدا بزرگ توئ قصہ مختصر

گوگل صاحب نے کبھی مایوس نہیں کیا اتفاق سے یہ مصرع- یعنی بعد از خدا۔ ۔ ۔ ۔ ملا تو سوچا پوری رباعی ڈھونڈوں- اس رباعی میں پہلے تین مصرعے عربی میں ہیں تو آخری فارسی میں جو کہ زیادہ مشھور ہے مگر مدح رسول صلّ اللہ علیہ وسلّم میں غالبا" اس سے بہتر کلام نہیں دیکھا گیا

Sunday, December 9, 2012

گائوں کی زندگی اور آندھی

پنجاب کے گاءوں زیادہ تر گرم اور خشک آب و ہوا والے ھیں بس مانسون کی بارشیں ہی زمین سیراب کرتی ہیں ہندوستان سے پنجاب آنے کے بعد گرمیوں میں جب پہلی دفعہ ہم نے آندھی دیکھی تو پتہ چلا کہ یہ کیا چیز ہوتی ہےآندھیوں کے طوفان موسم گرما میں ہی آتے ہیں تیز وتند ہوااور گردوغبار  - غبار میں کبھی چھوٹے کنکر بھی ملے ہوتے ہیں جو چہرے پہ لگتے ہیں شاں شاں کی آوازیں دل ہلانے والی ہوتی ہے اور ایک اندھیرا چھا جاتا ہے۔ آپ اگر باہر ہوں تو کپڑے منہ کان ناک سر کے بال سب مٹّی سے بھر جاتے ہیں جب تک آندھی گذر نہیں جاتی کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہاں کام چلتے رہتے ہیں ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بارش نہ بھی ہو ساتھ پھر بھی سورج کی گرمی کچھ کمی ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کبھی رات کو آندھی آئے اور ہم ناہر ہی سوتے رہیں تو صبح اٹھ کر وہ ساری دھول کپڑوں اور بستر سے جھاڑا کرتے تھے آندھی کیسے شروع ہوتی ہوگی ہمیں معلومات نہیں لیکن ایک چھوتا سا حصہ دیکھا کرتے تھے گرمی میں دن کے وقت کبھی ایسا دیکھنے میں آتا تھا کہ جیسے یہاں آپ ٹورنیڈو کی بناوٹ دیکھتے ہیں یا واقف ہیں تو اسی قسم کی درجہ حرارت کی تبدیلی سے ایک جگہ ہوا کا رخ چکّر کی شکل اختیار کرتا ہے اور غبار گھومتا ہوا اوپر چڑھتا ہے بلکل اسی طرح جیسے آپ نے ٹورنیڈو دیکھے ہیں امریکہ کے- تو وہی چکّر اگر بڑھ جائے اور پھیل جائَ تو ایک آندھی کے طوفان کی شکل بن جاتی ہے مجھے یاد ہے کہ اس قسم کے چھوٹے سے گرد کے چکّر کو پنجابی میں ہم - واہ ولونا- کہا کرتے تھے یہ خصوصا" ان لوگوں کے لئے لکھا ہے جو پنجاب میں نہیں رہے اور -طوفان گردوباراں کا سن رکھا ہے مگر اس کے متعلّق زیادہ جانتے نہیں

 Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/