Wednesday, December 11, 2013

شادی کا انویٹیشن کارڈ ملنے پر


عام سی بات ہے دوستوں کے ہاں شادیاں وغیرہ ہوں یا کوئ ایسا موقعہ آتا ہے تو کارڈ آنا کوئ عجیب بات نہیں
 ایسا ہی ایک کارڈ آیا ہے
 جن صاحب کی طرف سے آیا ہے ہمیں ابھی ان کی اپنی شادی کا موقعہ وغیرہ سب یاد ہے
 ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کی اولاد میں سے پہلی کی شادی ہے اور اب ہمیں ایسے کارڈ بھی ملنے لگیں گے کہ جن کی شادی ہم نے اٹینڈ کی کی تھی اب ان کے کسی پوتے پوتی یا نواسے نواسی کی کی شادی کا کارڈ آئے گا
 عرض یہ ہے کہ گو یہ کوئ غیر معمولی بات تو نہیں شادی کا انویٹےشن کارڈ آئے مگر نہ جانے کیوں میں کچھ سوچ میں پڑ گیا ہوں مشکل یہ ہے کہ اس معاملے میں زیادۃ سوچنا نہیں چاہتا
اللہ آپ کا بھلا کرے مجھ غریب کو اپنی دعائوں مین شامل رکھیئے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, October 9, 2013

اصول اور استثناء

کہتے ہیں کہ استثنآء ثبوت ہیں اصول کے
 مگر عام طور پہ لوگ اصول کو ہی دیکھتے ہوئے اپنا نظریہ قائم کر لیتے ہیں اصول قر"ان مجید میں بھی ہیں اور اللہ تعالےا  نے استثناء بھی بیان فرمایا  سورہ 
المائدہ میں تیسری آیت ہے

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

یہاں اللہ تعالےا  نے آخر میں اس غیر حلال کو کھانے کی بھی اجازت دے دی جب مجبوری ہو اور جان بچانی ہو
اب یہ ہے کہ مغربی ممالک میں فریڈم اف سپیچ کا اصول ہے اس پر اتنا زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ اور دوسرے انسانوں کے حقوق بھی پائمال ہو جائیں تو اس کی پرواہ نہیں کی جاتی 
علّامہ اقبال رح کی ایک رباعی  ان سے حقیقی معذرت کے ساتھ لکھتا ہوں صرف ایک لفظ بدل رہا ہوں 'افکار'  کو گفتار سے
'آزادئ گفتار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکروتدبّر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادئ گفتار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ
غور کیجئے تو اسی--اصول- نے کتنی تباہی پھیلا رکھِی ہے- اللہ آپ کا بھلا کرے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, September 10, 2013

دستک دے کر اندر جائں

قران مجید مین خصوصا" سورہ نور مین ہمیں بتایا گیا ہے
' اے ایمان والو نہ داخل گھروں میں سوائے اپنے گھروں کے جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور سلام نہ کر لو گھر والوں کو یہ طریقہ بہتر ہے تمھارے لئے توقع ہے کہ تم اس نصیحت کا خیال رکھو گے'
 اس کے علاوہ اور بھی اچھی تہذیب کی باتیں سکھائی ہیں اب آجکل تو یہ ہے کہ آپ ٹیلیفون کر کے اجازت لے سکتے ہیں لیکن ایسی باتیں کیوں سمجھائی  جا رہی ہیں عرب اکّھڑ قوم تھی اور بہت سی جاہلانہ باتیں ان میں عام تھیں ان کا تجربہ مجھے یا ہمیں ساگر سے پنجاب منتقل ہونے پر ہوا
 اب سنئے
 پارٹیشن سے پہلے ہمارا گائوں سیدھا سادا سا تھا عورتیں گاوں کے علاقوں میں پردہ نہیں کرتی تھیں پردہ نام کی چیز سے واقفیت ہی نہیں تھی میری بہنیں اور اماں جان سب پردے والی تھین تو گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا دیا گیا تھا ڈیقڑھی سے اندر والے دروازے پر اس کی وجہین دو تھین
 ایک تو یہ کہ ہمارے گھر میں کنواں تھا یعنی پانی مل سکتا تھا  نمبر دو یہ کہ دستک دینے کا رواج ان علاقوں میں ناپید تھا تو کوئی راہ چلتا مسافر جسے یہ معلوم ہو کہ اس گھر میں کنواں ہے تو وہ ارام سے گھر میں آکے  کنواں دیکھے گا  اس کے خیال میں کسی سے پانی مانگنے کی ضرورت نہیں کونِں کا مطلب یہ تھا کہ ہر شخص اس میں سے پانی نکال کر پی سکتا ہے چاہے وہ کنواں پرئیویٹ ہی ہو
 اب یہ دونوں باتیں خیال میں رکھتے ہوئے آسانی سے آپ سوچ سکتے ہیں ہمیں کیسی مشکل تھی کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ میری بہنیں یا اماں جان برامدے میں بیھٹی ہیں اور ایک اجنبی صاحب پردہ اٹھا کر آرام سے اندر دندناتے چلے آتے ہیں
 جی کھوئی کتّھے وے
 اور میری بہنیں بھاگ رہی ہیں پردے کے لئے ان لوگوں کو کیسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ بھائی دروازے پہ دستک دے لو



