زندگی میں انسان اپنی عقل اور سمجھ کے استعمال سے بہت کچھ سیکھتا ہے ویسے تو یہ دنیا ساری ایک درسگاہ ہے اور اس میں ہر جگہ تجرباتی طریقہ سے انسان اپنے علم میں اضافہ کرتا رہتا ہے لیکن میں ان درسگاہوں کی بات کروں گا جہاں پیشہ کے طور پر درس دیا جاتا ہے
کہتے ہیں کہ انسان کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جس سے ہمیں پوری طرح اتّفاق ہے لیکن جو کچھ ہم نے ماں کی گود میں سیکھا وہ ذہن میں نہیں رکھا گیا کہ اس وقت ابھی یادداشت کا کام شروعات میں تھا اس لیئے کچھ نہیں لکھا جاسکتا ہمارے زمانے میں ساگر شہر میں اس وقت ایک پرائمری سکول، تھ اہندی اور اردو کی الگ الگ عمارتیں تھین دو عدد ہائ سکول تھے ایک میونسپل اور دوسرا گورنمنٹ ۔ کنڈر گارٹن اور اس قسم کے اسکولوں کا رواج نہیں تھا۔ چار سال کی عمر میں ہی ہمیں اسکول میں داخل کرا دیا گیا تھا - ان دنوں وہاں چھوٹی یا بڑی عمر کی کوئ حدود نہیں تھیں گھر میں ہماری امّاں جان کے علاوہ ایک اور ہستی تھیں جنھوں نے شائد الف بے اور گنتی وغیرہ پڑھائ ہو وہ تھیں ہماری پھوپھی جان یہ تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انھوں نے ہی مجھے نماز سکھائ تھی اور میری بہنوں کو بھی جو مجھ سے بڑی تھیں کیوں کہ جب انہوں نے نماز کی نیت بتائ تو جو کچھ وہ میری بہنوں کو بتا رہی تھیں وہی میں بھی بول رہا تھا
' نیت کرتی ہوں میں اس نماز کی----"
تو میں بھی یہی بولا جس پر سب نے ہنسنا شروع کر دیا
جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں میرا پہلا سکول 'پڑائو اسکول' کے نام سے جانا جاتا تھا پہلی اور چوتھی جماعتیں ہی٘ ' جمّن جناب جی' نے پڑھائ تھیں اور دوسری اور تیسری ماسٹر رزّاق نے
چنانچہ ہمارے پہلے استاد کا نام تھا' جمّن جناب جی' اگر ان کا کوئ اور نام تھا تو ہمیں معلوم نہیں ہوا کیوںکہ ہم نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت سے یہی نام سنتے آئے ہیں میری سب بہنیں اور بڑے بھائ سب کے وہ استاد تھے اور ہمارے گھرانے سے ان کا لگائو اس حد تک تھا کہ انہوں نے اپنے لڑکوں کے نام بھی میرے اور بھائجان معراج کے ناموں پر رکھے تھے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
کہتے ہیں کہ انسان کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جس سے ہمیں پوری طرح اتّفاق ہے لیکن جو کچھ ہم نے ماں کی گود میں سیکھا وہ ذہن میں نہیں رکھا گیا کہ اس وقت ابھی یادداشت کا کام شروعات میں تھا اس لیئے کچھ نہیں لکھا جاسکتا ہمارے زمانے میں ساگر شہر میں اس وقت ایک پرائمری سکول، تھ اہندی اور اردو کی الگ الگ عمارتیں تھین دو عدد ہائ سکول تھے ایک میونسپل اور دوسرا گورنمنٹ ۔ کنڈر گارٹن اور اس قسم کے اسکولوں کا رواج نہیں تھا۔ چار سال کی عمر میں ہی ہمیں اسکول میں داخل کرا دیا گیا تھا - ان دنوں وہاں چھوٹی یا بڑی عمر کی کوئ حدود نہیں تھیں گھر میں ہماری امّاں جان کے علاوہ ایک اور ہستی تھیں جنھوں نے شائد الف بے اور گنتی وغیرہ پڑھائ ہو وہ تھیں ہماری پھوپھی جان یہ تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انھوں نے ہی مجھے نماز سکھائ تھی اور میری بہنوں کو بھی جو مجھ سے بڑی تھیں کیوں کہ جب انہوں نے نماز کی نیت بتائ تو جو کچھ وہ میری بہنوں کو بتا رہی تھیں وہی میں بھی بول رہا تھا
' نیت کرتی ہوں میں اس نماز کی----"
تو میں بھی یہی بولا جس پر سب نے ہنسنا شروع کر دیا
جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں میرا پہلا سکول 'پڑائو اسکول' کے نام سے جانا جاتا تھا پہلی اور چوتھی جماعتیں ہی٘ ' جمّن جناب جی' نے پڑھائ تھیں اور دوسری اور تیسری ماسٹر رزّاق نے
چنانچہ ہمارے پہلے استاد کا نام تھا' جمّن جناب جی' اگر ان کا کوئ اور نام تھا تو ہمیں معلوم نہیں ہوا کیوںکہ ہم نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت سے یہی نام سنتے آئے ہیں میری سب بہنیں اور بڑے بھائ سب کے وہ استاد تھے اور ہمارے گھرانے سے ان کا لگائو اس حد تک تھا کہ انہوں نے اپنے لڑکوں کے نام بھی میرے اور بھائجان معراج کے ناموں پر رکھے تھے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/ and my Hindi blog at http://wahajunana.blogspot.com/
No comments:
Post a Comment