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, September 4, 2013

ماسٹعر محمد اسحاق



                                        محمداسحاق مرحوم
  یہ سن چھ کی تصویر ہے جب میں ساگر گیا تھا میرے یہ ہم جماعت اور دوست جن کے ہمراہ میں سن ۳۸ سے لیکر سن ۴۴ تک سکول اور کلاسوں میں بیٹھا ہوں ایک ہی ٹاٹ پر اور ایک ہی بنچ پر میرے عزیز دوست اللہ کو پیارے ہو گئے انا ل اللہ و انا الیہ راجعون
 اردو کے ماسٹر تھے ہماری ملاقات جب ان سے ہوئی سن دو ہزار چھ میں تو رعشہ شروع ہوگیا تھا لیکن پارکنسن مرض نہین تھا آواز میں لہریں تھین اور اس وجہ سے آہستہ بول رہے تھے میرے لئے یہ بہتر تھا کیوں کہ مجھے اچھی طرح سمجھ اتی تھی دو دن ان کے ساتھ گزارے ہم دونوں اللہ تبارک و تعالےا کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اللہ نے ہمیں اتنی دیر بعد بھی ملوایا اسحاق کے بچے اور ان کی بیگم سے ملاقات رہی۔ یہ تصویر ان کے بڑے بیٹے نی لی تھی وہ فوٹوگرافر ہیں
 بنچ پر چار لڑکے بیٹھتے ہیں اسحاق کے علاوہ شفیع اللہ اور حلیم میرے ساتھ بیٹھتے تھے شفی اللہ تو جلد ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے حلیم صاحب ابھی بھوپال میں ہیں ان کے متعلق عرصہ سے اطلاع نہیں ملی
 اسحاق مرحوم کی یہ خبر مجھے قمر علی مرحوم کے بیٹے نی فیسبک پر دی ورنہ ورنہ مجھے کہاں سے معلوم ہونا تھا



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Thursday, August 29, 2013

روزہ اور افطار

بہت پرانی بات ہے
شام ہو چکی تھی سورج غروب ہونے والا تھا جب میں سکول سے گھر جانے کے لئے نکلا جلدی جلدی چل رہا تھا کہ ساتے میں روزہ کیسے کھولوں گا ایک میل کا راستہ تھا آدھے راستے میں ایک کںواں پڑتا ہے ککرالی سے کوٹلہ آتے ہوے ایک بھٹہ ہے جہاں کبھی ایںٹیں بنائی جاتی تھین وہاں تک پہنچے پہنچتے سورج غروب ہوچکا تھا تو تھوڑا سا پانی نکالا اور وہیں کیکر یعنی ببول کے درخت سے- 'لنگ'یعنی پتّے توڑے اور انسے روزہ افطار کیاا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, August 27, 2013

فلسفہ طعام و زندگی

کہتے ہیں کہ کھانا صرف اتنا کھائیں کہ زندگی کے لیے ہو نہ کہ زندگی صرف کھانے کے لیے ہو
 مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا چاہِیے انسان کی کمزوری ہے کہ اچھا کھانا ہو تو ضرورت سے زیادہ کھا جاتا ہے چاہے پیٹ کی تکلیف ہی کیوں نہ ہو جائے
 ایک بادشاہ نے اپنے حکیم سے دریافت کیا
"مجھے کتنا کھانا کھانا چاہیے" حکیم نے جواب دیا
ایک سو سکّوں کے وزن کے برابر
 بادشاہ نے کہا اتنا کھانا مجھےکیا طاقت مہیا کرےگا
 حکیم نے کہا اس قدر کھانا آپ
کی زندگی کے سفر میں آپ کا ساتھ دیگا اس سے زیادہ جو کھایں گے اس کا وزن آپ کو اٹھاناپڑےگا



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Tuesday, August 6, 2013

الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

سارا رمضان
گزر گیا اور ہمارے کام سارے پوتے گئے۔
 بیٹی شفق کے ہاں بیٹی ہوئی جس کا نام زینب رکھا گیا ہے سب کام اچھے تریقہ سے انجام پائے الحمد اللہ اس بچی کے لئے دس سال انتظار کیا گیا ہے اللہ اسے نیک اور صلحہ مسلمہ نبائے
آمین
 ایک ۱۸ سالہ بچے کو دیکھنے گئے اس کا بڑا اکسیڈنٹ ہوا تھا کئی دن بیہوش رہا اب بہتر ہے مگر دایاں بازو ابھی کام نہیں کر رہا فزیو تھیراپی شروع ہو گءی  یہ عراقی خاندان ہمارے گھر کے قریب ہی رہتا ہے اللہ اس لڑکے کو جلد مکمل صحت عطا فرمائے
 ہماری عید اس مرتبہ اپنی بیٹی دو نواسے اور داماد کے ساتھ ہوگی
 بیٹا اور پوتا پوتی اور بہو اب نہ معلوم کب ہمارے ساتھ عید کر سکیں گے
 اللہ سب کو اپنے اپنے گھروں مین خوش رکھے

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/